افق نو پر فکری بازیافت

ایک ایسے سحر کار کی تمثیل پر غور کیجئے جو عالمی تماشہ گاہ میں سنگین چیلنجز کی بساط پلٹ کر تماشائیوں سے داد تو سمیٹ لیتا ہے، لیکن جب اپنے ہی مٹی کے گھروندے میں لوٹتا ہے تو وہاں کا بجھا ہوا چولہا اور تاریک گوشے اس کی فنی مہارت کا منہ چڑاتے ہیں۔ عصرِ حاضر میں پاکستانی ریاست کا تزویراتی تشخص اسی سحر کار کے مانند ہو چکا ہے، جس کا بیرونی چہرہ جیو پولیٹیکل فتوحات کے غازے سے چمک رہا ہے، جبکہ داخلی وجود معاشی تہی دستی کے باعث بکھر رہا ہے۔ جب مشرقِ وسطیٰ کے تپتے ہوئے صحرا بارود کی لپیٹ میں تھے اور واشنگٹن سے تہران تک جنگ کے مہیب سائے منڈلا رہے تھے، تب پاکستانی قیادت نے ایک بے باک مصالحت کار کا روپ دھار کر عالمی سیاست کے دھارے کو بدلا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس امن پسندانہ کردار کی غیر معمولی ستائش محض ایک روایتی سفارتی جملہ نہیں، بلکہ ملکی عسکری و سول قیادت کے تزویراتی وزن کی بین الاقوامی توثیق ہے۔ مگر المیہ یہ ہے کہ اس بین الاقوامی تمغے کی چمک جب اسلام آباد اور کراچی کے پسماندہ گلی کوچوں میں پہنچتی ہے، تو وہاں کے عام شہری کے کچن کا بجٹ اس کی تپش سے پگھلنے لگتا ہے۔ یہ وہ تضاد ہے جہاں سفارت کاری کا ملمع اترنے لگتا ہے اور معاشی حقیقت کا ننگا پن نمایاں ہو جاتا ہے۔

اس المیے کا سب سے کڑوا سچ پاک-ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی سرد مہری میں پنہاں ہے۔ یہ منصوبہ محض لوہے کی ایک لکیر نہیں تھا، بلکہ یہ پاکستان کی توانائی کی خود کفالت کا ایک ایسا خواب تھا جسے علاقائی جیو اکنامکس کی معراج بننا تھا۔ تہران نے اپنے حصے کی حدود میں پائپ لائن بچھا کر یکطرفہ عزم کا ثبوت دیا، مگر پاکستانی دارالحکومت پر طاری واشنگٹن کی اقتصادی سحر انگیزی اور ممکنہ پابندیوں کے خوف نے اس پورے خواب پر برف جما دی۔ اس تزویراتی تذبذب کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے، جو کبھی اس منصوبے کا ساجھے دار تھا، پاکستان کو ملنے والے سالانہ ایک ارب ڈالر کے ممکنہ ٹرانزٹ فیس کے فائدے کو بھانپتے ہوئے خود کو اس تکون سے الگ کر لیا۔ اب جبکہ پاکستان نے خطے میں ایک معتبر امن پسند اور ثالث کے طور پر اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں، تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ ہم اس سفارتی کامیابی کو اپنے معاشی مفاد کے تحفظ کے لیے بطور ہتھیار کیوں استعمال نہیں کرتے؟ وقت کا تقاضا ہے کہ واشنگٹن کی راہداریوں میں یہ بیانیہ پوری قوت سے پیش کیا جائے کہ جو ریاست عالمی امن کی ضامن بن سکتی ہے، اسے معاشی سانسیں لینے کے لیے ایرانی گیس پر عائد پابندیوں سے استثنا ملنا چاہیے۔ جب تک خارجہ پالیسی کو پٹرولیم مصنوعات کی سستی فراہمی اور تجارتی توازن سے نہیں جوڑا جائے گا، بین الاقوامی ستائش محض ایک بے ثمر تمغہ رہے گی۔

دوسری طرف، مغربی سرحدوں پر تاریخ ایک ایسے ڈرامے کا منظر پیش کر رہی ہے جہاں احسان مندی کا نصاب سرے سے مسخ ہو چکا ہے۔ پاکستان نے نصف صدی تک افغان مہاجرین کو اپنی آغوش میں پناہ دی، ان کا مقدمہ دنیا کے ہر فورم پر لڑا اور تاریخ کے مشکل ترین موڑ پر ان کی پشت پناہی کی۔ لیکن کابل کے تخت پر متمکن ہوتے ہی افغان طالبان نے تمام اخلاقی اور برادرانہ اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر محسن ریاست کی پیٹھ میں تزویراتی خنجر گھونپ دیا۔ کابل کی موجودہ سرپرستی میں پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کو نہ صرف محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں بلکہ ہماری سلامتی کے درپے تربیتی کیمپ بھی کھلم کھلا سرگرم ہیں۔ اس جغرافیائی عدم استحکام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے، جس کی کوئی سرحد افغانستان سے نہیں ملتی، وہاں اپنے اثر و رسوخ کے نیٹ ورک قائم کر لیے ہیں تاکہ پاکستان کے خلاف فورتھ جنریشن وارفیئر کو ہوا دی جا سکے۔ سرحدوں کے اس تناؤ کے باعث پاکستانی تاجروں اور زرعی برآمدات کو جو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا ہے، اس نے ہمارے زرعی اور تجارتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

مشرقی محاذ پر بھی بھارت نے واٹر وار یعنی پانی کی جارحیت کو تیز کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کا جو شوشہ چھوڑا ہے، وہ پاکستان کی زرعی بقا کو براہِ راست نشانہ بنانے کی سازش ہے۔ پانی کا یہ بحران محض ایک تکنیکی تنازع نہیں بلکہ ہماری قومی زندگی کی شہ رگ پر وار ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کابل اور نئی دہلی کے ان دونوں معاندانہ محاذوں پر اپنی حالیہ بین الاقوامی ساکھ کو سفارتی دباؤ کے طور پر استعمال کرے۔ دوست ممالک اور عالمی ثالثی اداروں کے تعاون سے بھارت کو پانی کی چوری سے روکنا اور افغان قیادت کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ مستقل جنگیں کبھی خوشحالی کا متبادل نہیں بن سکتیں، اصل طاقت مکالمے کی میز پر ہی عود کر آتی ہے۔ اس سلسلے میں چین کا ماڈل ہمارے لیے فکری مشعلِ راہ ہے، جس نے اپنے تمام پیچیدہ سرحدی تنازعات کو پسِ پشت ڈال کر اپنی تمام تر صلاحیتیں داخلی معاشی اصلاحات اور انسانی وسائل کی ترقی پر مرتکز کیں، اور آج وہ دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرا ہے۔

علاقائی اور عالمی سطح پر کامیابیوں کا یہ پورا فکری تانا بانا اس وقت تک ادھورا رہے گا جب تک ہم اپنے داخلی سیاسی انتشار کا علاج دریافت نہیں کر لیتے۔ جو قائدانہ فہم و تدبر اور تزویراتی مہارت امریکہ، اسرائیل اور ایران جیسے ازلی حریفوں کے مابین مصالحتی پل تعمیر کر سکتی ہے، وہی فکری صلاحیت ہمارے اپنے سیاسی رہنماؤں کو ایک میز پر بٹھانے کے لیے کیوں ناکام رہتی ہے؟ پاکستان کا معاشی بحران دراصل ہمارے سیاسی انتشار کا عکس ہے۔ وقت کا ناگزیر تقاضا ہے کہ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز، مقتدر ادارے اور سیاسی قیادت ذاتی انا اور ماضی کی تلخیوں کو فراموش کر کے ایک طویل المدتی ‘میثاقِ معیشت’ پر دستخط کریں۔ جب تک داخلی طور پر سیاسی استحکام کا پودا پروان نہیں چڑھے گا، تب تک بین الاقوامی سفارت کاری کے ثمرات عام پاکستانی کے دستِرخوان تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ فکری انتشار کا خاتمہ اور معاشی بقا کے لیے قومی یکجہتی کا یہ راستہ اب محض ایک متبادل انتخاب نہیں، بلکہ ہماری بقا کی واحد اور آخری شرط ہے۔

( کالم نویس پاکستان فیڈرل یونین آف کالمسٹ اینڈ کریئیٹرز (PFUC) ( کراچی چیپٹر ) کے پہلے منتخب صدر ہیں )

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے