انسانی تاریخ میں ظلم و ستم کی بے شمار صورتیں ملتی ہیں، مگر کچھ مظالم ایسے ہوتے ہیں جو صرف جسم کو نہیں بلکہ روح کو بھی جھلسا دیتے ہیں۔ تیزاب گردی انہی ہولناک جرائم میں سے ایک ہے، جو انسان کی پہچان، اس کی عزت، اس کے خوابوں اور اس کے مستقبل کو ایک ہی لمحے میں راکھ کے ڈھیر میں بدل دیتی ہے۔ بلوچستان میں ایک خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے کا حالیہ افسوسناک واقعہ نہ صرف ایک انفرادی سانحہ ہے، بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر پر ایک زوردار طمانچہ ہے، جو ہمیں جھنجھوڑ کر یہ سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں؟
تیزاب گردی دراصل درندگی کی وہ شکل ہے جس میں انسان اپنی انسانیت کھو بیٹھتا ہے۔ یہ محض ایک جسمانی حملہ نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا ظلم ہوتا ہے، جس کا مقصد کسی کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے اجیرن بنانا ہوتا ہے۔ ایک لمحے کا انتقام، ایک پل کی نفرت اور ایک معمولی اختلاف کسی انسان کو اس حد تک لے جاتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کے چہرے پر تیزاب پھینک کر اس کی پوری زندگی کو اذیت ناک بنا دیتا ہے۔ یہ وہ عمل ہے جس میں نہ رحم ہوتا ہے، نہ اخلاق، نہ قانون کا خوف اور نہ ہی آخرت کا احساس۔
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کو عزت، حرمت اور وقار عطا کرتا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ”
یعنی: ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی۔
یہ آیت انسان کے مقام و مرتبے کو اس قدر بلند کر دیتی ہے کہ کسی دوسرے انسان کو یہ حق حاصل ہی نہیں رہتا کہ وہ اس کی عزت و حرمت کو پامال کرے۔ مگر افسوس کہ آج ہمارے معاشرے میں یہی بنیادی اصول کمزور پڑتے جا رہے ہیں، اور ظلم کے خلاف آوازیں بھی کمزور ہو رہی ہیں۔
رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:
"مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”
یہ حدیثِ مبارکہ ایک مکمل امن پسند اور مہذب معاشرے کا نقشہ پیش کرتی ہے۔ لیکن جب انسان اس تعلیم سے دور ہو جائے، جب دل سے خوفِ خدا نکل جائے، اور جب نفس کی خواہشات عقل پر غالب آ جائیں، تو پھر ایسے المناک واقعات جنم لیتے ہیں جو معاشرے کے ماتھے پر بدنما داغ بن جاتے ہیں۔
بلوچستان کا یہ واقعہ صرف ایک خاتون ڈاکٹر پر حملہ نہیں، بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ ایک ایسی خاتون جو انسانیت کی خدمت کے لیے اپنی زندگی وقف کیے ہوئے تھی، جو دوسروں کی جانیں بچانے میں مصروف تھی، وہ خود وحشت و سفاکیت کا شکار بن گئی۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ آخر ہمارے اندر برداشت کیوں ختم ہو رہی ہے؟ اختلافِ رائے دشمنی میں کیوں بدل جاتا ہے؟ اور معمولی رنجشیں انتقام کی آگ میں کیوں تبدیل ہو جاتی ہیں؟
تیزاب گردی کے پیچھے اکثر جذباتی عدم توازن، انتقامی سوچ، غیرت کے غلط تصورات یا ذاتی دشمنیاں کارفرما ہوتی ہیں۔ مگر اسلام ان تمام منفی جذبات کو قابو میں رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے غصے کو پی جانے والے کو حقیقی پہلوان قرار دیا ہے، نہ کہ اسے جو دوسروں کو نقصان پہنچائے۔ اسلام کا پیغام واضح ہے کہ طاقت وہ نہیں جو دوسروں کو جھلسا دے، بلکہ وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو پا لے۔ یہی اصل بہادری ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ تیزاب گردی کے متاثرین صرف جسمانی اذیت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ انہیں نفسیاتی، سماجی اور معاشرتی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی زندگیاں ہمیشہ کے لیے بدل جاتی ہیں۔ معاشرہ اکثر ایسے افراد کو نظر انداز کر دیتا ہے، حالانکہ اسلام مظلوم کی مدد کو نہ صرف اخلاقی بلکہ دینی فریضہ قرار دیتا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو اور ظالم کے خلاف آواز بلند کرے۔
افسوس کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات ایسے واقعات کو محض ایک خبر سمجھ کر چند دنوں بعد بھلا دیا جاتا ہے۔ مگر اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ ظلم کو معمولی نہ سمجھا جائے، کیونکہ ظلم جب خاموشی کے ساتھ بڑھتا ہے تو وہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اگر آج ہم نے تیزاب گردی جیسے واقعات پر خاموشی اختیار کی تو کل یہ آگ کسی اور چہرے، کسی اور گھر اور کسی اور زندگی کو جلا سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس مسئلے کا ادراک کریں۔ حکومت پر لازم ہے کہ تیزاب کی خرید و فروخت پر سخت قوانین نافذ کرے، مجرموں کو قرار واقعی سزا دے اور عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنائے۔ لیکن صرف قانونی اقدامات کافی نہیں، اصل تبدیلی معاشرتی تربیت سے آتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت پر توجہ دیں، اساتذہ کردار سازی کو اپنی تعلیم کا حصہ بنائیں، اور علماء کرام معاشرے میں محبت، برداشت اور احترامِ انسانیت کا پیغام عام کریں۔ اگر یہ ستون مضبوط ہوں تو معاشرہ جرائم سے محفوظ ہو سکتا ہے۔
میڈیا کا کردار بھی اس حوالے سے انتہائی اہم ہے۔ اگر میڈیا ایسے واقعات کو صرف سنسنی خیز انداز میں پیش کرنے کے بجائے اصلاحی پہلو کو اجاگر کرے تو معاشرے میں شعور بیدار ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو بھی چاہیے کہ وہ طلبہ و طالبات میں برداشت، اخلاق اور انسان دوستی کے جذبات کو فروغ دیں۔ معاشرہ تبھی بہتر ہوتا ہے جب تعلیم صرف ڈگری نہیں بلکہ کردار سازی کا ذریعہ بنے۔
اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ ایک انسان کی جان، عزت اور حرمت پوری انسانیت کے برابر ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:
"جس نے ایک جان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”
اگر ایک جان کا قتل اتنا بڑا جرم ہے تو کسی انسان کی عزت کو جھلسانا کس قدر سنگین گناہ ہوگا، اس کا اندازہ ہر صاحبِ ایمان خود کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام ظلم کے خلاف سخت موقف رکھتا ہے اور عدل کو بنیاد بناتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل پہچان اس کا اخلاق ہے، نہ کہ اس کی طاقت، دولت یا غصہ۔ جو معاشرہ انسان کے وقار کو محفوظ نہ رکھ سکے، وہ کبھی بھی مہذب اور اسلامی معاشرہ نہیں کہلا سکتا۔ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں انسان محفوظ ہو، عزت محفوظ ہو اور احساس محفوظ ہو۔ اگر انسان ہی محفوظ نہ ہو تو ترقی محض ایک خالی نعرہ رہ جاتی ہے۔
آج وقت کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں، اپنے رویّوں کا جائزہ لیں، اور یہ سوچیں کہ کہیں ہم بھی کسی ایسے معاشرتی زوال کا حصہ تو نہیں بن رہے جو ایسے واقعات کو جنم دیتا ہے۔ ہمیں نفرت کے بجائے محبت، انتقام کے بجائے درگزر اور تشدد کے بجائے اصلاح کا راستہ اپنانا ہوگا۔ یہی راستہ ایک پرامن اور مہذب معاشرے کی ضمانت ہے۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں ظلم سے بچنے، مظلوم کا ساتھ دینے اور اپنے معاشرے کو امن، عدل اور انسانیت کا گہوارہ بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔