امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے خفیہ معلومات ذرائع ابلاغ کو فراہم کرنے کے الزام میں امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے برطرف کر دیا۔
حکام کے مطابق بریٹ سلویا پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف میں اہم عسکری منصوبہ بندی کے عہدے پر تعینات تھے، ان کی برطرفی خفیہ معلومات افشا کرنے کے شبے میں جاری تحقیقات کے دوران اب تک کی اہم ترین کارروائیوں میں سے ایک ہے۔
امریکی وزیرِ دفاع نے خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کی نشاندہی کے لیے پینٹاگون میں خصوصی ٹاسک فورس قائم کر رکھی ہے، جبکہ اعلیٰ فوجی حکام کے پولی گراف ٹیسٹ بھی لیے جا رہے ہیں۔
پینٹاگون کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر الزام عائد کیا ہے کہ بریٹ سلویا خفیہ معلومات افشا کرنے سے متعلق 3 پولی گراف ٹیسٹ میں ناکام رہے، جس کے بعد قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ان کی فوری برطرفی کا فیصلہ کیا گیا۔
بریٹ سلویا جوائنٹ اسٹاف کے ڈائریکٹوریٹ فار اسٹریٹجی، پلانز اینڈ پالیسی کے سربراہ تھے، یہ اہم عہدہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کو عسکری حکمتِ عملی اور منصوبہ بندی کے حوالے سے مشاورت فراہم کرتا ہے، وہ اس سے قبل امریکی فوج کے 101ویں ایئر بورن ڈویژن کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل کے مطابق بریٹ سلویا کے خلاف فضائیہ کے دفتر برائے خصوصی تحقیقات نے تفصیلی تحقیقات کیں، جبکہ یہ معاملہ ممکنہ قانونی کارروائی کے لیے امریکی محکمۂ انصاف کو بھی بھیج دیا گیا ہے۔
پینٹاگون کے ترجمان نے کہا ہے کہ خفیہ معلومات افشا کرنے والوں کو تلاش کرنے کا وعدہ محض بیان نہیں تھا بلکہ اس پر عمل کیا جا رہا ہے۔