کشمیر کا مسئلہ محض پہاڑوں، دریاؤں، سرحدوں اور نقشے پر کھینچی گئی لکیروں کا مسئلہ نہیں۔ یہ تاریخ، تہذیب، جغرافیہ، سیاست، انسانی جذبات، قربانیوں اور سب سے بڑھ کر ایک پوری نسل کے مستقبل کا سوال ہے۔ اسی لیے کشمیر پر گفتگو کرتے ہوئے جذبات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر جذبات کو تاریخ کا متبادل اور نعروں کو دلیل کا قائم مقام بنا دینا کسی سنجیدہ قوم کے شایانِ شان نہیں۔
آج آزاد کشمیر میں عوامی حقوق، بجلی، آٹا، روزگار، صحت، تعلیم، حکومتی مراعات، احتساب اور وسائل پر مقامی اختیار جیسے مسائل پر آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ ان میں سے بہت سے مطالبات بنیادی نوعیت کے ہیں اور انہیں محض سیاسی مخالفت یا پاکستان دشمنی قرار دینا مسئلے کو سمجھنے کے بجائے دبانے کے مترادف ہوگا۔ عوام کو سہولیات، انصاف، شفاف حکمرانی اور باعزت سیاسی نمائندگی کا حق حاصل ہے۔
لیکن سوال اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب انتظامی اور معاشی مطالبات کشمیر کی مجموعی سیاسی حیثیت، پاکستان کے ساتھ تعلق اور ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل کے سوال سے جوڑ دیے جاتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں جذبات نہیں تاریخ اور دلیل کی ضرورت ہے۔
کشمیر کا سیاسی مقدمہ 2024 یا 2026 میں شروع نہیں ہوا۔ اس کی جڑیں تقسیم ہند سے پہلے اور 1947 کے واقعات میں پیوست ہیں۔ 19 جولائی 1947 کو آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کی جانب سے پاکستان سے الحاق کی قرارداد منظور کی گئی۔ یہ واقعہ کشمیر کے پاکستان کے ساتھ سیاسی تعلق کے تاریخی حوالوں میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس وقت کے سیاسی حالات، مسلم اکثریت، جغرافیائی قربت، معاشی و تجارتی روابط اور تقسیم ہند کے مجموعی تناظر نے پاکستان سے الحاق کے مؤقف کو تقویت دی۔ یہ تاریخی حقیقت اپنی جگہ موجود ہے اور اسے محض اس لیے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ بعد کے ادوار میں کشمیر کے اندر دوسرے سیاسی نظریات بھی ابھرے۔
یہاں ایک بنیادی بات سمجھنا ضروری ہے کہ کشمیر کی تاریخ کو صرف ایک نعرے میں محدود نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کے ساتھ الحاق کا مؤقف بھی کشمیر کی سیاسی تاریخ کا حصہ ہے، حقِ خودارادیت کا تصور بھی موجود ہے، آزاد و متحد کشمیر کا نظریہ بھی مختلف ادوار میں سامنے آتا رہا ہے اور آج عوامی حقوق کی سیاست بھی ایک اہم عامل بن چکی ہے۔ لیکن کسی نظریے کا تاریخی طور پر موجود ہونا اس کے درست ہونے کی خودکار دلیل نہیں ہوتا۔ ہر سیاسی نظریے کو تاریخ، عوامی رائے، عملی امکانات اور سیاسی نتائج کی کسوٹی پر پرکھنا پڑتا ہے۔
کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں میں حقِ خودارادیت کا تصور بھی اہم ہے۔ تاہم حقِ خودارادیت کو لازماً پاکستان سے علیحدگی کے مترادف قرار دینا درست نہیں۔ خودارادیت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ عوام اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ خود کریں۔ اگر کسی آزادانہ اور منصفانہ عمل کے نتیجے میں کشمیری عوام پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ بھی حقِ خودارادیت ہی کی ایک صورت ہوگی۔ اسی طرح اگر کوئی دوسرا سیاسی انتظام عوام کی حقیقی ترجیح بنے تو اس پر بھی بحث ہوسکتی ہے۔
لہٰذا "حقِ خودارادیت” کو لازماً "پاکستان دشمنی” سمجھنا بھی درست نہیں اور "کشمیر بنے گا پاکستان” کے نعرے کو اس طرح پیش کرنا بھی درست نہیں کہ کشمیر کے ہر باشندے کے لیے کسی دوسری سیاسی رائے کی گنجائش ہی ختم ہوجائے۔ جمہوریت کا تقاضا یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو دلیل کے ساتھ سنا اور سمجھا جائے۔
یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ سمیت مختلف قوم پرست حلقوں نے آزاد اور متحد جموں و کشمیر کا تصور پیش کیا۔ اس نظریے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس پر تنقید بھی کی جاسکتی ہے، لیکن اسے کشمیر کی سیاسی تاریخ سے حذف نہیں کیا جاسکتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ اگر آزاد اور متحد کشمیر منزل ہے تو اس ریاست کی عملی شکل کیا ہوگی؟
اس کی سرحدیں کہاں ہوں گی؟ اس کی معیشت کس بنیاد پر کھڑی ہوگی؟ دفاع کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟ خارجہ پالیسی کون بنائے گا؟ کرنسی کیا ہوگی؟ پانی اور بجلی کے تنازعات کیسے حل ہوں گے؟ بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور پاکستان و دنیا کے مختلف حصوں میں آباد کشمیریوں کی سیاسی حیثیت کیا ہوگی؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا ریاست جموں و کشمیر کے تمام خطوں کے عوام اس تصور پر متفق ہیں؟ یہ سوالات کسی نظریے کو دبانے کے لیے نہیں بلکہ اسے سنجیدگی سے پرکھنے کے لیے ہیں۔
صرف "کشمیر آزاد ہوگا” کہنا ایک سیاسی نعرہ ہوسکتا ہے، لیکن ایک ریاست قائم کرنے کے لیے نعرے سے کہیں زیادہ درکار ہوتا ہے۔ ریاستیں واضح آئینی ڈھانچے، مستحکم معیشت، مؤثر اداروں، دفاعی صلاحیت، خارجہ تعلقات اور عوامی رضامندی سے قائم رہتی ہیں۔ یہی اصول پاکستان کے مؤقف پر بھی لاگو ہونا چاہیے۔
"کشمیر بنے گا پاکستان” بھی صرف جذباتی نعرہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے پیچھے تاریخی سیاسی وابستگی، 1947 کے اہم واقعات، مسلم کانفرنس کی قرارداد، پاکستان کے ساتھ جغرافیائی و معاشی تعلق اور کئی دہائیوں پر محیط سیاسی و انسانی رشتے موجود ہیں۔ پاکستان اور کشمیر کے تعلق کو صرف ریاستی پالیسی یا سرکاری تقریبات تک محدود کرکے سمجھنا بھی تاریخ کو مختصر کرنا ہے۔ لیکن اگر پاکستان کشمیر کو اپنے مستقبل کا حصہ سمجھتا ہے تو پھر اس تعلق کی بنیاد صرف جذبات نہیں بلکہ انصاف، اعتماد، ترقی اور عوامی شراکت داری بھی ہونا چاہیے۔
یہاں سے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سنجیدہ گفتگو شروع ہوتی ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے اٹھائے جانے والے بجلی، آٹے، حکومتی مراعات، احتساب، صحت، تعلیم اور دیگر عوامی مسائل کے مطالبات کو یکسر پاکستان دشمنی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ اگر عوام سستی بجلی چاہتے ہیں تو حکومت کو اس مطالبے کا معاشی اور انتظامی جواب دینا چاہیے۔ اگر لوگ حکمرانوں کی مراعات کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں تو حکمرانوں کو اپنے اخراجات اور مراعات کا حساب دینا چاہیے۔ اگر صحت، تعلیم اور روزگار کے مسائل موجود ہیں تو ان کے حل کے لیے سنجیدہ پالیسی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ریاست عوام کے سوالات کا جواب دے کر مضبوط ہوتی ہے، سوال کرنے والوں کو دشمن قرار دے کر نہیں۔
لیکن عوامی حقوق کی جدوجہد اور ریاست کی سیاسی سمت دو الگ سوالات ہیں۔ ایک شہری سستی بجلی، بہتر صحت اور شفاف حکومت کا مطالبہ کرسکتا ہے، لیکن اگر اسی مطالبے کو بنیاد بنا کر موجودہ سیاسی و آئینی بندوبست کو چیلنج کیا جاتا ہے تو پھر متبادل نظام کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
یہی اصول 12 مہاجر نشستوں کے معاملے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر اسمبلی میں مہاجرینِ جموں و کشمیر کے لیے مخصوص نشستوں پر اعتراض کرنے والوں کا مؤقف یہ ہے کہ جو لوگ آزاد کشمیر میں مقیم نہیں، انہیں وہاں کے انتخابی فیصلوں میں مخصوص نمائندگی کیوں حاصل ہو۔ یہ سوال جمہوری نمائندگی کے اصول سے جڑا ہوا ہے اور اس پر بحث ہونی چاہیے۔لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین محض عام بیرونِ ریاست آبادی نہیں بلکہ 1947 کے تنازع اور ہجرت کی تاریخ سے وابستہ لوگ ہیں۔ اگر ریاست جموں و کشمیر کا تنازع اب بھی سیاسی طور پر زندہ ہے تو ان لوگوں کی تاریخی سیاسی حیثیت کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھی آسان معاملہ نہیں۔
لہٰذا اصل بحث صرف بارہ نشستوں کی تعداد نہیں، بلکہ یہ طے کرنے کی ہے کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی کا تصور صرف موجودہ جغرافیائی آبادی کی نمائندگی ہے یا تاریخی ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی مقدمے کا بھی ایک ادارہ جاتی حصہ ہے۔ یہ سوال سڑکوں پر بلند ہوتے نعروں سے زیادہ آئینی، تاریخی اور سیاسی مکالمے کا تقاضا کرتا ہے۔
اسی طرح اگر اصول یہ بنایا جائے کہ آزاد کشمیر سے باہر رہنے والے کشمیریوں کو وہاں کی سیاست میں براہِ راست نمائندگی نہیں ملنی چاہیے تو پھر بیرونِ ملک آباد کشمیریوں کے سیاسی حقوق کا سوال بھی سامنے آئے گا۔ پاکستان میں مقیم کشمیریوں اور بیرونِ ملک مقیم کشمیریوں کے سیاسی حقوق میں فرق کی آئینی بنیاد کیا ہوگی؟ کیا جغرافیائی رہائش ہی سیاسی حق کا واحد معیار ہے یا تاریخی تعلق، شہریت اور ریاستی وابستگی بھی اس میں شامل ہیں؟
سنجیدہ سیاست میں سوال اٹھانا کافی نہیں ہوتا، سوال کے ممکنہ نتائج اور متبادل نظام بھی واضح کرنا پڑتے ہیں۔
آزاد کشمیر کے وسائل پر مقامی لوگوں کے حق کی بحث بھی اسی اصول کے تحت ہونی چاہیے۔ منگلا ڈیم، پانی، بجلی اور قدرتی وسائل سے متعلق مقامی آبادی کے مفادات پر منصفانہ گفتگو ضروری ہے۔ مقامی آبادی کو اپنے وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد میں مناسب حصہ ملنا چاہیے اور اس حوالے سے شفاف اور قابلِ عمل نظام تشکیل دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔
مگر وسائل پر اختیار کے ساتھ مالی ذمہ داریوں کا سوال بھی جڑا ہوتا ہے۔ آمدن، قرض، انفراسٹرکچر، ترسیلی نظام، سبسڈی اور دیگر اخراجات کا ماڈل بھی واضح ہونا چاہیے۔ کیونکہ ایک مضبوط معاشی مطالبہ وہ ہوتا ہے جو صرف یہ نہ بتائے کہ "ہمیں کیا ملے گا” بلکہ یہ بھی واضح کرے کہ "ہم کیا ذمہ داری اٹھائیں گے”۔
یہی اصول کسی بھی خودمختاری یا علیحدہ ریاست کے مطالبے پر بھی لاگو ہوتا ہے۔
اگر کوئی آزاد ریاست کا مطالبہ کرتا ہے تو اسے اس ریاست کا معاشی، آئینی، دفاعی اور سفارتی خاکہ بھی پیش کرنا ہوگا۔ اگر کوئی پاکستان کے ساتھ رہتے ہوئے زیادہ خودمختاری چاہتا ہے تو آئینی اصلاحات کا راستہ واضح ہونا چاہیے۔ اگر کوئی موجودہ انتظام میں بنیادی تبدیلی چاہتا ہے تو اس تبدیلی کے عملی نتائج بھی عوام کے سامنے رکھنے چاہئیں۔
ابہام سے تحریک تو چل سکتی ہے، ریاست نہیں بن سکتی۔
یہاں پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سبق موجود ہے۔
پاکستان کشمیر کا مقدمہ صرف تقریروں، قراردادوں اور یومِ کشمیر کی تقریبات کے ذریعے مضبوط نہیں کرسکتا۔ اگر پاکستان کشمیری عوام کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط دیکھنا چاہتا ہے تو اسے آزاد کشمیر میں اچھی حکمرانی، شفافیت، انصاف، روزگار، تعلیم، صحت، بنیادی سہولیات اور سیاسی احترام کو یقینی بنانا ہوگا۔ کسی بھی سیاسی نظریے کا سب سے مؤثر جواب طاقت نہیں بلکہ بہتر کارکردگی ہوتی ہے۔
اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان کے مسائل سنے جا رہے ہیں، ان کے وسائل کا شفاف استعمال ہورہا ہے، ان کے نمائندے جواب دہ ہیں اور ان کے مستقبل کے فیصلوں میں ان کی حقیقی شمولیت ہے تو پاکستان کے ساتھ تعلق زیادہ مضبوط ہوگا۔ اس کے برعکس محرومی، بدانتظامی، کرپشن اور سیاسی بے اعتمادی کسی بھی مخالف بیانیے کے لیے زمین ہموار کرسکتی ہے۔ لہٰذا پاکستان مخالف نظریات کا جواب صرف یہ کہہ کر نہیں دیا جاسکتا کہ "یہ ملک دشمن ہیں”۔ نظریے کا جواب بہتر نظریے، بہتر حکمرانی، بہتر معیشت، انصاف اور عوامی اعتماد سے دینا ہوگا۔
اسی طرح جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور دیگر عوامی تحریکوں سے بھی یہ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ عوامی حقوق کی جدوجہد کو سیاسی ابہام سے الگ رکھیں اور اگر کشمیر کی مجموعی سیاسی حیثیت پر کوئی متبادل تصور پیش کرتے ہیں تو اسے واضح، مکمل اور قابلِ عمل شکل میں عوام کے سامنے رکھیں۔
عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ منزل کیا ہے؟۔
کیا مقصد پاکستان کے ساتھ موجودہ تعلق میں اصلاح اور زیادہ خودمختاری ہے؟ کیا آزاد کشمیر کو مزید بااختیار سیاسی اکائی بنانا مقصود ہے؟ یا مقصد ایک مکمل آزاد اور متحد جموں و کشمیر کا قیام ہے؟
ان سوالات کے جوابات جتنے واضح ہوں گے، سیاسی مکالمہ اتنا ہی سنجیدہ ہوگا۔
کشمیر کو دو انتہاؤں سے بھی بچانے کی ضرورت ہے۔
ایک انتہا یہ ہے کہ کشمیر کا ہر عوامی مسئلہ پاکستان مخالف سازش قرار دے دیا جائے۔ دوسری انتہا یہ ہے کہ کشمیر کے ہر مسئلے کا واحد حل پاکستان سے علیحدگی قرار دے دیا جائے۔ دونوں رویے کشمیر کی پیچیدہ تاریخ اور موجودہ زمینی حقیقت کو سادہ نعرے میں تبدیل کردیتے ہیں۔
کشمیر کی تاریخ میں پاکستان سے الحاق کا سیاسی مؤقف بھی موجود ہے، حقِ خودارادیت کا تصور بھی، آزاد و متحد کشمیر کا نظریہ بھی اور آج عوامی حقوق کی سیاست بھی۔ ان تمام پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے۔ کسی بھی ایک پہلو کو باقی تمام حقائق پر مسلط کرنا علمی دیانت کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
میری نظر میں کشمیر کے مسئلے کا سنجیدہ حل جذبات کو ختم کرنے میں نہیں بلکہ جذبات کو دلیل کے تابع کرنے میں ہے۔
پاکستان کو کشمیری عوام کے ساتھ تعلق مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ آزاد کشمیر کو زیادہ بااختیار، خوشحال اور شفاف بنانا ہوگا۔ عوام کو مؤثر سیاسی نمائندگی دینا ہوگی۔ حکمرانوں کی مراعات اور سرکاری اخراجات کا احتساب ہونا چاہیے۔ وسائل کی تقسیم منصفانہ ہونی چاہیے۔ اور کشمیر کے سیاسی مستقبل پر اختلافِ رائے کو دلیل، تاریخ اور عوامی رائے کے دائرے میں رکھنا چاہیے۔
اگر پاکستان کے ساتھ کشمیر کا مستقبل وابستہ ہونا ہے تو یہ تعلق طاقت کے تاثر سے نہیں بلکہ انصاف، عزت، ترقی اور اعتماد سے مضبوط ہوگا۔اور اگر کوئی اس تعلق کو چیلنج کرتا ہے تو اسکے لئے بھی صرف "آزادی” کا خوبصورت لفظ کافی نہیں ہوگا؛ اسے ایک واضح، قابلِ عمل اور عوامی طور پر قابلِ قبول متبادل پیش کرنا ہوگا۔ کیونکہ آزادی ایک مقدس لفظ ضرور ہے، لیکن ہر آزادی کا نعرہ ایک مکمل سیاسی منصوبہ نہیں ہوتا۔
آخرکار کشمیر کسی ایک جماعت، کسی ایک کمیٹی، کسی ایک حکومت یا کسی ایک نعرے کی جاگیر نہیں۔ کشمیر ان لوگوں کا بھی ہے جو اس کی وادیوں میں رہتے ہیں، ان خاندانوں کا بھی جنہوں نے ہجرت کی، ان لوگوں کا بھی جو دنیا بھر میں آباد ہیں، اور سب سے بڑھ کر ان آنے والی نسلوں کا بھی جنہیں آج کے فیصلوں کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
اس لیے کشمیر کو صرف نقشے پر نہیں، تاریخ میں بھی دیکھنا ہوگا؛ صرف نعروں سے نہیں، حقائق سے بھی؛ صرف جذبات سے نہیں، دلیل سے بھی۔ کیونکہ کشمیر کا مستقبل کسی نعرے سے نہیں بلکہ تاریخ، شعور، انصاف، عوامی رضامندی اور ایک واضح منزل سے طے ہونا چاہیے اور جو بھی کشمیر کی سیاست میں مستقبل کی بات کرے، اسے ایک سوال کا جواب ضرور دینا ہوگا:
منزل کیا ہے؟
کیونکہ راستے کا اختلاف برداشت کیا جاسکتا ہے، مگر منزل کا ابہام پوری قوم کو برسوں بھٹکا سکتا ہے۔