کارپوریٹ غلامی سے باہر خواتین کی حقیقی خود مختاری کی بحالی

انسانی تاریخ میں فریب کار کرداروں کی طرف سے گھڑی گئی جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں (بیانیوں) سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں۔ اکثر جو تصورات ابتدا میں مخلص لوگوں نے پیش کیے، انہیں بعد میں مفاد پرست اور دھوکے باز عناصر اور تنظیموں نے قوموں کو گمراہ کرنے اور مظلوم طبقے پر ظلم ڈھانے کے لیے استعمال کیا۔ مثال کے طور پر انسانی حقوق کا ڈھونگ، جسے مغربی دارالحکومتوں اور سرمایہ دار طبقے کی طرف سے بھاری فنڈز فراہم کیے جاتے ہیں۔

اس کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ جو بڑی طاقتیں خود قوموں پر بمباری کرتی ہیں، انہیں قتل کرتی ہیں اور ایٹمی ہتھیار استعمال کرتی ہیں، وہی دوسری طرف انسانی حقوق کی علمبردار بنی پھرتی ہیں۔ اسی طرح دنیا میں برابری کا بیانیہ بھی عام ہے، لیکن وہ ہمیشہ سیاسی برابری کی بات کرتے ہیں مگر معاشی برابری کا نام تک نہیں لینا۔

یہی معاملہ موسمیاتی تبدیلی کا ہے۔ زمین کا ماحول دراصل خلا، سمندروں اور زمین کے اندر کیے جانے والے ایٹمی تجربات کی وجہ سے تباہ ہوا ہے، جبکہ عوام کو یہ دھوکہ دیا جاتا ہے کہ اصل مسئلہ موسمیاتی انصاف ہے۔ دراصل موسمیاتی انصاف ان بڑی طاقتوں پر لاگو ہونا چاہیے جو عام طور پر ایٹمی تجربات کرتی ہیں۔

یہی حال خواتین کے حقوق، ان کی برابری اور مالی خودمختاری کے مسئلے کا بھی ہے۔ یہ دراصل خواتین کے خلاف ایک گہری سازش ہے کیونکہ وہ خاندانی نظام کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ مغربی خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے، اس لیے وہاں عورت اب ایک محض جنس یا شے (کموڈٹی) بن چکی ہے جو احترام اور عزت کی بجائے اجرت، تنخواہوں اور نوکریوں کے پیچھے بھاگتی ہے۔ پرانے زمانوں میں عورت خاندان کی سربراہ اور محور ہوتی تھی۔

تاریخ اور روایتی نظام کے حوالے سے دیکھا جائے تو قبائلی اور روایتی نظام میں خواتین کے لیے بے پناہ خوبیاں اور احترام موجود تھا۔ روایتی قبائلی ڈھانچے میں، خاص طور پر تاریخی معاشروں میں، معمر خواتین کو گہرا گھریلو اور سماجی اقتدار حاصل تھا۔ وہ خاندانی اتحاد، وسائل کی تقسیم اور تنازعات کے فیصلوں میں فیصلہ کن اثر و رسوخ رکھتی تھیں۔ قبائلی نظام نے خواتین کو رشتہ داروں کے ایک ایسے مضبوط سماجی نیٹ ورک میں پرویا ہوا تھا جہاں بیواؤں، مطلقہ خواتین اور غیر شادی شدہ بیٹیوں کی اجتماعی کفالت کی جاتی تھی، نہ کہ انہیں تنہائی یا غیر محفوظ صنعتی مزدور بننے کے لیے چھوڑ دیا جاتا تھا۔ روایتی معاشروں نے خواتین کو ثقافتی ورثے، روایات اور اخلاقی فیصلوں کا امین بنایا، جس سے انہیں ایک ایسا بلند سماجی مقام ملا جو صرف معاشی پیمانوں سے بالاتر تھا۔

علاوہ ازیں، مذاہب نے بھی خواتین کو جائیداد میں حقوق، سماجی رتبے اور تحفظات سے نوازا۔ کلاسیکی دینی فقہ نے مال اور جائیداد کی مکمل علیحدگی کا اصول قائم کیا، جس کے تحت خواتین کو ان کے ذاتی مال، وراثت کے حصوں اور حق مہر کا بلا شرکت غیرے مالک بنایا گیا، جس کے لیے کسی مرد کی ضمانت یا شوہر کی رضامندی کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ مذہبی نظاموں نے ایسے قانونی راستے فراہم کیے جن کے ذریعے خواتین اپنے قانونی دعوے دائر کر سکتی تھیں، تجارتی معاہدے کرتی تھیں، اور مقررہ ثالثوں یا عدالتوں کے ذریعے خودمختارانہ طریقے سے نکاح کا خاتمہ یا خلع حاصل کر سکتی تھیں۔ روایتی تعلیمات نے عورت کے وقار کو اس کی مارکیٹ میں پیداواری صلاحیت سے نہیں بلکہ اس کے سماجی اور خاندانی مقام سے وابستہ کیا، اور اسے صنعتی نظام کی ایک بے جان پیداواری اکائی بننے سے بچایا۔

جب ہم خدائی اصولوں اور روایتی تحفظات کی طرف پلٹتے ہیں تو خواتین کے حقوق کا اصل راستہ واضح ہو جاتا ہے۔ الہٰی اور روایتی نظاموں نے ہمیشہ خواتین کو گھر کے محترم ستون کے طور پر برقرار رکھا، انہیں مالی حقوق کی ضمانت دی، مکمل معاشی خود مختاری اور غیر مشروط سماجی تحفظ سے نوازا۔ اس کے برعکس، جدید مغربی نظریات نے ان تمام تقدس اور تحفظات کو چھین لیا ہے، اور خواتین کو خاندان کے پُرسکون سائے سے نکال کر استحصال پر مبنی کارپوریٹ دوڑ اور ظالمانہ پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے