امریتا اور ساحر کی پریم کہانی

یہ 1944ء کا واقعہ ہے۔ پریت نگر میں ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا تھا۔ بہت سے لوگ جمع تھے۔ نوجوان ساحر لدھیانوی نے اپنا کلام پیش کیا ۔امریتا پریتم بھی اس مشاعرے میں شریک تھیں۔انہوں جب ساحر کو کلام پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان پر ایک کیفیت طاری ہوگئی۔ دراصل وہ ساحر کی محبت میں گرفتار ہوچکی تھیں۔ شاید اسی کو پہلی نظر کی محبت کہتے ہیں۔

مشاعرے کے بعد ساحر اور امریتا دونوں کی پہلی ملاقات ہوئی۔ اس رات ہلکی ہلکی بارش بھی ہو رہی تھی اور اس رومانوی ماحول میں دونوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہورہی تھیں۔امریتا پریتم نے اپنی کتاب رسیدی ٹکٹ میں لکھا ہے کہ اس رات محفل میں شور شرابہ اتنا تھا کہ وہ اور ساحر آپس میں کوئی بات نہیں کرسکے مگر ان دونوں کی خاموشی ہی ان کی آواز بن گئی۔

میں سوچتا ہوں کہ وہ منظر کتنا دلکش ہوگا جب ساحر اور امریتا ایکدوسرے کی آنکھوں میں ڈوب گئے ہوں گے۔ دنیاو مافیہا سے بے خبر بالکل اسی طرح جیسے فلموں میں رومانوی سین پکچرائز کیے جاتے ہیں۔ پریت نگر کے اس مشاعرے نے دونوں کو ایک کردیا۔

بعض لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ پریت نگر کون سی جگہ ہے۔ دراصل 1936ء میں گور بخش سنگھ نے لاہور اور امرتسر کے درمیان ایک ایسی بستی کی بنیاد رکھی تھی جہاں ادیبوں اور شاعروں کی محفلیں منعقد ہوتی تھیں۔یہ بستی ترقی پسند شاعروں اور ادیبوں کا مرکز تھی۔ گور بخش سنگھ خود بھی ادیب تھے وہ جدید پنجابی ادب کے بانی مانے جاتے ہیں۔ ان کا قائم کیا ہوا پریت نگر خطے کا پہلا ایسا منصوبہ تھا جسے پنجاب کا "شانتی نیکیتن” بھی کہا جاتا تھا۔ جس کا معانی ہیں امن کا گھر یا سکون کی بستی۔ یہ شہر اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ یہاں دو بڑی ادبی شخصیات ساحر اور امریتا کی پہلی ملاقات ہوئی جو محبت میں تبدیل ہوگئی۔

بعد ازاں دونوں ایک دوسرے کو خط لکھا کرتے۔ان دونوں کے خطوط میں رومانوی باتوں کے بجائے ایک خاص قسم کی بے چینی اور گہرائی ہوتی۔دونوں کی ملاقاتیں بھی ہونے لگیں۔ ساحر جب بھی امریتا کے گھر جاتے تو وہ امریتا کو دیکھتے رہتے۔ زیادہ تر خاموش رہتے اور سگریٹ پیتے رہتے ۔جس کے دھوئیں سے ایسا گمان ہوتا کہ جیسے ہر طرف بادل چھا گئے ہوں۔ امریتا کے دل میں بھی ساحر کا بڑا مقام تھا۔ وہ ان کے معاملے میں بے حد جذباتی تھیں۔ ساحر کے جانے کے بعد وہ ان کی پی ہوئی سگریٹ کے ٹکڑوں کو سنبھال کر رکھتیں اور ان کی سگریٹ پیا بھی کرتیں ان کا کہنا تھا کہ وہ اس طرح سے ساحر کو محسوس کرنا چاہتی ہیں۔

ساحر بھی امریتا کے معاملے میں بہت حساس تھے۔جب وہ بمبئی کے ایک فلیٹ میں رہنے لگے تھے۔ایک مرتبہ امریتا ان سے ملنے آئی تھیں اور انھوں نے ساحر کے فلیٹ پر کافی بھی پی تھی۔ امریتا کے جانے کے بعد ساحر نے وہ کپ احتیاط سے رکھ دیا تھا ۔

ایک گانے کی دھن بنانے کے لیے جب موسیقار جے دیو ساحر کے فلیٹ میں آئے تو ان کی نظر ایک پرانے کپ کہ پر پڑی۔ جے دیو نے اس کپ کو اٹھا کر اسے صاف کرنا چاہا لیکن ساحر نے انھیں جذباتی ہوکر روک دیا اور کہا کہ

"اس کپ کو چھونا بھی مت جب امریتا یہاں آئی تھی اس نے اس کپ میں کافی پی تھی”

ساحر کو اپنی ماں سے بہت محبت تھی۔ ہر بیٹے کو ہی ہوتی ہے مگر وہ انہیں اپنی جاگیر کہا کرتے تھے۔ ان کی ماں نے اپنی زندگی کو ان کے لیے وقف کردیا تھا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ساحر کی شادی اسی وجہ سے بھی نہیں ہوسکی کہ وہ اپنی ماں سے حد سے زیادہ پیار کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ ساحر نے اپنی ماں سے امریتا کا ذکر کیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ ایک لڑکی مجھے بہت پسند ہے۔

تقسیم کے بعد ساحر کچھ عرصہ لاہور میں رہے لیکن ان کی انقلابی شاعری کی وجہ سے ان کو گرفتار کرنے کے وارنٹ جاری کردیے گئے تھے۔ اور وہ دہلی چلے گئے تھے اور اس کے بعد وہ 1949ء میں انھوں نے بمبئی کا رخ کیا۔ جہاں انھوں نے فلموں کے لیے گانے لکھنے شروع کیے۔ بطور فلمی شاعر ان کی پہلی فلم آزادی کی راہ پر تھی لیکن ان کے گانوں کو باقاعدہ پذیرائی ایس ڈی برمن کی موسیقی میں بننے والی فلم بازی سے ملی۔

پھر معروف ہدایت کار اور اداکار گرو دت کی فلم پیاسا کے گانے بھی بہت مشہور ہوئے اس کی موسیقی بھی ایس ڈی برمن نے دی تھی۔جس کے گانا

"یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے”
بہت مشہور ہوا۔ موسیقار روی کے لیے ساحر کا گانا

اے جان وفا یہ ظلم نہ کر
غیروں پہ کرم اپنوں پہ ستم

جیسے دلکش اور خوبصورت گانوں نے فلمی دنیا میں ساحر کو اس مقام پر پہنچا دیا جہاں کوئی اور ان کی جگہ نہ لے سکا۔

ساحر نے پھر کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ان کے گانے اردو سینما کے لیے بے مثال اور لازوال ثابت ہوئے ان کے لکھے ہوئے گانے

جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا اور
کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے

کےلیے فلم فئیر جیسے مستند ایوارڈ سے انھیں نوازا گیا۔

دوسری طرف امریتا دہلی میں ساحر کی جدائی میں نظمیں اور کہانیاں لکھتی رہیں۔ امریتا کی زیادہ تر تخلیق میں ساحر کی ہی جھلک نظر آتی ہے۔
تقسیم کے حوالے سے "اج آکھاں وارث شاہ نوں” امریتا کی مشہور پنجابی نظم ہے لیکن بعض لوگوں کے خیال میں اس کا پس منظر بھی ساحر ہیں اس نظم کا اردو ترجمہ دیکھیے۔

"میں نے اپنے وجود کا سارا کپڑا ،تمہاری محبت کے رنگ میں رنگ دیا ہے ۔اب اس میں سے تمہاری ہی خوشبو آتی ہے۔”

دوسری طرف ساحر بمبئی میں رہتے ہوئے اپنے اکیلے پن کا اظہار امریتا سے خط لکھ کر کیا کرتے تھے۔ ایک خط میں وہ لکھتے ہیں کہ

"امریتا یہاں سب کچھ ہے کامیابی ہے نام ہے لیکن جب میں شام کو اپنے کمرے میں واپس آتا ہوں تو یہاں صرف تمہاری یادوں کی دھند ہوتی ہے”

ایسا نہیں ہے کہ ساحر اور امریتا کی زندگی میں اور لوگ نہ آئے ہوں مگر اس کالم میں صرف امریتا اور ساحر کی پریم کہانی کا ذکر کیا گیا ہے جو بہت مشہور ہوئی۔ یہ دونوں، دوکناروں کی طرح ساتھ تو چلے مگر ہمیشہ کے لیے یکدوسرے سےکبھی مل نہیں سکے اور اگر مل جاتے تو شاید آج یہ ساحر اور امریتا کی کہانی امر نہ ہوپاتی اور میں اس کہانی پر کالم نہ لکھ پاتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے