نوجوان: مردانگی سے زنخے پن تک کا سفر

یہ جو سامنے دبلا پتلا، مہین جسم والا، کمر لچکا لچکا کر ناچنے والا، ڈھول کی تھاپ پر تھرکنے والا اور ساز کی آواز پر کولہے مٹکانے والا نظر آ رہا ہے۔۔۔ ذرا غور سے دیکھیے! یہ نہ تو کوئی ہیجڑا ہے اور نہ ہی کوئی خاتون رقاصہ۔ یہ ہمارا آج کا نوجوان ہے۔

کبھی نوجوان رعب و دبدبے کی علامت ہوا کرتے تھے۔ ان کی نظروں کی تاب لانا مشکل ہوتا تھا۔ نوجوان جنگجو ہوتے تھے۔ تلوار بازی، تیر اندازی اور نشانہ بازی ان کے لیے قابلِ فخر مہارتیں ہوا کرتی تھیں۔ نوجوان جراح ہوتے تھے، طبیب ہوتے تھے، تاجر ہوتے تھے، مبلغ ہوتے تھے۔ نوجوان سیاست میں متحرک ہوتے تھے اور ملکوں اور قوموں کے لیے تحریکوں کے بانی ہوا کرتے تھے۔

تاریخ اٹھا کر دیکھیے تو نوجوانوں نے بڑے بڑے معاشروں کی سمت تبدیل کی ہے۔ تاریخ کے بڑے موڑوں پر نوجوان صرف تماشائی نہیں رہے، بلکہ انہوں نے خود میدان میں اتر کر حالات کا رخ بدلا۔ سلطنتوں کے قیام سے لے کر جنگوں تک، علمی تحریکوں سے لے کر سیاسی جدوجہد تک، نوجوان ہر دور میں تبدیلی کی قوت رہے ہیں۔

اسلامی تاریخ میں حضرت اسامہ بن زیدؓ کا نام سامنے آتا ہے، جنہیں کم عمری میں ایک لشکر کی قیادت سونپی گئی۔ محمد بن قاسم نے نوجوانی میں سندھ کی مہم کی قیادت کی۔ سلطان محمد فاتح نے نوجوانی میں قسطنطنیہ فتح کیا۔ ایسے بے شمار نوجوان گزرے ہیں جنہوں نے کم عمری میں علم، سیاست، طب، تجارت، دعوت اور میدانِ جنگ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان نوجوانوں کے لیے جوانی صرف عمر کا ایک حصہ نہیں تھی، بلکہ یہ قوت، ہمت، عزتِ نفس، ذمہ داری اور مقصد کی علامت تھی۔

یہ صرف اسلامی تاریخ کی بات نہیں۔ دنیا کی تقریباً ہر تہذیب میں ایسے نوجوان گزرے ہیں جنہوں نے کم عمری میں اپنے عہد پر گہرا اثر چھوڑا۔
مقدونیہ کا سکندرِ اعظم نوجوانی ہی میں فتوحات کے ایسے سلسلے پر نکلا جس نے قدیم دنیا کے بڑے حصے کا سیاسی نقشہ بدل دیا۔ فرانس کی ژاں دارک نوعمری میں فرانسیسی مزاحمت کی علامت بن گئی اور جنگی قیادت میں نمایاں ہوئی۔ ہندوستان میں چھترپتی شیواجی نے نوعمری ہی میں اپنی سیاسی اور عسکری قوت منظم کرنا شروع کر دی اور کم عمری ہی میں اپنی حکمرانی کا دعویٰ کیا۔

سکھ تاریخ میں گرو گوبند سنگھ کی مثال سامنے ہے۔ وہ صرف نو برس کی عمر میں سکھوں کے دسویں گرو بنے۔ بعد میں انہوں نے خالصہ کی تشکیل کی اور سکھ برادری کو ایک منظم روحانی اور عسکری قوت میں ڈھالنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

یہ وہ نوجوان تھا جس کے لیے زندگی کا مطلب صرف اپنی ذات نہیں تھا۔ اس کے سامنے خاندان تھا، معاشرہ تھا، قوم تھی، وطن تھا، علم تھا، دین تھا، تجارت تھی اور ایک مقصد تھا۔

لیکن نہ جانے کب وہ زمانے لد گئے۔

وہ وجاہت، خوب رُوئی، مردانگی، رعب اور دبدبہ سب قصۂ پارینہ ہوتے چلے گئے۔

آخر یہ تبدیلی کب آئی؟ کیسے آئی؟

پہلے نوجوانوں کی عزتِ نفس ہوا کرتی تھی۔ ان کی ایک شان ہوا کرتی تھی۔ ان کی ایک آن بان ہوا کرتی تھی۔ وہ اپنی حرکات و سکنات میں بھی اپنی شخصیت اور وقار کا خیال رکھتے تھے۔ آج جب شادیوں کی تقریبات اور مہندیوں میں نوجوانوں کو عورتوں اور خواجہ سرا افراد کے انداز میں ناچتے ہوئے دیکھتا ہوں تو شرم آتی ہے، چاہے وہ اپنی فیملی کی تقریب ہو یا کسی دوسرے کی۔ جس مہارت اور لوچ کے ساتھ، اور جس بے شرمی اور بے حیائی کے ساتھ، بعض نوجوان اپنی عزتِ نفس، اپنی شان اور اپنی آن بان کو روندتے ہوئے ناچتے ہیں، زمین بھی سوچتی ہوگی کہ میں پھٹ جاؤں۔

شاید اس کا آغاز اس وقت ہوا جب معاشرہ بتدریج جسمانی محنت اور جنگی تربیت سے دور ہو کر شہری زندگی اور مشینی دور میں داخل ہوا۔ پھر فلم، ٹیلی وژن، فیشن اور اشتہارات نے نوجوانوں کے حلیے اور شخصیت کے تصورات کو بدلنا شروع کیا۔ سوشل میڈیا نے اس تبدیلی کو ایک نئی رفتار دے دی۔

آج دنیا کے ایک کونے کا فیشن دوسرے کونے کے نوجوان کے لباس اور حلیے کا حصہ بن جاتا ہے۔ بالوں کے انداز سے لے کر لباس تک، چال ڈھال سے لے کر گفتگو تک، نوجوان اپنے اردگرد کے معاشرے سے زیادہ اسکرین پر دکھائی دینے والی دنیا سے متاثر ہوتا ہے۔
اور پھر ایک سوال سامنے آتا ہے۔

آج کا نوجوان دیکھنے میں نوجوان کم اور زنخا زیادہ لگتا ہے۔ مردانگی کے بجائے ہیجڑا پن اس کے اندر نمایاں ہے۔

یہ صرف لباس اور حلیے کا سوال نہیں۔ یہ اس ذہنی تبدیلی کا سوال ہے جس نے نوجوان کے سامنے مردانگی کے روایتی تصور کو ہی مشکوک بنا دیا ہے۔

کبھی نوجوان کے لیے مضبوط جسم باعثِ فخر تھا۔ کشتی، پہلوانی، تیر اندازی، گھڑ سواری اور نشانہ بازی جیسی مہارتیں نوجوان کی تربیت کا حصہ سمجھی جاتی تھیں۔

آج جسمانی طاقت کے بجائے ظاہری نمائش زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ آئینے کے سامنے وقت گزارنا، تصاویر بنانا، سوشل میڈیا پر اپنی شخصیت پیش کرنا اور فیشن کے بدلتے رجحانات کے ساتھ خود کو ڈھالنا نوجوان زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔

مردانگی کا مطلب صرف طاقت نہیں تھا۔ مردانگی کا مطلب ذمہ داری بھی تھا۔ اپنے خاندان کے لیے کھڑا ہونا، مشکل وقت میں ثابت قدم رہنا، کمزور کی حفاظت کرنا، اپنے فیصلوں کی ذمہ داری قبول کرنا، ناکامی سے نہ گھبرانا اور مقصد کے لیے قربانی دینا۔

قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ جب نوجوان بیدار ہوتے ہیں تو معاشرے حرکت میں آتے ہیں، تحریکیں جنم لیتی ہیں، انقلاب آتے ہیں، علم آگے بڑھتا ہے اور قومیں اپنی سمت تبدیل کرتی ہیں۔

اسی لیے اصل سوال نوجوان کے لباس یا حلیے سے بھی بڑا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہمارے نوجوان کے اندر وہ مقصد کہاں گیا جو کبھی اسے اپنی ذات سے آگے دیکھنا سکھاتا تھا؟

آخر وہ نوجوان کہاں گیا جو قوموں کی تقدیر بدلنے کے لیے میدان میں اترا کرتا تھا؟

اور سب سے اہم سوال یہ ہے کہ مردانگی سے زنخے پن تک کا یہ سفر آخر کب شروع ہوا؟

کیا آپ کے پاس اس سوال کا جواب ہے؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے