جب در و دیوار بھی چیخیں سننے سے انکار کر دیں تو سمجھ لو کہ ظلم اپنی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ یہ جملہ ان خاموش صدیوں کی گواہ ہے جن میں انسانیت نے اپنے ہی ہاتھوں اپنے اصولوں کا جنازہ نکالا۔ معاشروں کی تاریخ اس تلخ حقیقت سے بھری پڑی ہے کہ زوال کبھی ایک جھٹکے میں نہیں آتا ہے یہ آہستہ آہستہ سوچوں میں اترتا ہے، رویوں میں جڑ پکڑتا ہے اور پھر ایک دن خبر بن کر ہر گلی، ہر شہر اور ہر گھر کے ماتم میں بدل جاتا ہے۔ کبھی یہ زوال تعلیم یافتہ چہروں کے پیچھے چھپی درندگی کی صورت میں سامنے آتا ہے، کبھی بے حس نظام کی خاموش تماش بینی میں اور کبھی ان سڑکوں پر بکھری ان کہی چیخوں کی شکل میں جنہیں ہم روز دیکھتے ہیں مگر سمجھنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ ایسے ماحول میں عورت کا وجود اکثر تحفظ کے بجائے ایک مسلسل آزمائش بن جاتا ہے، جہاں ہر قدم پر ایک نیا خدشہ، ہر راستے پر ایک نیا سوال اور ہر لمحے پر ایک انجانا خوف اس کے ساتھ چلتا ہے، گویا زندگی جینے سے زیادہ ایک مسلسل احتیاط کا نام بن گئی ہو۔ اور جب یہ خوف معمول بن جائے تو پھر حادثے غیر معمولی رہتے ہیں بلکہ روزمرہ کی خبر بن جاتے ہیں، جیسے کوئی خاموش بغاوت جو ہر دن کسی نئے نام کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔
اسی فضا میں حال ہی میں جھنگ کے علاقے سلطان کالونی کی کم عمر طالبہ ایشال فاطمہ کی المناک موت نے ایک بار پھر پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ وہ تعلیم کے خواب دیکھنے والی ہنستی کھیلتی لڑکی تھی جس کے لیے زندگی ابھی اپنے کئی رنگ سمیٹنے والی تھی، مگر وقت نے چند لمحوں میں اس کے راستے کو ایک ایسے اندھیرے میں بدل دیا جہاں نہ واپسی کی گنجائش رہی نہ ہی کوئی جواب باقی بچا۔ اس واقعے نے ایک گھر کے چراغ کو تو بجھا دیا ہے اور ساتھ ہی پورے سماج کے ضمیر پر ایک ایسا سوال بھی چھوڑ دیا ہے جو ہر خاموشی میں گونجتا رہتا ہے کہ آخر ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہمارے اردگرد کمزور اتنے غیر محفوظ کیوں ہو چکے ہیں۔ پولیس کی ابتدائی کارروائیاں اور گرفتاریوں نے وقتی طور پر کچھ پہلو واضح کیے ہیں، مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ ایک واقعہ تھا یا ایک بڑے بگڑتے ہوئے نظام کی ایک اور کڑی۔
مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے پہلے کوئٹہ کے ایک اسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور ناصر پر تیزاب پھینکنے کا دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جس نے یہ ثابت کیا کہ علم اور پیشہ بھی عورت کو مکمل تحفظ نہیں دے سکتے۔ ایک ایسی خاتون جو دوسروں کی زندگی بچانے میں مصروف تھی، خود زندگی اور موت کے درمیان جھولنے پر مجبور ہو گئی۔ یہ دردناک واقعہ اس سوچ پر حملہ تھا جو عورت کو اس کی قابلیت کے باوجود کمزور سمجھتی ہے۔ آیا روز پیش آنے والے اسی طرح کے واقعات ہمیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر رہے ہیں کہ کیا ہمارے ادارے واقعی محفوظ پناہ گاہیں ہیں یا صرف نام کی حد تک ہیں۔
مزید برآں، اسی تسلسل میں لاہور کے ماڈل ٹاؤن کے واقعے پر بھی ایک نظر ڈالتے ہے جہاں ایک کم عمر گھریلو ملازمہ کے ساتھ پیش آنے والا دردناک سانحہ معاشرتی بے حسی کی ایک اور مثال بن گیا۔ ایک عریب گھرانے کی بچی جو محنت مزدوری کے لیے نکلی تھی، وہ ظلم کی ایسی بھٹی میں جھونک دی گئی جہاں سے واپسی اس کے لیے ممکن نہ رہی۔ یہ اس تلخ حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ طاقتور طبقات کے گھروں کے اندر بھی اگر نگرانی اور انصاف کا نظام کمزور ہو تو کمزور افراد کے لیے کوئی تحفظ باقی نہیں رہتا۔
اسی طرح ملک کے مختلف حصوں میں وقتاً فوقتاً ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں جہاں خواتین اور بچیوں کو اغوا، تشدد یا جنسی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کبھی کچے کے علاقوں میں مبینہ اغوا کی خبریں سامنے آتی ہیں تو کبھی شہروں کے اندر محفوظ سمجھے جانے والے مقامات پر خواتین عدم تحفظ کا شکار نظر آتی ہیں۔ یہ تمام واقعات ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں، جن کا مرکزی کردار ایک ہی ہے عدم تحفظ اور کمزور نظامِ انصاف۔ بخدا انسانی معاشروں میں عورت کا مقام ہمیشہ ایک معیار رہا ہے۔ تہذیبیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ اپنے بے بس اور کمزور طبقات کو تحفظ دیتی ہیں۔ مگر جب معاشرہ اپنی ہی آدھی آبادی کے لیے غیر محفوظ ہو جائے تو وہاں ترقی کے دعوے کھوکھلے محسوس ہونے لگتے ہیں۔ اسلام نے عورت کو جو عزت، حق اور تحفظ دیا ہے وہ ایک مکمل نظام کی صورت میں موجود ہے۔
قانونی سطح پر اگرچہ پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے متعدد قوانین موجود ہیں تیزاب گردی کے خلاف سخت سزائیں، ہراسگی کی روک تھام، غیرت کے نام پر قتل کی ممانعت اور کم عمری کی شادی کے خلاف اقدامات مگر مسئلہ نہ قانون بنانے کا ہے اس پر مؤثر عملدرآمد کا ہے۔ بظاہر یہ قوانین ایک مضبوط ڈھانچے کی صورت میں دکھائی دیتے ہیں، لیکن عملی میدان میں یہ ڈھانچہ اکثر کمزور پڑ جاتا ہے۔ مقدمات کا برسوں تک التوا کا شکار رہنا، گواہوں کو درپیش خطرات اور تفتیشی نظام کی خامیاں انصاف کے راستے میں بڑی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ انصاف جب تاخیر کا شکار ہو جائے تو اس کی معنویت ماند پڑنے لگتی ہے اور مظلوم کے زخموں پر مرہم رکھنے کے بجائے ایک نئی اذیت کا سبب بن جاتی ہے۔ یہی تاخیر اور کمزوری دراصل مجرموں کے حوصلے بڑھاتی ہے، انہیں یہ یقین دلاتی ہے کہ شاید وہ قانون کی گرفت سے بچ نکلیں گے۔
اسی طرح قوانین کو کتابی صورت تک محدود رکھنے کے بجائے ان پر فوری، شفاف اور بلاامتیاز عملدرآمد کو یقینی بنانا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ انصاف کارکردگی اور عملی اقدامات میں زندہ رہتا ہے۔ ہمیں ایک ایسا نظام تشکیل دینا چاہیے جہاں قانون کی گرفت مضبوط ہو، تفتیش کا عمل دیانت دارانہ ہو اور عدالتوں کے فیصلے بروقت اور مؤثر ہوں، تاکہ مظلوم کو یقین ہو کہ اس کی آواز سنی جائے گی اور اسے اس کا حق ضرور ملے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی رویوں میں بھی سنجیدہ تبدیلی ناگزیر ہے، کیونکہ ایک محفوظ معاشرہ اجتماعی شعور، ذمہ داری اور احساس سے وجود میں آتا ہے۔ جب گھروں، گلی کوچوں، تعلیمی اداروں، مسجدوں اور سماجی حلقوں میں عزت و احترام، صبر و برداشت، ہمدردی و احساس اور برابری کی قدریں پروان چڑھیں گی تو یہی سوچ ایک مضبوط دیوار بن کر ہر عورت کے تحفظ کی ضمانت بنے گی۔ ایک ایسا خوبصورت و خوشگوار ماحول جہاں بیٹی پورے اعتماد کے ساتھ اپنے خواب سجا سکے، ماں سکون و آرام کے ساتھ اپنے آنگن کی دہلیز پر کھڑی ہو سکے اور بہن بلاخوف و خطر اپنے راستے پر چل سکے، وہی دراصل ایک مہذب اور باوقار معاشرے کی پہچان ہوتا ہے۔ یہی وہ سمت ہے جہاں انصاف ایک لفظ سے زیادہ ایک موجود حقیقت بن کر ہر دل میں اطمینان اور ہر چہرے پر تحفظ کا احساس پیدا کرتا ہے۔