اسفارِ حج: قسط نمبر 5 ؛ میں نے حج سے کیا سیکھا؟

ایک موقع پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سوچا کہ یہاں میری آواز کون سنے گا؟ کون لبیک کہے گا؟ لیکن اس سال للہ تعالیٰ کی شان دیکھیے 17 لاکھ سے زائد لوگوں نے حج کا فریضہ سرانجام دیا۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہو سکتا۔ جو کام اللہ نے صادر کرنے ہوتے ہیں، جو کام اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں، وہ اسی طرح تاریخ، مستقبل اور حال کی بے مثال، مثال بن جاتے ہیں۔

اللہ کریم نے مجھے حج کی سعادت سے تین دفعہ نوازا۔ یہ اللہ کا بلاوا تھا اور ماں باپ کی دعائیں تھیں۔ میں اس قابل کہاں؟ میرا جسمِ ناقص اس لائق کہاں؟ اگر گناہ نظر آتے تو میں شاید اپنے کندھوں پر دنیا میں سب سے زیادہ بھاری بھرکم بوجھ تلے دبا ہوا آدمی ہوتا لیکن اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں محدود اور مختص نہیں بے پایاں ہیں۔

میرا وجدان کہتا ہے کہ:

حج ایک مشن ہے۔

حج ایک مقصد ہے۔

حج ایک منزل ہے۔

اور یہ کہ حج ایک خوبصورت وعدے کی تعمیل ہے۔

حج اللہ رب العزت کے سامنے اپنے گناہوں سمیت حاضر ہونے کا نام ہے اور پاک ہونے کی تمنا میں اپنا دل اور ماتھا اللہ پاک کے سامنے بچھانا ہے۔

دیکھیے نا! ایک شخص سفید چادریں اوڑھ کر، کفن کے لباس میں چل پڑتا ہے اور ایک ہی صدا لگاتا ہے کہ: ’’میرے رب! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں‘‘۔ یہ حاضری وہ اپنی بے بسی کا اظہار کرنے کے لیے کرتا ہے۔ مجھے بتائیے کہ کون ہے جو اس رب کے حضور اور دربار کے علاوہ حاجات روائی کر سکے؟

اور کیا آپ اس کریم رب کی شانِ عزت کو پسِ پشت رکھ کر اس وادیِ مکہ، منیٰ، مزدلفہ اور عرفات کے میدانوں میں داخل ہو سکتے ہیں؟ اور جو عزت آپ اپنے اللہ کو دیتے ہیں، کیا اس سے دگنی عزت وہ شان اور عزت والا رب آپ کو عطا نہیں کرتا؟ کیا آپ اس کی مہمان نوازی میں کوئی کمی دیکھتے ہیں؟

کیا کبھی آپ نے سوچا کہ جب آپ اللہ کے قدموں کے نیچے، ملتزم پر کھڑے ہو کر دعا مانگتے ہیں تو کیا وہ رد کرے گا؟ کبھی آپ نے یا میں نے سوچا کہ وہ ہم سے کتنی لازوال محبت کرتا ہے؟ یا اس نے کس قسم کے انعامات، اجروں اور ضیافتوں کا اہتمام کر رکھا ہے جب آپ، میں اور سب انسان اس کی رحمت سے جنت میں جائیں گے؟

ایک لمحے کے لیے دنیاوی اور عقلی زاویے سے سوچتے ہیں.دینی حوالے ایک طرف رکھ کر سوچتے ہیں کہ حج کی ادائیگی اس وقت کیوں ضروری ہو جاتی ہے جب اللہ نے آپ کو (مال و وسائل) دیا ہو؟ یہ ہر کسی پر کیوں فرض نہیں؟ اس لیے کہ وہ رب آپ کو بوجھ میں نہیں ڈالنا چاہتا۔ وہ تو آسانیاں پیدا کرنے والا رب ہے۔ اس کو تو اپنی مخلوق سے محبت ہے۔ وہ تو راہِ نجات کے لیے خود راستے بنانے والا ہے۔ اب اگر ہم راہِ نجات کو چھوڑ کر غلیظ کاموں میں پڑ جائیں اور وقت ضائع کریں، تو اس میں کس کا قصور ہے؟

کبھی سوچا کہ جب حج کے لیے حضرت علی، امام حسن، امام حسین، اور سب سے بڑھ کر خود رسول اللہ ﷺ نے احرام باندھا ہوگا؟ کبھی سوچا کہ یہ ہستیاں کتنی باریک بینی کے ساتھ، کتنی مدلل اور گہری دعاؤں سے مکہ کی فضاؤں کو معطر کرتی رہی ہوں گی؟ اور آپ بھی انہی فضاؤں میں اپنی دعاؤں کے لیے ہاتھ اٹھائے ہوئے، ربِ ذوالجلال کے دربارِ عالی شان کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔

کبھی سوچا کہ ان راستوں میں جب حضرت موسیٰ علیہ السلام چل رہے ہوں گے، حضرت اسماعیل علیہ السلام چل رہے ہوں گے، اور حضرت ابراہیم علیہ السلام آسمانوں کی طرف نگاہ کر کے اللہ سے مانگ رہے ہوں گے!

ویسے تو شعائر اللہ یہاں موجود نہیں، ویسے تو کعبہ، بیت اللہ اور مکہ یہاں (دنیا کی باقی جگہوں پر) نہیں ہے؛ ویسے تو پیروں کی رگڑ سے زم زم پھوٹا نہ ہوگا۔ کیا آپ کو حضرت عبدالمطلب کا وہ خواب یاد ہے جب انہیں زم زم کھودنے کا حکم ہوا تھا؟ انہوں نے پے در پے خواب میں یہ منظر دیکھا تھا۔

آہ میرے رب! کیا تخلیق و تشکیل ہے آپ کی! کائنات کو بنایا، اس میں محبت ڈالی، پھر حساب کتاب کا درس دیا، خود قسمیں کھائیں اور سب کچھ کھول کر رکھ دیا، پھر فیصلے کا اختیار دیا اور ساتھ دعا کی توفیق بھی دے دی۔

حج ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ یہی کہ ایک فریضہِ عبادت کے علاوہ یہ ایک فلسفہِ حقیقت، ادراک اور محبت ہے۔

کبھی سوچا کہ جن فرائض کی ادائیگی کے لیے مزدلفہ، منیٰ، جمرات اور کعبے میں آپ کی موجودگی ہوتی ہے، وہ احساس اللہ کو کتنا اچھا لگتا ہوگا؟ کبھی سوچا کہ ان سترہ لاکھ لوگوں نے کتنی دعائیں اور کیا دعائیں مانگی ہوں گی اور وہ جمع ہو کر کتنی بنی ہوں گی؟ اور ان دعاؤں کی قبولیت کی امید والی ذاتِ الٰہی اوپر سے سب کو ملا کر کہتی ہے: ’’سب قبول کر لو! کچھ ابھی، کچھ بعد میں، کچھ سے بلائیں ٹال دو اور کچھ قیامت میں‘‘۔ اور وہ کوئی دعا رد کرتا ہی نہیں!

حج ایک سعادت ہے۔ ایک احساسِ مروت اور تشنگی ہے۔ حج اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کر کے اللہ سے مانگنے کا نام ہے۔

اور جب آپ اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرتے ہیں، اور آپ اپنی ماں اور باپ کو شاملِ روح کر کے وہی فرائض ان کے لیے سرانجام دیتے ہیں، تو اس سے بڑھ کر دنیا میں محبت کی کوئی اور مثال ملے گی کہ نہیں؟

اللہ سے دعا ہے کہ سب کو استطاعت اور حج کی سعادت سے نوازے۔ آمین!

لبیک اللّٰھم لبیک۔۔۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے