22 سزائے موت کے بعد جج سے 100 مقدمات واپس

بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج روی کمار دیواکر کی عدالت میں زیرِ سماعت تقریباً 100 قتل کے مقدمات انتظامیہ کے حکم کے تحت واپس لے لیے گئے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق دیواکر کی فاسٹ ٹریک عدالت نے گزشتہ 4 ماہ کے دوران 10 مقدمات کے فیصلے سناتے ہوئے مجموعی طور پر 22 افراد کو سزائے موت دی تھی۔

بھارتی سرکاری وکیل کلدیپ کمار کے مطابق ایسے مقدمات جن میں سزائے موت یا عمر قید کی سزا ممکن تھی، انہیں فاسٹ ٹریک عدالت سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج وریندر کمار سنگھ کی عدالت منتقل کر دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع بار ایسوسی ایشن کے صدر پرمود تیاگی نے بتایا ہے کہ وکلاء اور فریقین میں یہ خدشات پیدا ہو گئے تھے کہ اس عدالت کی جانب سے مزید سزائے موت کے فیصلے آ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ضلعی جج نے منگل کو انتظامی حکم جاری کرتے ہوئے مقدمات اپنی عدالت میں واپس منگوا لیے ہیں۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ دیواکر کی عدالت نے گزشتہ 4 ماہ میں 10 مقدمات کے فیصلے سنائے تھے جن میں 22 افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے