جدید جنگیں، بدلتی حکمتِ عملیاں اور پاکستان

گزشتہ ہفتے سنگا پور میں منعقد ہونے والے شنگریلا ڈائیلاگ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افواج پاکستان کی فرسٹ کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل نعمان ذکریا نے کہا کہ ”انڈین ’ملٹریزیشن‘، جارحانہ بیانیہ اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بحران سے نمٹنے کے مؤثر طریقہ کار کا فقدان علاقائی استحکام کو مسلسل کمزور کر رہا ہے۔جغرافیائی سیاسی رقابت کے ادوار میں بھی مذاکرات کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہونا چاہیے۔

تاریخ بارہا ثابت کر چکی ہے کہ تزویراتی استحکام صرف دفاعی صلاحیت ہی سے نہیں بلکہ باہمی رابطے اور مواصلت سے بھی برقرار رہتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں تزویراتی استحکام اب بھی جوہری دفاعی توازن، روایتی فوجی عدم مساوات، دیرینہ سیاسی کشیدگی اور پاکستان و انڈیا کے درمیان حل طلب علاقائی و نظریاتی تنازعات سے متاثر ہے۔ مئی 2025 میں انڈین حملوں کے جواب میں پاکستان کے ردِعمل نے ’جنوبی ایشیا میں جنگ کی گنجائش‘ کے تصور کو غلط ثابت کر دیا۔

اپنی گفت گو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا ’تنازعے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے روایتی جنگ کے امکانات کو مزید محدود کر دیا۔‘ غلط فہمیوں کے خاتمے اور اسلحے کی دوڑ کو روکنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات، شفافیت کے نظام اور ریاستوں کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ’ایسی دنیا میں جہاں فیصلے کرنے کے لیے وقت بہت محدود ہوتا جا رہا ہے، براہ راست رابطے کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔‘

قارئین کرام! اب دنیا کو یہ تو معلوم ہو چکا ہے کہ اگر بھارت نے خطے میں جارحیت، آبی جارحانہ اقدامات، یا کسی بھی قسم کی فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کیا تو پاکستان نہ صرف بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے بلکہ مئی 2025 کی مختصر جنگ اور پاکستانی تھنک ٹینکس کے بروقت فیصلے یہ ثابت کر چکے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں محدود جنگ کا تصور ایک خطرناک خوش فہمی ہے۔

بھارت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی، سرحدی خلاف ورزی یا پاکستان کے بنیادی قومی مفادات پر حملے کی صورت میں اس کے نتائج بھارت کے لیے ناقابلِ برداشت اور دور رس ہوں گے، بصورت دیگر کسی بھی بحران کی مکمل ذمہ داری بھارت پر عائد ہوگی۔ کیوں کہ جنرل نعمان زکریا کی گفت گو میں بڑا واضح پیغام تھا کہ مستقبل کی تمام جنگیں گھنٹوں یا منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈز میں فیصلہ کن ہو جائیں گی۔

دنیا تیزی سے ایک ایسے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگوں کی نوعیت، حکمتِ عملی، ہتھیاروں اور عسکری سوچ میں بنیادی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ وہ زمانہ شاید پیچھے رہتا جا رہا ہے جب سرحدوں پر لاکھوں فوجی تعینات ہوتے تھے، ٹینکوں کے ساتھ افواج کے لشکر میدان میں اترتے تھے اور توپوں کی گھن گرج کے ساتھ نمائش پر نمائش کرنا کسی بھی ملک کی طاقت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ عصرِ حاضر میں عالمی سرحدیں بڑی حد تک حتمی شکل اختیار کر چکی ہیں۔ ماضی کی طرح کسی ملک پر براہِ راست زمینی حملے اور بڑے پیمانے کی فوجی یلغار اب نسبتاً مشکل اور کم امکانات کی حامل سمجھی جاتی ہے۔

جو جنگیں پہلے توپوں، ٹینکوں اور زمینی افواج کے ذریعے لڑی جاتی تھیں، اب ان کی جگہ ڈرون و سائبر حملے، اقتصادی دباؤ، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور ہائبرڈ وارفیئر لے رہے ہیں، یوں روایتی دفاع اور حملے کا تصور بھی نئی شکل اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ دنیا بھر میں دفاعی صنعت تیزی سے روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ کے نظاموں کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔

اب دشمن کو براہِ راست انسانی قوت کے بجائے ”سمارٹ کلنگ وارفیئر“ یعنی جدید سینسرز، مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ نگرانی، درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں اور خودکار نظاموں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی نے اس تصور کو مزید حقیقت سے قریب کر دیا ہے، جہاں ایک چھوٹا سا بغیر پائلٹ طیارہ ہزاروں میل دور بیٹھے ایک چھوٹے سے کیمرے اور آپریٹر کی مدد سے سو فیصد درست ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

قارئین کرام! مستقبل قریب میں فضائی افواج کی روایتی حیثیت بھی مکمل بدل جائے گی۔ ماضی قریب میں جنگی جہاز اور ان کے ماہر پائلٹ کسی ملک کی فضائی طاقت کی بنیاد سمجھے جاتے تھے، مگر اب دنیا بغیر پائلٹ طیاروں، کم ریڈار شناخت رکھنے والے نظاموں، زیادہ بلندی پر طویل وقت تک پرواز کرنے والی مشینوں اور خودکار جنگی پلیٹ فارمز کی طرف بڑھ چکی ہے۔ ایسے طیارے نہ صرف کم خطرات کے حامل ہوتے ہیں بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو بھی محدود کر کے اپنے اصل ہدف کا سو فیصد درست نشانہ بناتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کئی ممالک اپنی فضائی قوت کو بتدریج ڈرون بیسڈ ماڈل میں تبدیل کر رہے ہیں۔ جدید جنگی سازوسامان کی تیاری، دیکھ بھال اور آپریشن پر اربوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فی الفور دفاعی وسائل کو ان شعبوں میں منتقل کیا جائے جو مستقبل کی جنگوں کے تقاضوں سے مطابقت رکھتے ہوں، جن میں سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، نگرانی کے جدید نظام، ڈرونز سسٹم اور خودکار جنگی پلیٹ فارمز کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سافٹ ویئرز قابل ذکر اور اہم ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ پرانے دفاعی نظام کو بھی جدت کے ساتھ ہر صورت تیار رکھنا ضروری ہے۔

میکانائزڈ افواج ہمیشہ ایک "Enabling Environment” میں مؤثر انداز سے کام کرتی ہیں، یعنی جدید فضائی مدد، انٹیلی جنس، لاجسٹک سپورٹ اور مناسب جغرافیائی ماحول کی موجودگی ضروری ہے اگر یہ سہولیات میسر نہ ہوں تو جدید ترین ہتھیار بھی کمزور ثابت ہو سکتے ہیں۔

خصوصاً پاکستان اور پاکستان کے دشمن ممالک کے تناظر میں دیکھا جائے تو روایتی انداز میں بھی تیاری ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ڈرون، میزائل ٹیکنالوجی، الیکٹرانک و سائبر وارفیئر میں بھی تیاری ضروری ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری افواج، جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کے باوجود، ٹینکوں و دیگر پرانے دفاعی نظام کو مکمل طور پر ترک نہیں کر رہیں بلکہ انہیں جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کر رہی ہیں۔ اسی تناظر میں جنرل نعمان زکریا نے دشمنانِ پاکستان کو وارننگ جاری کر چکے ہیں کہ مستقبل کی تمام جنگوں کے فیصلے منٹوں میں نہیں بلکہ سیکنڈز میں ہوں گے۔

اب ایک ایسے دور کا آغاز ہو چکا ہے جہاں انسان اور مصنوعی ذہانت کا مشترکہ جنگی نظام ہو گا، جہاں روایتی فوجی قوت، مصنوعی ذہانت، روبوٹک سسٹمز، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر جنگ اور انٹیلی جنس ایک دوسرے کے ساتھ مربوط انداز میں کام کریں گے۔ اگر مستقبل میں بھی کبھی پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی، تو پاکستان ہی اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے جنگ میں برتری حاصل کرے گا، کیونکہ اب پاکستان کے فیصلہ ساز محض ہتھیار خریدنے کے بجائے جنگی سوچ، تحقیق، ٹیکنالوجی اور تیزی سے بدلتے تقاضوں کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں۔
پاکستان ہمیشہ زندہ باد

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے