داماد ہو تو ایسا، گھر جنت بن جائے

ازدواجی زندگی پھولوں کی سیج نہیں، بلکہ محبت، برداشت، ایثار اور سمجھ داری کا ایسا سفر ہے جس میں کبھی خوشیوں کے چراغ روشن ہوتے ہیں اور کبھی معمولی اختلاف کی وجہ سے دلوں پر بوجھ آجاتا ہے۔ دو مختلف گھروں، مختلف مزاجوں اور مختلف عادات کے ساتھ پروان چڑھنے والے دو انسان جب ایک چھت کے نیچے زندگی شروع کرتے ہیں تو اختلاف کا پیدا ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔ اصل امتحان اختلاف کا نہیں، بلکہ اختلاف کے ساتھ رشتہ نبھانے کا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بہت سے گھر صرف اس لیے بے سکونی کا شکار ہیں کہ میاں بیوی معمولی باتوں کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں۔ ایک جملہ دوسرے جملے کو جنم دیتا ہے، خاموشی ناراضی میں بدلتی ہے، ناراضی شکایت بنتی ہے اور پھر معاملہ شوہر اور بیوی سے نکل کر دونوں خاندانوں تک پہنچ جاتا ہے۔ جو بات چند لمحوں کی گفتگو سے ختم ہوسکتی تھی، وہ کبھی کبھی برسوں کی دوری کا سبب بن جاتی ہے۔

ایسے ماحول میں ہمیں سیرتِ نبوی ﷺ کے ایک نہایت خوب صورت واقعے سے رہنمائی ملتی ہے۔ حضرت سہل بن سعدؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہؓ کے گھر تشریف لائے تو حضرت علیؓ وہاں موجود نہ تھے۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ’’تمہارے چچا زاد کہاں ہیں؟‘‘ حضرت فاطمہؓ نے عرض کیا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ بات ہوگئی تھی، وہ ناراض ہوکر باہر چلے گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے ایک شخص کو حضرت علیؓ کو تلاش کرنے کے لیے بھیجا۔ معلوم ہوا کہ وہ مسجد میں آرام فرما رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ وہاں تشریف لے گئے، حضرت علیؓ کی پشت پر مٹی لگی ہوئی تھی۔ آپ ﷺ محبت سے وہ مٹی صاف کرتے ہوئے فرماتے تھے: ’’اٹھو، اے ابو تراب!‘‘ یہ واقعہ صحیح بخاری میں متعدد مقامات پر منقول ہے۔

ذرا غور کیجیے! گھر میں میاں بیوی کے درمیان ’’کچھ بات‘‘ ہوگئی۔ ناراضی ہوئی، حضرت علیؓ گھر سے نکل گئے، مگر معاملہ دشمنی میں تبدیل نہیں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس اختلاف کو تماشہ نہیں بنایا، کسی ایک فریق کو سب کے سامنے قصوروار قرار نہیں دیا، بلکہ محبت اور حکمت کے ساتھ معاملہ سنبھالا۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جس میں آج کے خاندانوں کے لیے ایک بڑا سبق پوشیدہ ہے۔

دامادو! بیوی آپ کی ماتحت نہیں، آپ کی شریکِ حیات ہے۔ وہ اپنے والدین، بہن بھائیوں اور پورے ماحول کو چھوڑ کر آپ کے ساتھ زندگی گزارنے آتی ہے۔ اس کے لیے شوہر صرف گھر کا کفیل نہیں، بلکہ تحفظ، اعتماد اور محبت کا مرکز بھی ہونا چاہیے۔ اختلاف ہوجائے تو آواز بلند کرنا، دروازے پٹخنا، طعنے دینا، پرانی باتیں دہرانا اور بیوی کے والدین کو برا بھلا کہنا مردانگی نہیں۔ اصل قوت یہ ہے کہ انسان غصے میں بھی اپنی زبان کو قابو میں رکھے۔

بعض شوہر معمولی اختلاف کے بعد بیوی کو یہ احساس دلانے لگتے ہیں کہ ’’یہ میرا گھر ہے، تمہیں میری بات ماننا ہوگی۔‘‘ گھر یقیناً شوہر کی ذمہ داری ہے، مگر گھر حکم چلانے سے نہیں، اعتماد سے چلتا ہے۔ ایک نرم جملہ کبھی وہ کام کر دیتا ہے جو سخت الفاظ کی پوری تقریر نہیں کرسکتی۔ کبھی ’’چلو، اس بات کو چھوڑ دیتے ہیں‘‘ کہنا رشتہ بچا لیتا ہے، جبکہ ’’میں تمہیں دیکھ لوں گا‘‘ جیسے جملے دل میں ایسی دراڑ ڈال دیتے ہیں جو وقت کے ساتھ بھی آسانی سے نہیں بھرتی۔

اور بیویوں سے بھی عرض ہے! ہر اختلاف کو فوراً والدین کے گھر کی عدالت میں لے جانا بھی مسئلے کا حل نہیں۔ شوہر کی ہر کمزوری ماں کو، ہر تلخی بہن کو اور گھر کی ہر بات سہیلیوں کو بتا دینا بعض اوقات ایک چھوٹے مسئلے کو بڑا بنا دیتا ہے۔ میاں بیوی کے درمیان کچھ باتیں ایسی بھی ہونی چاہئیں جو گھر کی چار دیواری میں رہیں۔ رشتہ راز داری، اعتماد اور پردہ پوشی سے مضبوط ہوتا ہے۔

اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ظلم، تشدد، مسلسل بدسلوکی یا کسی سنگین زیادتی پر خاموشی اختیار کی جائے۔ جہاں جان، عزت یا بنیادی حقوق کا مسئلہ ہو وہاں خاندان کے سمجھ دار افراد، معتبر اہلِ علم یا متعلقہ قانونی و حفاظتی اداروں سے مدد لینا ضروری ہے۔ لیکن ہر معمولی ازدواجی اختلاف کو جنگ بنا دینا بھی دانش مندی نہیں۔

ساس اور سسر کے لیے بھی اس واقعے میں سبق ہے۔ بیٹی کی شکایت سن کر فوراً داماد کو مجرم سمجھ لینا درست نہیں۔ والدین کا فرض ہے کہ بیٹی کی بات سنیں، مگر جذبات کے بجائے حکمت سے کام لیں۔ کبھی بیٹی کو صبر کی تلقین کرنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی داماد کو محبت سے سمجھانا۔ مقصد کسی ایک فریق کو شکست دینا نہیں بلکہ ایک گھر کو بچانا ہونا چاہیے۔

اسی طرح داماد کے والدین کو بھی سمجھنا چاہیے کہ بہو کسی مقابلے کے لیے گھر میں نہیں آئی۔ وہ بھی کسی کی بیٹی ہے، اس کے احساسات ہیں، اس کی عزت ہے، اس کی اپنی شخصیت ہے۔ اگر ہر چھوٹی بات پر ساس بہو کا محاذ بن جائے اور شوہر کو انتخاب کرنا پڑے کہ وہ کس کا ساتھ دے، تو گھر سکون کی جگہ میدانِ کشمکش بن جاتا ہے۔

ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ آج کے دور میں موبائل فون اور سماجی ذرائع ابلاغ نے ازدواجی اختلافات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ پہلے گھر کی ناراضی گھر تک محدود رہتی تھی، اب ایک غصے میں لکھی ہوئی تحریر، ایک صوتی پیغام یا ایک تصویر کئی لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ میاں بیوی کو یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ غصے کے وقت لکھا ہوا لفظ بھی کبھی کبھی تلوار سے زیادہ گہرا زخم لگا دیتا ہے۔

گھر بنانے کے لیے بڑی بڑی قربانیاں ہمیشہ ضروری نہیں ہوتیں۔ کبھی ایک خاموشی، ایک معذرت، ایک مسکراہٹ، ایک گلاس پانی اور ایک جملہ ’’چلیں، اس بات کو ختم کرتے ہیں‘‘ گھر کے ماحول کو بدل دیتا ہے۔ رشتہ جیتنے کے لیے ہر بحث جیتنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات ایک قدم پیچھے ہٹ جانا شکست نہیں بلکہ تعلق کی حفاظت ہوتی ہے۔

حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کا گھر امت کے لیے محبت، سادگی اور پاکیزہ ازدواجی زندگی کی روشن مثال ہے۔ ان کے درمیان بھی انسانی زندگی کے تقاضوں کے مطابق ناراضی کا ایک موقع آیا، مگر اس ناراضی نے رشتے کو ختم نہیں کیا۔ نبی کریم ﷺ نے محبت اور حکمت کے ذریعے ماحول کو سنبھالا۔ یہی اصل سبق ہے: اختلاف ہوسکتا ہے، مگر اختلاف کو دشمنی بنانا ضروری نہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم شادی کو صرف دو افراد کا تعلق نہ سمجھیں بلکہ اسے دو خاندانوں، دو مزاجوں اور دو زندگیوں کے باہمی سفر کے طور پر دیکھیں۔ شوہر اگر بیوی کی عزت کرے، بیوی شوہر کی عزت کرے، سسرال والے حدود اور احترام کو سمجھیں، والدین جذبات کے بجائے حکمت سے کام لیں اور ہر فریق اپنی زبان پر پہرا دے تو بہت سے گھر ٹوٹنے سے بچ سکتے ہیں۔

آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ داماد ہو تو ایسا کیوں؟ سوال یہ بھی ہے کہ بیوی ایسی کیوں نہ ہو، ساس ایسی کیوں نہ ہو، سسر ایسے کیوں نہ ہوں اور والدین ایسے کیوں نہ ہوں؟ گھر کسی ایک فرد کے اچھے کردار سے نہیں، سب کے اچھے رویوں سے جنت بنتا ہے۔

رشتے اینٹوں سے نہیں بنتے، رویوں سے بنتے ہیں؛ گھر دولت سے نہیں، سکون سے آباد ہوتا ہے؛ اور سکون وہاں اترتا ہے جہاں محبت کے ساتھ برداشت، اختلاف کے ساتھ حکمت اور ناراضی کے ساتھ درگزر موجود ہو۔

شاید ہمارے بہت سے اجڑتے ہوئے گھروں کو کسی بڑے فلسفے کی نہیں، صرف ایک چھوٹے سے جملے کی ضرورت ہے: ’’چھوڑیے، کچھ بات ہوگئی تھی۔‘‘ اور شاید کسی ناراض دل کو صرف اتنا سننے کی ضرورت ہو: ’’اٹھو، اے ابو تراب!‘‘

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے