تحریک، بیانیہ اور زمینی حقیقت

آزاد کشمیر کی حالیہ سیاست نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: آخر وہ لوگ جو چند سال پہلے تک قومی اور کشمیر کے بڑے سیاسی و آئینی مباحث میں نمایاں کردار ادا کرتے نظر نہیں آتے تھے، اچانک ایسے مقام پر کیسے پہنچ گئے جہاں وہ ریاستی ڈھانچے، آئینی نظام اور دہائیوں پر محیط سیاسی بندوبست کو چیلنج کرنے لگے؟

آزاد جموں و کشمیر کا 1974 کا آئین کسی جذباتی لمحے کی پیداوار نہیں تھا۔ یہ ایک طویل سیاسی، قانونی اور آئینی سوچ کا نتیجہ تھا، جس میں ایسے ماہرین شامل تھے جنہوں نے بین الاقوامی جامعات میں تعلیم حاصل کی، قانون، ریاستی امور اور آئینی ڈھانچوں کا گہرا مطالعہ کیا، اور ایک ایسے نظام کی بنیاد رکھی جس نے نصف صدی تک خطے کے سیاسی معاملات کو چلایا۔

اس پس منظر میں یہ سوال فطری ہے کہ چند برسوں میں بعض مقامی قیادتیں کس اعتماد کے ساتھ اس پورے نظام کو ناقابلِ قبول قرار دینے لگیں اور عوام کو یہ تاثر دینے لگیں کہ تمام مسائل کا حل صرف تصادم، احتجاج اور ریاستی اداروں سے براہِ راست محاذ آرائی میں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ریاستیں جذبات سے نہیں بلکہ اداروں، قوانین اور ضابطوں سے چلتی ہیں۔ احتجاج جمہوری حق ہے، مگر جب کسی تحریک کا بیانیہ عوام کو یہ یقین دلانے لگے کہ ریاستی ڈھانچہ مکمل طور پر بے معنی ہے یا اسے دباؤ کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق موڑا جا سکتا ہے، تو وہاں سوالات پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

آزاد کشمیر کے عوام باشعور ہیں۔ وہ اپنے مفادات، اپنی تاریخ اور اپنی سیاسی حقیقتوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقتی جوش و خروش کے باوجود بالآخر وہی راستہ قابلِ عمل ثابت ہوتا ہے جو مکالمے، آئینی جدوجہد اور سیاسی بصیرت سے گزرتا ہے۔

حالیہ واقعات کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے کہ جذباتی نعروں کی عمر محدود ہوتی ہے، جبکہ ریاستی نظام، ادارے اور آئینی ڈھانچے اپنی جگہ برقرار رہتے ہیں۔ پائیدار تبدیلی ہمیشہ تصادم سے نہیں بلکہ حکمت، تدبر اور تعمیری سیاسی عمل سے آتی ہے.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے