آزادی: جشن نہیں، ذمہ داری

قومیں چراغِ جشن سے روشن نہیں ہوتیں
کردار کی روشنی سے تاریخ بدلتی ہے

14 اگست 1947ء برصغیر کے مسلمانوں کی تاریخ کا وہ عظیم دن ہے جب بے شمار قربانیوں، مسلسل جدوجہد اور مخلص قیادت کے نتیجے میں پاکستان ایک آزاد اسلامی مملکت کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔

لاکھوں مسلمانوں نے اپنے جان و مال کی قربانیاں دیں، ہزاروں خاندان ہجرت کے کرب سے گزرے اور بے شمار ماؤں نے اپنے لختِ جگر وطن کی آزادی کے لیے قربان کر دیے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی مدبرانہ قیادت نے علامہ محمد اقبالؒ کے خواب کو حقیقت کا روپ دیا۔

آج ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں لیکن ایک سوال ہر پاکستانی کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے: کیا ہم نے اس آزادی کی حقیقی قدر کی ہے؟ کیا پاکستان آج اس راستے پر گامزن ہے جس کا خواب ہمارے بزرگوں نے دیکھا تھا؟

اکثر کہا جاتا ہے کہ پاکستان کے مسائل کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان افرادی قوت اور جغرافیائی اہمیت سے مالا مال ملک ہے۔ ہمارے مسائل کی اصل جڑ وسائل کی کمی نہیں بلکہ رویوں، بدعنوانی، میرٹ کی پامالی، اجتماعی بے حسی اور قومی ذمہ داری کے فقدان میں پوشیدہ ہے۔

آج بے روزگاری، اقربا پروری، ناانصافی اور غیر مؤثر پالیسیوں نے نوجوان نسل کو مایوسی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ بہت سے باصلاحیت نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں سے دوسرے ممالک کی ترقی میں حصہ ڈالتے ہیں۔ یہ صرف افراد کا نقصان نہیں بلکہ قومی سرمایہ اور ذہانت کا مسلسل انخلا بھی ہے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنانے کا خواب دیکھا تھا جہاں قانون کی حکمرانی، انصاف، دیانت، مساوات اور عوامی خدمت بنیادی اصول ہوں۔ افسوس کہ آزادی کے بعد قوم کو مسلسل ایسی قیادت میسر نہ آ سکی جو قائداعظمؒ کے وژن کو پوری قوت اور تسلسل کے ساتھ عملی جامہ پہنا سکتی۔ اس کے نتیجے میں قومی وحدت کمزور ہوئی، ذاتی مفادات اجتماعی مفاد پر غالب آتے گئے اور ترقی کی رفتار متاثر ہوتی رہی۔

ہر سال جشنِ آزادی کے موقع پر قومی پرچم لہرائے جاتے ہیں، ملی نغمے گائے جاتے ہیں اور حب الوطنی کے نعرے بلند کیے جاتے ہیں، لیکن قومیں صرف نعروں سے ترقی نہیں کرتیں۔ ترقی کا سفر دیانت داری، قانون کی پاسداری، محنت، نظم و ضبط اور خود احتسابی سے طے ہوتا ہے۔ اگر جشن کے ساتھ احتساب نہ ہو تو آزادی کا دن صرف ایک رسم بن کر رہ جاتا ہے۔

ہم بہت سے معاملات میں آج بھی ذہنی غلامی کا شکار ہیں۔ جب ذاتی مفاد، سفارش، تعصب اور مادہ پرستی قومی مفاد پر غالب آ جائیں تو آزادی کا حقیقی مقصد پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی سوچ، اپنے رویوں اور اپنی ترجیحات کو بدلنے کی ضرورت ہے، کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف حکومتیں نہیں بلکہ ان کے شہری بھی بدلتے ہیں۔

نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں اور پاکستان کا مستقبل بھی انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ انہیں معیاری تعلیم، میرٹ پر مبنی روزگار اور تحقیق کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ جب نوجوان اپنے وطن میں عزت، انصاف اور ترقی کے مواقع دیکھیں گے تو وہ اپنی صلاحیتیں اپنے ہی ملک کی تعمیر کے لیے وقف کریں گے نہ کہ دوسرے ممالک کی ترقی کا ذریعہ بنیں گے۔

عظیم قومیں صرف اپنے قومی دن نہیں مناتیں بلکہ ہر سال یہ بھی جائزہ لیتی ہیں کہ انہوں نے اپنے وطن کے لیے کیا کردار ادا کیا ہے۔ وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرتی ہیں، ان کی اصلاح کرتی ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے بہتر مستقبل کی بنیاد رکھتی ہیں۔

آج پاکستان کو صرف نئے منصوبوں کی نہیں بلکہ نئی سوچ، مضبوط کردار، دیانت دار قیادت، مؤثر پالیسیوں اور ذمہ دار شہریوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسا پاکستان تعمیر کرنا ہے جہاں میرٹ کا احترام ہو، قانون سب پر یکساں نافذ ہو، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لیے استعمال کیا جائے اور عوام کو ریاست کی اصل طاقت سمجھا جائے۔

آزادی صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل ذمہ داری ہے۔ جب ہر شہری اپنے کردار، اپنے فیصلوں اور اپنے عمل میں وطن کو مقدم رکھے گا تبھی ہم اس پاکستان کی بنیاد مضبوط کر سکیں گے جس کا خواب علامہ اقبالؒ نے دیکھا اور جسے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے حقیقت کا روپ دیا۔

جشنِ آزادی کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہم صرف پرچم نہ لہرائیں بلکہ اپنے کردار کو بھی سبز ہلالی پرچم کی طرح پاکیزہ، دیانت دار اور باوقار بنائیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے