کسی بھی قوم کا ادب اس کی اجتماعی یادداشت ہوتا ہے۔ قومیں اپنی تاریخ، تہذیب، روایات، خواب اور شکست و ریخت سب سے زیادہ اپنے ادب میں محفوظ کرتی ہیں۔ اسی لیے دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اپنے ادبی اداروں کو محض عمارتوں یا سرکاری دفاتر کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کی فکری فیکٹریوں کے طور پر دیکھتی ہیں۔ پاکستان میں یہ ذمہ داری اکادمیِ ادبیاتِ پاکستان کے کندھوں پر بھی عائد ہوتی ہے، جو کئی دہائیوں سے ملک کی مختلف زبانوں اور ادبی روایات کی نگہبانی کر رہی ہے۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اکادمیِ ادبیات نے متعدد اہم کام انجام دیے ہیں۔ ادبی کتابوں کی اشاعت، اہلِ قلم کی پذیرائی، مشاعروں اور سیمیناروں کا انعقاد، ادبی ایوارڈز اور مختلف زبانوں کے درمیان رابطے کی کوششیں اپنی جگہ قابلِ قدر ہیں۔ اس ادارے نے ادب کا چراغ بجھنے نہیں دیا اور اس خدمت کا اعتراف کیا جانا چاہیے۔
لیکن احترام کے ساتھ ایک سوال بھی کیا جانا چاہیے۔
آخر یہ چراغ آئندہ نسلوں تک کون پہنچائے گا؟
جب میں اکادمیِ ادبیات کی سرگرمیوں پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ادب کا ماضی تو نظر آتا ہے، مگر ادب کا مستقبل کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ تقریبات ہیں، نشستیں ہیں، کانفرنسیں ہیں، تصاویر ہیں، تعریفی کلمات ہیں، لیکن ان سب میں سکول کے بچے کہاں ہیں؟ کالج کی طالبات کہاں ہیں؟ یونیورسٹیوں کے نوجوان کہاں ہیں؟ وہ نسل کہاں ہے جس نے کل پاکستان کا ادب لکھنا، پڑھنا اور آگے بڑھانا ہے؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج کا نوجوان کتاب سے دور اور موبائل سے قریب ہو چکا ہے۔ ناول اس کی زندگی سے تقریباً غائب ہو چکے ہیں۔ مطالعے کی عادت کمزور پڑ رہی ہے۔ لائبریریاں ویران ہو رہی ہیں۔ زبان کمزور ہو رہی ہے۔ اظہار سطحی ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے وقت میں سب سے زیادہ متحرک کردار اکادمیِ ادبیات کو ادا کرنا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی سے اس کی بیشتر سرگرمیاں انہی چہروں کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں جو پہلے ہی ادب کا حصہ ہیں۔
سوال یہ ہے کہ جو لوگ پہلے ہی ادب کے میدان میں اپنی شناخت رکھتے ہیں، اگر ساری توجہ انہی پر مرکوز رہے گی تو نئے شاعر کہاں سے آئیں گے؟ نئے افسانہ نگار کون پیدا کرے گا؟ ناول نگار کون تیار کرے گا؟ ادب کے نئے قاری کہاں سے پیدا ہوں گے؟
اکادمیِ ادبیات کو اپنے ہالوں سے باہر نکلنا ہوگا۔ اسے سکولوں میں جانا ہوگا۔ کالجوں میں جانا ہوگا۔ یونیورسٹیوں میں جانا ہوگا۔ اسے کتاب کو بچے کے ہاتھ تک پہنچانا ہوگا۔ اسے مطالعے کو ایک قومی تحریک بنانا ہوگا۔ اسے ادبی مقابلے منعقد کرنے ہوں گے۔ نوجوانوں کے لیے ناول خوانی کی مہم چلانی ہوگی۔ تخلیقی تحریر کی ورکشاپس کرانی ہوں گی۔ جدید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نوجوان نسل کی زبان میں ادب کو پیش کرنا ہوگا۔
افسوس یہ ہے کہ آج اگر کسی سکول کے سو بچوں سے پوچھ لیا جائے کہ انہوں نے گزشتہ ایک سال میں کتنی غیر نصابی کتابیں پڑھی ہیں تو جواب مایوس کن ہوگا۔ لیکن کیا کبھی اکادمیِ ادبیات نے اس صورتحال کو اپنی اولین ترجیح بنایا؟ کیا کبھی ملک گیر سطح پر نوجوانوں میں کتاب دوستی پیدا کرنے کی کوئی بھرپور مہم چلائی گئی؟ کیا کبھی ہر ضلع میں نوجوان لکھاریوں کی تلاش اور تربیت کا منصوبہ بنایا گیا؟ اگر بنایا گیا تو اس کے اثرات کہاں ہیں؟
ادب صرف ماضی کی یادگار نہیں ہوتا، وہ مستقبل کی تعمیر بھی کرتا ہے۔ اگر آج ہم نئی نسل کے دلوں میں کتاب کی محبت پیدا نہیں کر سکے تو کل ہمارے پاس محفوظ کرنے کے لیے ادب تو ہوگا، مگر پڑھنے والے نہیں ہوں گے۔ ہمارے پاس شاعر ہوں گے مگر سامع نہیں ہوں گے۔ ہمارے پاس ناول ہوں گے مگر قاری نہیں ہوں گے۔
اکادمیِ ادبیات کے پاس ایک اہم اور قابلِ عمل ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اس کے اندر ایک مستقل ریسرچ اور اسکریننگ ٹیم موجود ہو۔ یہ ٹیم پورے ملک کے چھوٹے بڑے قومی اور علاقائی اخبارات، رسائل اور ادبی جرائد کا جائزہ لے۔ ان لکھنے والوں کو تلاش کرے جو گمنام ہیں، جن کا کوئی بڑا نام یا پلیٹ فارم نہیں، مگر جن کے اندر غیر معمولی تخلیقی صلاحیت موجود ہے۔ ان کو نظرانداز کرنے کے بجائے انہیں سامنے لایا جائے، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے، انہیں ادبی دھارے میں شامل کیا جائے۔
ادب ہمیشہ مشہور ناموں سے نہیں بڑھتا، ادب اکثر ان گمنام چراغوں سے روشن ہوتا ہے جو دور کسی کونے میں جل رہے ہوتے ہیں۔
اسی طرح اکادمیِ ادبیات کو ایک مربوط قومی حکمتِ عملی کے تحت سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں جانا ہوگا۔ وہاں تحریری مقابلے، مطالعے کے مقابلے، کتاب بینی کی مہمات، تخلیقی تحریر کی ورکشاپس اور ادبی میل جول کے پروگرام باقاعدگی سے ہونے چاہئیں۔ نوجوانوں کو صرف تقریری ادب نہیں بلکہ عملی ادب سے جوڑنا ہوگا۔ انہیں لکھنے، پڑھنے اور سوچنے کے مواقع دینا ہوں گے۔
ادب کو صرف بزرگوں کی محفلوں تک محدود رکھنا ادب کے مستقبل کو محدود کرنا ہے۔ ادب کو زندہ رکھنے کے لیے اسے نوجوان نسل کے ہاتھوں میں دینا ہوگا۔
اگر اکادمیِ ادبیات واقعی پاکستان میں ادب کے مستقبل کی فکر مند ہے تو اسے آج ہی نئی نسل کی طرف متوجہ ہونا ہوگا۔ اور اگر ادارے کے ذمہ داران کو اس حوالے سے مزید عملی تجاویز درکار ہوں تو وہ ملک بھر کے ان بے شمار اہلِ قلم، اساتذہ اور ادبی کارکنوں سے مشورہ کر سکتے ہیں جو ادب کو صرف محفوظ ہی نہیں بلکہ زندہ اور متحرک بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔