چین نے اپنے پندرہویں پانچ سالہ منصوبے (2026-2030) کے دوران زرعی اور دیہی جدید کاری کو تیز کرنے کے لیے ایک جامع منصوبہ جاری کیا ہے۔ یہ منصوبہ نہ صرف غذائی تحفظ کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کرتا ہے بلکہ اس کا مقصد دیہی علاقوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کرنا، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا اور زراعت کو ایک جدید اور مسابقتی صنعت میں تبدیل کرنا بھی ہے۔
چین کی ریاستی کونسل کی جانب سے جاری کردہ اس منصوبے میں واضح کیا گیا ہے کہ 2030 تک ملک کی غذائی تحفظ کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کیا جائے گا، زرعی پیداوار کے معیار اور کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا اور غربت کے خاتمے کی کامیابیوں کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔
منصوبے میں دو اہم لازمی اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ پہلا ہدف یہ ہے کہ 2030 تک چین کی مجموعی اناج پیداواری صلاحیت کو بڑھا کر تقریباً 725 ملین ٹن تک پہنچایا جائے۔ دوسرا ہدف یہ ہے کہ اہم زرعی مصنوعات کے معیار اور حفاظتی معائنوں کی کامیابی کی شرح کم از کم 98 فیصد تک بڑھائی جائے۔
یہ اہداف اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ چین پہلے ہی دنیا کے بڑے زرعی پیداوار والے ممالک میں شامل ہے۔ 2025 میں چین کی اناج پیداوار تقریباً 714.9 ملین ٹن تک پہنچی ، جو مسلسل دوسرے سال 700 ملین ٹن سے زائد رہی۔ یہ کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ موسمیاتی چیلنجوں اور عالمی غیر یقینی صورتحال کے باوجود چین اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
نئے منصوبے کا ایک نمایاں پہلو زرعی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ ہے۔ گزشتہ سال زرعی سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی کی شراکت کی شرح نے 64 فیصد سے تجاوز کیا جبکہ فصلوں کی کاشت اور کٹائی کی جامع مشینی شرح 76.7 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ اب حکومت کا ہدف ہے کہ 2030 تک زرعی ترقی میں سائنسی اور تکنیکی ترقی کی شراکت کی شرح کو 67 فیصد تک بڑھایا جائے۔ اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت، جدید بیجوں کی تیاری، نئی توانائی سے چلنے والی زرعی مشینری اور بائیو ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا۔
چین کی وزارت زراعت و دیہی امور کے مطابق مستقبل کی زرعی پالیسی صرف پیداوار بڑھانے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ معیار اور غذائیت کو بھی ترجیح دی جائے گی۔ حکومت ایسی زرعی مصنوعات کی پیداوار میں اضافہ چاہتی ہے جو زیادہ غذائیت بخش اور صحت مند ہوں تاکہ عوام کی بدلتی ہوئی ضروریات پوری کی جا سکیں۔
منصوبے میں دیہی ترقی کو بھی مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ حکومت دیہی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے، عوامی خدمات، گندے پانی کی صفائی اور رہائشی ماحول کو بہتر بنانے پر توجہ دے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان ترقیاتی فرق کم کرنے کی کوشش بھی کی جائے گی تاکہ دونوں علاقوں کے عوام یکساں ترقی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
اس منصوبے میں اعلیٰ معیار کی زرعی زمینوں کی تعمیر، کولڈ چین لاجسٹکس کے نظام کی توسیع، خوراک کے ذخیرے اور تحفظ کی صلاحیت میں اضافہ، زرعی مصنوعات کی پروسیسنگ انڈسٹری کی اپ گریڈیشن اور زراعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال جیسے بڑے منصوبے بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف پیداوار میں اضافہ کریں گے بلکہ فصلوں کے ضیاع کو کم کرنے اور زرعی مصنوعات کی قدر میں اضافے میں بھی مدد دیں گے۔
چین آنے والے برسوں میں کئی نئی صنعتوں کو فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے، جن میں ذہین افزائش نسل، لو ایلٹیٹیوڈ ایگریکلچرل اکانومی ، زرعی بائیو مینوفیکچرنگ اور نئی خوراکوں کی تیاری شامل ہیں۔ ان شعبوں کو مستقبل کی زرعی ترقی کے اہم محرکات تصور کیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو چین کا یہ نیا منصوبہ صرف زرعی پیداوار بڑھانے کا پروگرام نہیں بلکہ دیہی چین کی مکمل تبدیلی کا ایک روڈ میپ ہے۔ اگر منصوبے کے اہداف کامیابی سے حاصل ہو جاتے ہیں تو 2030 تک چین نہ صرف غذائی تحفظ کے میدان میں مزید مضبوط ہوگا بلکہ اس کی زراعت زیادہ جدید، ماحول دوست اور ٹیکنالوجی سے لیس صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہوگی، جبکہ دیہی علاقوں میں رہنے والے کروڑوں افراد کے معیارِ زندگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی ۔