حامد میر کی تاریخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا

پاکستان میں صحافیوں کے ساتھ ہمارا رویہ بھی عجیب ہے۔ جب کوئی صحافی ہمارے پسندیدہ سیاسی رہنما کے حق میں بات کرے تو وہ اصول پسند، بہادر اور حق گو ہوتا ہے، لیکن جیسے ہی اس کا کوئی سوال یا تجزیہ ہماری سیاسی سوچ سے ٹکراتا ہے، وہی صحافی متنازع، جانبدار اور قابلِ نفرت بن جاتا ہے۔ حامد میر کے حالیہ معاملے میں بھی یہی سوال اہم ہے کہ ہم ان کے کسی بیان سے اختلاف کر رہے ہیں یا اختلاف کی بنیاد پر ان کی پوری صحافت کو مشکوک بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟

حامد میر نے ایک حالیہ گفتگو میں کہا کہ بعض صحافیوں کو سیاسی جماعتوں کے خلاف ٹویٹس کرنے کے لیے پانچ سے چھ لاکھ روپے ملتے ہیں۔ اس بیان پر سوال اٹھانا اور ثبوت طلب کرنا بالکل جائز ہے۔ لیکن اگر انہوں نے کسی شخص کا نام نہیں لیا تو سوشل میڈیا پر اپنی طرف سے نام جوڑ کر اسے حامد میر کا براہِ راست الزام قرار دینا بھی درست نہیں۔ دعوے کی تصدیق ضروری ہے، مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی کے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش نہ کیا جائے۔

فیصل واوڈا کے ساتھ پروگرام اور سیاسی یادداشت

حالیہ بحث میں فیصل واوڈا کے ساتھ حامد میر کے پروگرام کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے یہ بات بیان کی گئی کہ پی ٹی آئی کا ایک رہنما فیصل واوڈا کے ساتھ پروگرام میں شرکت پر ناخوش ہوا اور وہاں سے چلا گیا۔ متعلقہ رہنما کی شناخت کی تصدیق کے بغیر اس واقعے کو حتمی حقیقت کے طور پر لکھنا مناسب نہیں، لیکن اس سے جڑا سوال ضرور اہم ہے: کیا کسی سیاسی رہنما کے ساتھ بیٹھنا کسی صحافی یا دوسرے مہمان کے لیے قابلِ اعتراض ہونا چاہیے؟

فیصل واوڈا بھی پاکستانی سیاست کا ایک معروف نام ہیں۔ وہ ماضی میں تحریک انصاف کے رہنما اور وفاقی وزیر رہ چکے ہیں، جبکہ بعد میں ان کے سیاسی مؤقف اور پارٹی سے تعلقات میں تبدیلی آئی۔ اسی طرح عمران خان بھی برسوں تک مختلف صحافیوں کے پروگراموں میں شریک ہوتے رہے، انٹرویوز دیتے رہے اور میڈیا کو سیاسی مکالمے کا ذریعہ بناتے رہے۔

سیاسی تعلقات بدلتے رہتے ہیں۔ آج جو شخص قابلِ قبول ہے، کل اس سے اختلاف ہو سکتا ہے۔ لیکن صحافت کا معیار یہ نہیں ہونا چاہیے کہ صحافی کس کے ساتھ بیٹھا، بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ اس نے کیا سوال کیا، کیا جواب ملا اور اس نے حقائق کے ساتھ کیا برتاؤ کیا۔

اگر کسی صحافی کے فیصلے پر تنقید کرنی ہے تو اس کی بنیاد واضح ہونی چاہیے۔ محض کسی مہمان کے نام سے صحافی کی وفاداری کا فیصلہ کرنا صحافت کو سیاسی وابستگیوں کے تابع کر دیتا ہے۔

حامد میر کی تاریخ کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا

حامد میر کی صحافتی زندگی میں ایسے واقعات موجود ہیں جنہیں محض آج کے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

26 نومبر 2012 کو اسلام آباد میں ان کی گاڑی کے نیچے دھماکا خیز مواد نصب پایا گیا، جسے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے ناکارہ بنا دیا۔ 19 اپریل 2014 کو کراچی میں ان پر فائرنگ ہوئی اور انہیں چھ گولیاں لگیں۔ اس حملے کے بعد ان کے خاندان کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی عدالتی تحقیقات ہوئیں، لیکن کمیشن نے ان الزامات کو ثابت شدہ نہیں مانا۔

مئی 2021 میں صحافی اسد طور کے حق میں احتجاج کے دوران فوج پر تنقید کے بعد حامد میر کو جیو نیوز کے پروگرام ’’کیپیٹل ٹاک‘‘ سے ہٹا دیا گیا۔ مئی 2024 میں انہوں نے دوبارہ دھمکیوں کی شکایت کی، جس پر کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے تحقیقات اور ان کی حفاظت کا مطالبہ کیا۔

یہ واقعات حامد میر کے ہر بیان کو درست قرار دینے کے لیے پیش نہیں کیے جا رہے۔ ان کا مقصد صرف یہ یاد دلانا ہے کہ ایک صحافی کے کیریئر کا جائزہ لیتے وقت اس کی پوری تاریخ دیکھی جانی چاہیے، نہ کہ صرف وہ ایک جملہ جو کسی سیاسی گروہ کو ناگوار گزرا ہو۔

صحافی سے اختلاف کیجیے، اسے نشانہ مت بنائیے

حامد میر کے تجزیے پر تنقید ہو سکتی ہے۔ ان کے دعووں کے شواہد مانگے جا سکتے ہیں۔ ان کے سیاسی مؤقف سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہی آزادیٔ اظہار ہے۔

لیکن اگر ہر اختلاف کو کردار کشی میں بدل دیا جائے، اگر ہر سوال کرنے والے کو کسی کا ایجنٹ قرار دیا جائے اور اگر ہر غیر پسندیدہ بات کو سازش سمجھ لیا جائے تو پھر آزاد صحافت کے لیے جگہ کہاں بچے گی؟

یہ اصول حامد میر کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا سلیم صافی، عمران ریاض خان یا کسی دوسرے صحافی کے لیے۔ کسی بھی صحافی کے خلاف مالی مفادات یا سیاسی وابستگی کے الزامات ہوں تو انہیں ثبوت کے ساتھ پرکھنا چاہیے۔ نہ شہرت کسی کو تنقید سے بالاتر بناتی ہے، نہ مخالفت کسی کو بے بنیاد الزام لگانے کا حق دیتی ہے۔

حامد میر کی حمایت کا مطلب ان کی ہر بات کی توثیق نہیں؛ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان سے اختلاف دلیل کے ساتھ کیا جائے، ان کے خلاف الزامات ثبوت کے ساتھ لگائے جائیں اور صحافت کو سیاسی وفاداریوں کی جنگ نہ بنایا جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے