پشتو ادب کے ایک صاحبِ علم، صاحبِ فکر اور کثیرالجہت ادیب، سید طاہر بخاری، آج ہم سے رخصت ہوگئے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔
ان کی وفات محض ایک ادیب اور شاعر کی وفات نہیں، بلکہ پشتو کے ایک ایسے ادبی عہد کے اختتام کا سانحہ ہے جس میں تخلیق، تحقیق، تنقید، ترجمہ اور تصوف ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔
سید طاہر بخاری کا شمار پشتو کے ان اہلِ قلم میں ہوتا ہے جنہوں نے خود کو کسی ایک صنفِ ادب تک محدود نہیں رکھا۔ وہ شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، مترجم اور نقاد تھے۔ پشاور یونیورسٹی کے تحقیقی جریدے Pukhtunkhwa Journal میں شائع ہونے والے ڈاکٹر بشریٰ اکرام کے تحقیقی مقالے کے مطابق، طاہر بخاری 1930ء میں لاہور، ضلع صوابی کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام سید محمد شاہ بخاری تھا اور ان کا تعلق تحصیل لاہور، صوابی کے گڑھی چم سے بتایا گیا ہے۔ مذکورہ مقالے میں ان کی تاریخِ پیدائش 15 اکتوبر 1930ء درج ہے۔
سید طاہر بخاری ’’ہوشیار بادشاہ‘‘ کے نام سے بھی خاص و عام میں معروف تھے۔ ڈاکٹر نورالرحمٰن سحر کی تحقیق کے مطابق انہوں نے صرف و نحو اور عربی کی دیگر کتب کی تعلیم مولانا عبدالوهاب لوند خوڑ، مردان، سے حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے پشتو آنرز کیا، جب کہ دیگر علمی مراحل پشاور یونیورسٹی سے بحیثیت پرائیویٹ طالب علم طے کیے۔ بعد ازاں محکمۂ آرکائیوز، خیبرپختونخوا، سے وابستہ ہوئے اور 1980ء میں ملازمت سے ریٹائر ہوئے۔
طاہر بخاری کی ادبی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی افسانہ نگاری ہے۔ ان کے افسانوں میں انسان، معاشرہ، مساوات، وطن دوستی، پشتون ثقافت، لوک روایت اور انسانی زندگی کے مختلف مسائل موضوع بنتے ہیں۔ تحقیقی مطالعات میں انہیں پشتو کے اہم افسانہ نگاروں میں شمار کیا گیا ہے، جب کہ ان کے طویل افسانوں کو بھی خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
تاہم طاہر بخاری کو صرف افسانہ نگار کہنا ان کی ہمہ جہت ادبی شخصیت کو محدود کرنا ہوگا۔ وہ ایک سنجیدہ نقاد، محقق اور ادبی مفکر بھی تھے۔ ان کی اہم کتاب ’’تنقید او ادبي مفردات‘‘ 2016ء میں پشاور سے شائع ہوئی۔ پشتو کے تحقیقی و تنقیدی لٹریچر میں اس کتاب کے حوالے ملتے ہیں اور بعد کے ناقدین نے بھی اس سے استفادہ کیا ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد نے انہیں 2016ء میں اجمل خٹک ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا۔
ان کی تنقیدی فکر کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ وہ ادبی اصطلاحات کو محض خشک نظری مباحث کے طور پر نہیں دیکھتے تھے، بلکہ انہیں تخلیقی عمل، شاعر کے اسلوب اور ادبی اظہار سے جوڑ کر دیکھتے تھے۔ ’’اسلوب‘‘ کے بارے میں ان کی توضیح میں یہ تصور نمایاں ہے کہ شاعر یا ادیب کا مخصوص طرزِ اظہار ہی اسے دوسروں سے ممتاز کرتا اور اس کی ادبی شناخت تشکیل دیتا ہے۔
ان کا ترجمہ نگاری کا کام بھی نہایت اہم تھا۔ ڈاکٹر بشریٰ اکرام کے مطابق انہوں نے حمزہ بابا کی متعدد کتابوں کے پشتو سے اردو اور اردو سے پشتو تراجم کیے۔
یہاں طاہر بخاری کی شخصیت کا ایک اور اہم پہلو سامنے آتا ہے: وہ صرف حمزہ بابا کے مترجم نہیں تھے، بلکہ حمزہ شناسی کی ایک مضبوط روایت کے امین بھی تھے۔ مختلف ادبی حوالوں میں انہیں حمزہ بابا کا مرید، جانشین اور صاحبِ نسبت ادیب قرار دیا گیا ہے۔ 2009ء اور 2014ء میں حمزہ بابا کے بالترتیب پندرہویں اور بیسویں یومِ وفات کی تقریبات کی صدارت بھی طاہر بخاری نے کی۔
حمزہ بابا کے علمی و ادبی ورثے کے حوالے سے ان کی خدمات کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ ’’مکتوباتِ حمزہ شنواری‘‘ کی تدوین و اشاعت کے حوالے سے ان کا نام بطور مرتب اور پیش لفظ نگار آتا ہے۔ 2025ء کے ایک تحقیقی مقالے میں اس کتاب کا حوالہ ’’مکتوباتِ حمزہ شنواری، پیش لفظ: طاہر بخاری، آرٹ پشتون، پشاور، 2016ء‘‘ کے طور پر دیا گیا ہے۔
ان کا تعلق صرف حمزہ بابا کی شاعری تک محدود نہیں تھا، بلکہ حمزہ بابا کے تصوف، فکر اور ادبی روایت سے بھی ان کی گہری وابستگی تھی۔ ایک ادبی ماخذ میں حمزہ بابا کی روحانی روایت کے سلسلے میں سید طاہر بخاری کا ذکر خصوصی احترام کے ساتھ کیا گیا ہے۔
طاہر بخاری کی علمی دلچسپیوں کا ایک اور ثبوت حضرت علیؓ کی سوانح اور نہج البلاغہ سے متعلق ان کا کام بھی ہے۔ ایک تفصیلی تحریر کے مطابق حمزہ بابا کی ’’سپېڅلې ویناوې‘‘ کے بعض حصوں کے ترجمے اور تدوینی کام میں طاہر بخاری نے معاونت کی، جب کہ حضرت علیؓ کی سوانح کے ترجمے کا کام بھی ان سے منسوب کیا گیا ہے۔
یہ تمام پہلو مل کر طاہر بخاری کی ایک ایسی جامع تصویر پیش کرتے ہیں جس میں تخلیق کار، مترجم، نقاد، محقق، صوفیانہ فکر سے وابستہ ادیب اور حمزہ شناس ایک ہی شخصیت میں جمع نظر آتے ہیں۔
ادبی تاریخ میں بعض لوگ اپنی کتابوں سے زیادہ اپنی ادبی روایت کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔ طاہر بخاری بھی غالباً اسی قبیل کے لوگوں میں شمار ہوں گے۔ انہوں نے صرف لکھا نہیں، بلکہ ایک مضبوط ادبی سلسلے سے اپنی وابستگی قائم رکھی؛ اپنے سے پہلے آنے والے بڑے ادیبوں کے کام کو سمجھا، اس کی تشریح کی اور اسے نئی نسل تک پہنچانے کی کوشش کی۔
آج جب وہ ہم میں نہیں رہے تو ان کے افسانے، ان کی تنقید، ان کے تراجم اور خصوصاً حمزہ بابا سے ان کی گہری وابستگی ان کی یاد کو زندہ رکھیں گے۔ سید طاہر بخاری کی وفات پشتو ادب کے لیے یقیناً ایک بڑا نقصان ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کے پسماندگان، احباب اور تمام اہلِ ادب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔