شاہی سفر، باپ کی دعاؤں کا سایہ اور یادوں کا اثاثہ
ابھی صبح صبح میں نے اپنے ایک رفیقِ کار (colleague) سے کہا کہ وہ شہنشاہِ دو جہاں، محسنِ انسانیت، بہت کریم محمد مصطفیٰ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں میرا ہدیۂ سلام پیش کریں۔
پچھلی کالموں میں، میں نے اپنی والدہ صاحبہ کے حج کی داستان قارئین کے ساتھ شیئر کی۔ آج بات کریں گے ‘اسفارِ حج’ میں حضرت بابا یعنی میرے والدِ گرامی، میرے سب سے پسندیدہ، عزیز از جان ہستی سید یوسف جان کے لیے ‘حجِ قران’ کی۔
میں اور بابا محض باپ بیٹے نہیں، بلکہ بہترین دوست تھے۔ وہ اپنی رحلت کے بعد بھی روحانی طور پر میرے ساتھ ہیں اور رہیں گے، اور میرا ایمان ہے کہ ہم قیامت میں بھی ایک ساتھ ہوں گے۔ کیونکہ ہمارے نبی کریم ﷺ کا فرمانِ عالی شان ہے کہ: "جو جس سے محبت کرتا ہے، قیامت میں اسی کے ساتھ ہوگا”۔
میرے لیے یہ باعثِ فخر و اطمینان ہوگا اگر مجھ گناہگار کو اللہ بروزِ قیامت اپنے والدِ گرامی کے قدموں میں اٹھائے۔ ویسے بھی وہ منظر بہت خوفناک اور ہولناک ہوگا، مگر بابا کے ہوتے ہوئے میرا حوصلہ بہر صورت قائم رہے گا۔ قیامت تو قیامت ہی ہوگی، مگر بابا کو اتنے عرصے بعد قیامت میں بھی دیکھ کر شاید قیامت، قیامت نہ لگے۔
میں اور بابا مدینہ منورہ، مکہ مکرمہ، طائف اور جِدہ میں، اللہ کے شعائر میں ساتھ رہے ہیں۔ ہم دونوں نے نبی کریم ﷺ کے مصلّے پر ایک جان اور ایک روح ہو کر سرِ بسجود ہونے کی سعادت حاصل کی ہے۔ میرا یقین کریں کہ مجھے مکہ اور مدینہ میں فرش اور قالینوں کے وہ حصے آج بھی اچھی طرح یاد ہیں جہاں میرے بابا نے نمازیں پڑھی ہیں۔ میرا جتنا بھی اثاثہ ہے، میرے بابا کی محبت ان سب میں سب سے زیادہ قیمتی اور انمول ہے۔
جب والدہ کی جدائی نے مجھے بہت غمزدہ کیا، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے بابا کے سایۂ شفقت میں زندگی کے ایام گزارنے کی نعمت سے نوازا۔ بابا، بی بی کے چند سال بعد ہی فوت ہو گئے، مگر ۲۰۱۵ء سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک میں اور بابا تقریباً ۹ یا ۱۰ مرتبہ ایک ساتھ عمرے پر گئے اور ان کی اجازت سے اللہ نے مجھے ‘حجِ بدل’ کا موقع بھی عطا فرمایا۔ بابا بیمار تھے، وہ خود حج نہیں کر سکتے تھے، اور یہ کیسے ممکن تھا کہ والدہ کے لیے حجِ قران کیا ہو اور والد صاحب رہ جائیں!
بابا کے اس حج میں ایک خاص بات یہ تھی کہ اس میں آسانیاں بہت تھیں، بلکہ یوں کہیے کہ آسانیاں لکھی گئی تھیں۔ اور کیوں نہ لکھی جاتیں! حج ایسے حضرت کا تھا جو خود اللہ کے محبوب انسانوں میں سے ہوں۔ کیا بات تھی میرے بابا کی! مجھے ان کی شخصیت سے بے انتہا، بے حد و حساب پیار ہے۔
اب میرے بھی بالوں میں چاندنی اتر آئی ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ ماتھے کے چند بال بالکل بابا کی طرح سفید ہونے لگے ہیں۔ میری ناک تھوڑی بیٹھی ہوئی ہے مگر وقت کے ساتھ اس میں بھی اب اتار چڑھاؤ آ رہا ہے، عین ممکن ہے کہ سر کے باقی حصے کے بال بھی انھیں کی طرح مخصوص جگہوں پر قلموں کے ساتھ سفید ہو جائیں، اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ بابا کے طرز پر ہی میری باقی زندگی بھی گزر جائے۔
ہاں! ان کا سینہ بہت بڑا تھا، ان کا ظرف وسیع تھا، اور ان کی روح مکہ اور مدینے والی تھی۔ مجھے آج بھی مدینہ منورہ کی ان کی وہ نماز یاد ہے جو انہوں نے میرے سامنے پڑھی تھی۔ شاید وہ نماز کے بیچ میں کچھ آیات بھول پا رہے تھے، مگر جب انہوں نے سلام پھیرا تو مجھ سے پوچھا: "کچھ غلطی تو نہیں ہوئی؟” میں نے کہا: "بابا! میں قیامت کے دن بھی ان الفاظ کا ضامن ہوں کہ اس دن مدینے میں اگر کسی نے سچی فجر پڑھی تھی، تو وہ صرف میرے بابا تھے”۔
میں جب بھی بابا کے ساتھ عمرے پر جاتا تھا، تو بابا گھنٹہ گھنٹہ، آدھا آدھا گھنٹہ سجدے میں پڑے رہتے تھے۔ میں آرام سے ان کے پاس بیٹھ جاتا اور دل میں سوچتا کہ میری عبادت تو ویسے ہی ہو رہی ہے، کیونکہ میں اپنے ‘کعبہ’ کے پاس بیٹھا ہوں، اور میں سکون سے بیٹھ جاتا۔ مجھے اپنے بابا کے عمرے کی ایک ایک بات، ایک ایک ادائے بندگی یاد ہے۔
آج جب میں ان جگہوں سے اکیلا گزرتا ہوں، تو بے اختیار آنسو اپنا راستہ چہرے سے ہوتا ہوا گریبان تک بنا لیتے ہیں۔ میں ان آنسوؤں کی بہت قدر کرتا ہوں جو بابا کی یاد میں بن کر آنکھوں سے اپنا راستہ بناتی ہیں اور میرے گناہگار چہرے پر اترتی ہیں۔ تب مجھے یقین ہوتا ہے کہ یہ آنکھیں کبھی جہنم نہیں دیکھیں گی، یہ آنکھیں کبھی کوئی سخت وقت نہیں دیکھیں گی، ان شاء اللہ!
وہ اللہ کے مخلص بندے ‘یوسف’ تھے، اور میں اپنے ‘یوسف’ کا پرستار ہوں! اب جب وہ خود اس دنیا میں نہیں رہے، تو دل پکار اٹھتا ہے:
> اب حسن کے بازار میں یوسفؑ نہیں رہے
> جس کو بھی خریدوں گا، خریدوں گا میں کیسے!
بابا سے رخصت لی تھی اور کسی دوسرے ملک سے اللہ نے میرے حج کے سفر کا بندوبست کر دیا تھا۔ بات یہاں تک پہنچی کہ جب میں دبئی کے ائیرپورٹ پر اترا، تو جِدہ والے جہاز میں بٹھاتے ہوئے ائیرپورٹ کے عملے نے مجھ سے کہا: "بھائی! ۷ ذوالحج ہو چکی ہے، مکہ جانے یا نہ جانے کا فیصلہ وہاں کے منتظمین کریں گے”۔
مجھے بابا کی ایک بات یاد آئی کہ جب وہ پیدا ہوئے تھے، تو میرے دادا حضور نے۔۔۔ اللہ ان کو غریقِ رحمت کرے۔۔۔ ان کے ہاتھوں میں چاندی یا سونے کے سکّے رکھے تھے، اور ساری زندگی دنیا بابا کے پیچھے ایسے دوڑی جیسے کوئی معشوق اپنی لیلیٰ کے پیچھے بھاگتا ہے۔ ائیرپورٹ پر منتظمین کی بات سنی تو میں نے دل میں سوچا کہ یہ بابا کا حج ہے، یہ نہ بولو کہ کیا ہوگا، بلکہ یہ بولو کہ: "رحیم شاہ! اب آپ ایک بادشاہ اور شاہ بن کر حج کے لیے جائیے”۔
اور پھر ایسا ہی ہوا۔ میں ائیرپورٹ پر اترا، شاہی انداز میں باہر آیا، کسی نے کوئی سوال نہ کیا، میں نے اوپر بھی نہ دیکھا اور ایک زبردست سیڈان (sedan) ٹیکسی گاڑی میں بیٹھا اور مکہ پہنچ گیا۔ ہوٹل کا بندوبست پہلے سے تھا، احرام میں پہلے ہی سے تھا اور مینیٰ پہنچا ہی تھا کہ ایک مصری بھائی ملا۔ اس نے پوچھا: "کون ہو؟ کیا تمہارے پاس خیمہ ہے؟” میں نے کہا: "نہیں”۔ کہنے لگا: "تم میرے مہمان ہو”۔ وہ مجھے ایک بہترین خیمے میں لے گیا اور کھانا بھی کھلایا۔ میں نے وہ دن اور رات ان مصری بھائیوں کے ساتھ گزارے۔ اگلے دن ایک فری بس میں کوئی ہمیں عرفات لے گیا، پھر مزدلفہ، اور پھر تمام فرائض اتنی آسانی کے ساتھ ادا ہوئے جیسے کوئی صبح کا ناشتہ کرتا ہو۔
بابا کی دعائیں مجھے ہواؤں میں اڑا رہی تھیں۔ نہ کوئی ڈانٹ ڈپٹ، نہ کسی نے روکا، اور میں ایک شاہِ وقت کی طرح حج کا یہ خواب مکمل کر گیا۔ زندگی کے اسفار میں یہ سفر ایسے ہوا جیسے کوئی بہترین درسگاہ سے فارغ التحصیل ہوتا ہے۔
بابا کہتے تھے: "بچے! اگر میں نہ رہا تو مکھی کی طرح ہاتھ ملتے رہ جاؤ گے”۔ پتہ نہیں، میرا یہ دکھ بابا کے بعد کبھی مجھے سکون سے جینے بھی دے گا یا نہیں۔ مگر ہاں، میں خوش ہوں کہ جب سے بابا رحلت فرما گئے ہیں، کوئی ایسا سال نہیں گزرا کہ ان کا عمرہ ادا نہ ہوا ہو۔ کووڈ (Covid) کے دنوں میں بھی، جب مکہ بالکل خالی تھا، ایک اور دوست کے ذریعے ان کا حجِ بدل کروایا۔ ان کے لیے عمروں کا یہ سلسلہ کبھی نہیں رکا، اللہ تا قیامت اس سلسلے کو جاری و ساری رکھے۔ (آمین)
دنیا میں شاید ہی کوئی ایسی نعمت ہو جو بابا نے ہمیں لبریز کر کے نہ دی ہو۔ بہترین سے بہترین گاڑیاں فراہم کیں اور زندگی بھر پڑھائی پر توجہ دینے کی نصیحت کی۔ حوصلہ نہ ہارنے کا ہنر مجھے بابا ہی نے سکھایا تھا، کیونکہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں خود کو سنبھال کر رکھنے کا فن صرف انھی کے پاس تھا۔ حسنِ یوسفؑ، بے مثال کردار، آنکھوں میں جلال اور چہرے پر ایمان کی چمک۔۔۔ یہ تھے میرے بابا یوسف!
جب حج گزر گیا اور میں واپس آیا تو ان کو مبارکباد دی، جس کے بعد اللہ نے مجھے ان کے ساتھ دوبارہ عمرہ کرنے کی سعادت بھی بخشی۔ ابھی چند دن پہلے جب میں دوبارہ عمرے پر گیا، تو میں اس ۶۵۳ نمبر کے بینچ کو ڈھونڈ رہا تھا جس پر میں اور بابا بیٹھ کر زم زم پیا کرتے تھے، مگر وہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ میں مسجدِ نبوی ﷺ میں ہر طرف چکر کاٹتا رہا، یہاں تک کہ وہ بینچ اپنی جگہ پر مل گیا؛ میں شاید خود ہی بھول رہا تھا۔ جب وہ جگہ ملی، تو جہاں زمین پر، قالین کے اوپر کبھی بابا کے پیر ہوا کرتے تھے، میں نے وہیں اپنا سر رکھ دیا اور ایک پُرشکون انداز میں لیٹ گیا۔
دربارِ نبی ﷺ پر سلام پیش کرنے کے بعد، وہاں ایک مخصوص جگہ پر ہم دونوں کی ایک یادگار تصویر بھی ہے۔ جب سے بابا فوت ہوئے ہیں، میں جب بھی مدینہ پاک میں دربارِ رسالت ﷺ میں حاضری دیتا ہوں، تو اسی فرش پر موجود ماربل کے ٹکڑے کو ہاتھ لگا کر چومتا ہوں جہاں کبھی ہم ساتھ کھڑے تھے۔ یہ ایک بہت ہی زبردست اور انوکھا احساس ہوتا ہے۔
بابا کا حج محض ایک فرض نہیں، ایک ذمہ داری تھی؛ اللہ کے ساتھ ان کا یہ حج ایک عظیم مشن تھا۔
اے اللہ! تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ الٰہی! میں نے دنیا میں بابا سے بے پناہ محبت کی ہے، تو بھی ان سے محبت فرما۔ ان کے لیے جنت میں اپنے پاس ایک ایسا گھر بنانا جس کا ویو (view) ایسا ہو جہاں سے صبح و شام تیرا دیدار ممکن ہو۔ یا اللہ! بابا مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے، تو انھیں اپنے پاس سب سے زیادہ عزیز رکھنا۔ ان کے لیے جنت الفردوس میں ایسی جگہ بنانا جو تیری شانِ کریمی کے مطابق ہو!
اللّٰہم آمین۔ یا اللہ! میری اس دعا کو شرفِ قبولیت بخشنا۔
آپ کا عاجز بندہ
رحیم بن یوسف جان