گوگل سب جانتا ہے، مگر پڑوسی نہیں

یہ ایک عجیب دور ہے۔ اگر آپ رات دو بجے اچانک یہ جاننا چاہیں کہ پینگوئن پانی میں کتنی دیر سانس روک سکتا ہے، تو گوگل چند سیکنڈ میں جواب دے دے گا۔ لیکن اگر آپ اپنے پڑوسی کا پورا نام پوچھ لیں تو شاید گھر والے بھی حیران ہو جائیں۔

ہم معلومات کے دور میں رہ رہے ہیں، مگر تعلقات کے قحط میں۔

پہلے محلوں میں لوگ ایک دوسرے کے گھروں کے دروازے بغیر اطلاع کے کھٹکھٹا لیتے تھے۔ چائے ایک گھر میں بنتی تھی اور آدھا محلہ خوشبو سے شریک ہو جاتا تھا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کئی لوگ برسوں ایک ہی عمارت میں رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کو صرف لفٹ میں دیکھتے ہیں — وہ بھی بغیر مسکرائے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج انسان پوری دنیا کے لوگوں سے جڑا ہوا ہے۔ کسی کی صبح کی کافی، کسی کی نئی گاڑی، کسی کی چھٹیوں کی تصاویر — سب ہماری اسکرین پر موجود ہیں۔ مگر اسی انسان کو یہ معلوم نہیں کہ ساتھ والے گھر میں کون بیمار ہے، کون اکیلا ہے یا کس کو مدد کی ضرورت ہے۔

ہم نے “Followers” تو بڑھا لیے، مگر حال پوچھنے والے کم ہو گئے۔ اب لوگ سالگرہ یاد رکھنے کے لیے دل نہیں بلکہ فیس بک کی نوٹیفکیشن استعمال کرتے ہیں۔ تعزیت بھی “sad emoji” سے ہو جاتی ہے اور خوشی بھی “heart react” سے۔

شاید ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کیے، مگر قربت نہیں دی۔ قربت آج بھی وقت مانگتی ہے، توجہ مانگتی ہے، اور سب سے بڑھ کر انسانیت مانگتی ہے۔

ممکن ہے مستقبل میں انسان مصنوعی ذہانت سے ہر سوال کا جواب حاصل کر لے، مگر کچھ سوال ایسے رہیں گے جن کا جواب صرف ایک مخلص انسان دے سکتا ہے۔
“آپ کیسے ہیں؟”
اور پھر واقعی جواب سننے کے لیے رکے بھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے