پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی آج ہر طبقے کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ روزمرہ استعمال کی اشیاء، بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام آدمی کی زندگی کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ خاص طور پر متوسط اور غریب طبقہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی پریشان دکھائی دیتا ہے۔
چند سال پہلے جو چیزیں آسانی سے خریدی جا سکتی تھیں، آج وہی چیزیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں۔ آٹے، چینی، گھی اور سبزیوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں جبکہ لوگوں کی آمدنی میں اس حساب سے اضافہ نہیں ہو رہا۔ نتیجتاً لوگوں کو اپنے اخراجات کم کرنا پڑتے ہیں اور کئی خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔
مہنگائی کا اثر صرف گھریلو زندگی تک محدود نہیں بلکہ تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبے بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ والدین کے لیے بچوں کی فیس ادا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جبکہ علاج معالجے کے اخراجات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں بے چینی اور مایوسی بڑھ رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق مہنگائی کی کئی وجوہات ہیں جن میں معاشی عدم استحکام، بے روزگاری، کرنسی کی قدر میں کمی اور عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی قیمتیں شامل ہیں۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ عوام کو ریلیف فراہم کرے اور ایسی پالیسیاں بنائے جن سے عام آدمی کو سہولت مل سکے۔
اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، تاجر اور عوام سب مل کر ملک کی معاشی صورتحال بہتر بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔ ایک مضبوط معیشت ہی خوشحال معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔