مقبوضہ مشرقی القدس: مقبوضہ مشرقی القدس میں آج صبح سے تقریباً 2300 اسرائیلی آبادکار زبردستی مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطینی حکام نے اسے رواں سال کی سب سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ یہ واقعہ یہودی مذہبی تہوار تشا بِآؤ (Tisha B’Av) کے موقع پر پیش آیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ تہوار یہودی روایات میں مبینہ طور پر ہیکل کی تباہی کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ یہ مقام مسلمانوں کے نزدیک مسجدِ اقصیٰ جبکہ یہودیوں کے نزدیک ٹیمپل ماؤنٹ کہلاتا ہے۔
اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر بھی سخت پولیس سیکیورٹی میں مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔
یروشلم گورنریٹ کی فلسطینی انتظامیہ کے مطابق غروبِ آفتاب تک احاطے میں داخل ہونے والے اسرائیلی آبادکاروں کی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
بیان کے مطابق اسرائیلی فورسز نے مسجدِ اقصیٰ کے داخلی راستوں اور القدس کے قدیم شہر کے اطراف سخت سیکیورٹی پابندیاں نافذ کر دیں، جبکہ احاطے میں بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کیے گئے اور فلسطینی نمازیوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔
فلسطینی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ صرف محدود تعداد میں فلسطینی فجر کی نماز کے لیے مسجدِ اقصیٰ پہنچنے میں کامیاب ہوئے، جبکہ اسرائیلی فورسز نے متعدد نمازیوں اور مقامی شہریوں پر مبینہ طور پر تشدد بھی کیا۔