شروع اللہ کے نام سے جو خود بہت ہی خوبصورت ہستی کا مالک ہے۔ اس نے انسان بھی بہت خوبصورت بنائے ہیں۔ جن کی شخصیت اور اخلاق ارد گرد کے ماحول کو خوبصورت بناتے ہیں۔
میں شخصیت نگاری میں زیادہ تجربہ تو نہیں رکھتا مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔ ادب کی دنیا میں رہتے ہوئے اگر میری انگلیاں یا قلم کی سیاہی ان کی شخصیت پہ محبتیں نچھاور نہ کرے تو ناانصافی ہوگی۔
میں تو قارئین کو فار ایسٹ ایشیا گھمانا چاہ رہا تھا مگر اس دوران سید عابد شاہ جن کو گھر میں ہم بھائی جان کے نام سے پکارتے ہیں، ان کا میسج آگیا۔ ان کو کمر میں موچ آئی تھی۔ میں نے عرض کیا بھائی اگر طبیعت ٹھیک رہتی ہو تو دوائیں یا گولیاں نہ ہی لیں تو بہتر ہے کیونکہ 40 سے عمر زیادہ ہو جائے تو جوائنٹس میں ویئر اینڈ ٹیئر (wear and tear) آ ہی جاتا ہے۔ ان کی مزاح کی صلاحیت کافی خوشنما ہے، کہتے ہیں میں تو 36 کا ہوں یہ احتیاط والی باتیں آپ کریں۔ ان کی 50 سالہ عمر میں 36 کی سوچ پہ ایک ہنسنے والا ایموجی پیش کیا اور ساتھ ہی قلم کا رخ تھائی لینڈ اور ویتنام کے ٹور سے ہٹا کر ان کی شخصیت کی طرف موڑ دیا۔
اس دن ایک مقامی شخص کے پاس ان کو کمر درد کے علاج کے لیے لے کر گیا تو اس معالج سے کہا اپنا پورا تجربہ بروئے کار لاؤ اور کسی طرح بھائی کے کمر کا درد ٹھیک ہونا چاہیے، وہ کیونکہ عابد شاہ بھائی جان، بھائی کے علاوہ میرا حوصلہ ہیں۔ وہ صرف میرا نہیں پورے خاندان کا حوصلہ ہیں بلکہ ہمارے گاؤں، ضلع، صوبہ بھر اور اسلام آباد اور دنیا بھر میں جان پہچان والے رشتہ دار دوست احباب کا حوصلہ ہیں۔
ڈبل فزکس میتھس میں بی ایس سی کے بعد بہت ہی کم عمر میں اللہ تعالیٰ نے ان کو قومی اسمبلی میں سرکاری ملازمت دی۔ بابا فرماتے میں نے ایک شجرِ سایہ دار کو نصب کیا تھا اب اللہ تعالیٰ اس سے بہت سارے لوگوں کو پھل اور سایہ دے گا۔ ایسا ہی ہوا۔ قومی اسمبلی میں آنے کے بعد وہ کتنے سارے لوگوں کی آس اور امیدوں کا محور بنے، یہ شاید میں گن نہ پاؤں۔ بذاتِ خود مجھ پہ ان کے ان گنت احسانات ہیں کبھی نہ چکا پاؤں گا، ممکن نہیں ہے۔ ہاں یہ سوچتا ضرور ہوں کہ کبھی ایک وقت اللہ ایسا لائے کہ عابد بھائی جان کہیں گے "گڈ جاب رحیم”۔
میں ہمیشہ ان کی طرح بننے کی کوشش کرتا ہوں لیکن فیل ہی ہوتا ہوں۔ ہم ادب اور قلم کے لوگ بچپن سے حساس ہوتے ہیں اور لکھاریوں کے قلم کی نوک جھونک کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ مجھے عابد بھائی جان کے اندر بسا ایک خوبصورت آرٹسٹ بہت متاثر کرتا ہے۔ گنگنانے پہ آئیں تو شہر اور گاؤں کے لوگ آواز کے دیوانے اور لکھنے پہ آئیں تو خدا کی قدرتوں کا خوبصورت احاطہ پشتو زبان کی شاعری میں کوئی ان سے پوچھے. وہ غنی خان بابا کی طرح بہت ہی نزاکت سے محبتوں کا اظہار قلم کے سپرد کرتے ہیں۔ یہی نہیں خود ان کی پیشکشِ شاعری بزبانِ خود حد درجہ خوبصورتی سے بھری ہوئی ہوتی ہے۔
ہمارے گھر میں ایک تصویر لگی تھی۔ پہلے بینظیر بھٹو شہید، پھر آفتاب خان شیرپاؤ اور پھر عابد بھائی کی، شاید ان دنوں وہ 36 کیا 16 سال کے بھی نہیں تھے۔ بسا اوقات جلسوں میں اپنی شاعری سے بہت لوگوں کے دل میں گھر کر گئے۔ بینظیر بھٹو سے خصوصی محبت کا جذبہ میں نے تب دیکھا جب وہ شہید ہوئیں اور عابد بھائی کے احساسات ایسے تھے جب کوئی اپنے گھر کا فرد کھو بیٹھے۔
بادشاہ مزاج شخصیت کے مالک ہیں، اخلاقیات کا درس دیتے ہوئے خود اپنے عملی ثبوت بھی ہیں۔ یہی صفت ہے کہ ان کا زیادہ وقت بادشاہوں کے درمیان گزرتا ہے۔ مگر میں نے دیکھا ہے کہ وہ بادشاہوں کے ساتھ دن گزرنے کے بعد زمین پر کھانا اور فرش پر سونے کو عیب نہیں سمجھتے۔ اتنے ممالک میں گھومے ہیں کہ شاید گنتی میں وہ خود بھی خطا کر بیٹھیں، مگر مجال ہے کہ کبھی اس بات کے غرور کا ان کے چہرے پہ ایک جھلک بھی دیکھا ہو۔ مسکراتا چہرہ، بلا کی خاموشی اور اس میں انتہا کی عقل اور حالات شناسی ان کو بابا اور بی بی کا خوبصورت امتزاج کا باعث بنتے ہیں۔
میرے جابز، ایجوکیشن ہٹا کے اخلاقیات اور معاملات میں ان کا بہت دخل رہا ہے۔ پرانے وقتوں کی بات ہے ہم اپنے کزنز کے ہاں تخت بھائی چلے گئے۔ انہوں نے مجھے سائیکل پہ بٹھایا اور موٹر سائیکل والا ایسے غلط انداز میں آیا کہ ہم دونوں سائیکل سے گر گئے۔ اگلے دن ناشتے میں کزنز کے گھر میں پراٹھا نہ ملنے پر میں رو پڑا اور انہوں نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ بھوکا پن مت کرو ہم کسی کے مہمان ہیں۔ شاید یہ بات ان کو یاد نہ ہو مگر وہ دن اور آج کا دن کبھی کسی چیز کی بھوک اور حسد نہیں رہا، البتہ پراٹھے کا اب بھی شوقین ہوں۔
میں ان کی امید پہ پورا نہیں اترتا اور وہ میری سوچ سے بڑھ کر میرے معاملات میں ساتھ نبھاتے ہیں۔ یہ میرے ساتھ نہیں سب رشتہ داروں کا ان سے ایسا ہی تعلق ہے۔ بہت سارے لوگ ان کی وجہ سے رزق کما رہے ہیں، بتوفیقِ سبحان و تعالی۔ اللہ ان کو اجر دے۔ قومی اسمبلی میں ملازمت کے دوران پتا چلا کہ ان کا مخالف ہے ہی نہیں اور اگر ہوں بھی تو کوئی تذکرہ کرنا ہی نہ چاہے گا۔ بڑے بڑے سیاسی شخصیات کے ساتھ کام کی وجہ سے ان کو اللہ نے بہت سیاسی، معاشرتی اور مثبت سوچ دی ہے۔ حالات اور واقعات کو سرسری نہیں دیکھتے۔
اللہ نے پیارے پانچ بیٹے سید مصطفیٰ شاہ، محمد علی شاہ، سید سلیمان شاہ، سید ابراہیم شاہ، سید اسماعیل شاہ اور ایک بہت پیاری خوبصورت اور خوب سیرت زویا سید سے نوازا ہے۔
عابد شاہ ابن سید یوسف جان کو میں نے بھائیوں میں بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے غصے، ہنسی، مزاج سے لے کر اٹھنے بیٹھنے تک میں نے ان کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔واللہ قلم کبھی کبھی دھوکا دے جاتا ہے ۔ ۔ ۔ میرے الفاظ کی وسعت زیادہ نہیں اور نہ ہی شخصیت نگاری کو اس کے اصل چہرے کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں۔
آج بھی کبھی ان کے ساتھ اکٹھے اسمبلی اپنے آفس جاتا ہوں تو بی بی کی دعا یاد آتی ہے۔ وہ عاجزی کے ساتھ بلند آواز سے دعا فرماتیں "اللہ عابد شاہ آگے آگے ہو اور رحیم شاہ اس کے پیچھے پیچھے”۔ ایک دفعہ جب وہ فوت ہوئیں اور میری ڈیوٹی آفتاب شیرپاؤ صاحب کے ساتھ اور ان کی اسفندیار ولی خان صاحب کے ساتھ تھی تو وہ دونوں محترم شخصیات آگے چل رہی تھیں، میں اور عابد بھائی جان ان کے پیچھے تھے۔
اللہ ہر ماں کے بیٹوں بیٹیوں میں اتفاق و اتحاد قائم رکھے۔ بھائیوں کا رشتہ ایک خوبصورت تعلق نہیں خون کے ڈی این اے (DNAs) کا ہوتا ہے۔ اللہ عابد بھائی جان کو لمبی زندگی، صحت اور عافیت کے ساتھ ہمارے سر پہ سایہ بنا کے رکھے، آمین۔
جیو ہزاروں سال، ہمارا بھائی جان۔