سیاست کی بساط پر بازی گروں کی چالیں

ہم سب کئی برسوں سے خصوصی طور پر پاکستان میں سیاست کی بساط پر سجے مہروں کو آگے بڑھتے، پیچھے ہٹتے اور کبھی دائیں، کبھی بائیں حرکت کرتے دیکھتے اور ان کی چالوں کے قصے سنتے اور دیکھتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا طویل کھیل ہے جس میں کچھ سیاسی شہسوار اور مشیران کے مشوروں اور اپنی ہی چالوں میں الجھ کر شکست کھا جاتے ہیں، جبکہ کچھ اپنی ذہانت، تدبر اور حالات کے مطابق حکمتِ عملی بدلنے کی صلاحیت کے باعث مسلسل میدان میں موجود رہتے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ نئے کھلاڑی بھی چاہے وہ ایک ہی خاندان کے ہوں یا باہر سے لائے گئے ہوں ، اس بساط پر اُتر آتے ہیں یا اُتاردیے جاتے ہیں۔ انہیں بھی موقع اور کھلا میدان ملتا ہے۔ ان میں سے بھی کوئی اپنی حکمتِ عملی سے کامیابی سے آگے بڑھ جاتا ہے، تو کوئی اپنی غلطیوں کے باعث مات کھا جاتا ہےاور اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود سیاسی بصیرت کی کمی، تدبر کے فقدان اور عاقبت نااندیشی کے باعث وہ زیادہ دیر تک اپنی جگہ برقرار نہیں رکھ پاتے اور اس کھیل سے باہر ہو جاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سیاست کی بساط پر کامیابی و ناکامی، عروج و زوال اور آمد و رفت کھیل کا حصہ ہیں، مگر تاریخ کا اصل سوال یہ نہیں کہ کس نے کتنی چالیں چلیں یا کتنی بار مات دی، بلکہ یہ ہے کہ اس نے ملک و قوم کو کیا دیا؟ کئی دہائیوں سے اقتدار میں آنے والی تجربہ کار سیاسی قیادت، عوام کو سستا اور فوری انصاف، معیاری تعلیم، بہتر علاج، بنیادی سہولیات اور مؤثر سرکاری ادارے فراہم کرنے میں کتنی کامیاب ہوئی؟ کیا عوام کے حقوق کا تحفظ اور عام آدمی کی زندگی میں کوئی حقیقی مثبت تبدیلی ممکن ہو سکی؟ عمومی تاثر یہی ہے کہ عوامی مسائل کے حل اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بجائے سیاسی ایوان اکثر ذاتی مفادات، مراعات اور باہمی الزام تراشی کا مرکز بنے رہے، جبکہ عام شہری آج بھی بنیادی سہولیات کے لیے مشکلات کا شکار ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری عوام کی زندگیوں میں کتنی بہتری لا سکی؟

یہ بات بھی واضح ہے کہ وقت کے ساتھ سیاست دان اور اقتدار کے چہرے بدل جاتے ہیں، مگر حکمرانوں کی اصل پہچان ان کے اقتدار کی مدت نہیں، بلکہ ان کی کارکردگی اور عوام کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے اثرات ہوتے ہیں۔ تاریخ بالآخر یہی دیکھتی ہے کہ کون اقتدار میں آیا اور چلا گیا، اور کون عوامی فلاح و بہبود کے لیے کوئی قابلِ قدر ورثہ چھوڑ گیا۔ یہ سوالات تنقید برائے تنقید نہیں، بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی، مؤثر عوامی خدمت اور روشن قومی مستقبل کو جانچنے کا پیمانہ ہیں۔

پہلا اور بنیادی مسئلہ نظامِ انصاف کا ہے۔ انصاف کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد اور ریاست پر عوام کے اعتماد کا سب سے اہم ستون ہوتا ہے۔ لیکن پاکستان میں مقدمات کے طویل دورانیے، عدالتی تاخیر اور انصاف کے حصول میں درپیش مشکلات ایک دیرینہ مسئلہ ہیں۔ عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی بڑی تعداد اس صورتِ حال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک عام شہری کے لیے انصاف کا حصول اگر برسوں پر محیط جدوجہد بن جائے تو اس کے لیے محض قانونی حق کا موجود ہونا کافی نہیں رہتا۔ سوال یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی، فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اور کمزور و بے وسیلہ افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمارے سیاسی قائدین نے اپنی ترجیحات میں اس مسئلے کو کتنی اہمیت دی ہے؟

دوسرا اہم مسئلہ نظامِ تعلیم کا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر وزارتوں، محکموں، تعلیمی بورڈز اور دیگر متعلقہ اداروں کا وسیع انتظامی ڈھانچا موجود ہے، لیکن اس کے باوجود سرکاری تعلیمی اداروں میں نصاب، تدریس کے معیار، اساتذہ کی تربیت، تعلیمی سہولیات اور طلبہ کی عملی استعداد کے حوالے سے ناقص پالیسی کے باعث متعدد چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ دوسری جانب نجی تعلیمی اداروں میں بعض جگہ بہتر تعلیمی سہولیات اور معیاری تدریس میسر تو ہیں، لیکن بھاری فیسوں اور دیگر اخراجات نے معیاری تعلیم کو بہت سے خاندانوں کی دسترس سے باہر کر دیا ہے۔ بعض اداروں میں تعلیم کے نام پر وصول کیے جانے والے بے تحاشا اخراجات بھی ایک سنجیدہ سوال ہیں۔ تعلیم اگر قوم کی تعمیر کا بنیادی ذریعہ ہے تو پھر معیاری تعلیم تک رسائی محض صاحبِ استطاعت طبقے کا یہ استحقاق کیوں محدود رہے؟ کیا ریاست اور منتخب نمائندوں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ سرکاری تعلیمی نظام کو مؤثر بنائیں اور نجی تعلیمی اداروں میں فیسوں، معیار اور ضابطوں پر مؤثر نگرانی یقینی بنائیں؟ لیکن یہاں بھی مکمل خاموشی نظر آتی ہے۔

تیسرا بنیادی مسئلہ صحت اور عوام کی روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ وفاقی اور صوبائی سطح پر وزارتوں، محکموں اور نگران اداروں کی موجودگی کے باوجود جعلی ادویات، غیر معیاری مصنوعات اور مضرِ صحت اشیائے خورونوش کی روک تھام ایک اہم چیلنج ہے۔ ادویات سے لے کر روزمرہ استعمال کی اشیا، مثلاً صابن، ٹوتھ پیسٹ، گھی، تیل اور مصالحہ جات تک، ان کے معیار اور صحت و سلامتی کے تقاضوں کی مؤثر نگرانی ناگزیر ہے۔ عام بازاروں اور پرچون کی دکانوں پر فروخت ہونے والی اشیا کے معیار کو دیکھتے ہوئے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ متعلقہ ادارے اپنے فرائض کس حد تک مؤثر انداز میں انجام دے رہے ہیں؟ معیاری اور محفوظ اشیا کی فراہمی محض کاروباری معاملہ نہیں، بلکہ عوام کی صحت اور زندگی کے تحفظ کا مسئلہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ نگرانی کے نظام کو فعال بنایا جائے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو اور صارفین کے حقوق کا حقیقی تحفظ یقینی بنایا جائے۔

یوں تو عوامی مسائل بے شمار ہیں، تاہم یہ تین اہم شعبے حکمرانی کے معیار، ریاستی ترجیحات اور سیاسی قیادت کی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کے لیے کافی اہم ہیں۔ سیاست کا اصل مقصد محض اقتدار کا حصول یا حکومتوں کی تشکیل و تبدیلی نہیں، بلکہ عوام کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنا، بنیادی حقوق کا تحفظ، اداروں کی اصلاح اور قومی وسائل کو اجتماعی فلاح کے لیے بروئے کار لانا ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی طرح پاکستان میں بھی لوکل گورنمنٹ سسٹم، مکمل طاقت و اختیارات کے ساتھ بحال اورمضبوط کیا جائے تو یقینا نتائج بہترنکل سکتے ہیں مگر اس عمل کے لیے اہل اقتدار کی مخلصی اہم ہوگی۔

یہ حقیقت بھی قابلِ غور ہے کہ سیاست دان اپوزیشن میں رہ کر نظام کی خرابیوں اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا ذکر تو چیخ چیخ کر کرتے ہیں، لیکن اقتدار میں آکر وہی خرابیاں دل و دماغ اور نظروں سے بھی غائب ہوجاتی ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ سیاست میں اختلاف، مقابلہ اور اقتدار کی کشمکش جمہوری عمل کا حصہ ہیں۔لیکن سیاست کی اصل کامیابی کسی مخالف کو مات دینے میں نہیں، بلکہ عوام کی مشکلات کم کرنے، ان کی زندگیوں میں آسانی لانے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر مستقبل تعمیر کرنے میں ہے۔ تاریخ نعروں اور دعووں سے زیادہ ان عملی اقدامات کو یاد رکھتی ہے جو قوم کے مسائل اور ان کی تقدیر بدلنے میں معاون ثابت ہوں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے