دارالامانوں کی ابتر صورتحال،،زرا سوچئیے

پاکستان اور بالخصوص پختون معاشرے میں حساس ہونا بہت بڑے المیے پیدا کرتا ہے اور اگر حساس شخصیت مرد کے بجائے عورت کی ہوتو پھر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے اور یہ خمیازہ انہیں گھر سے دوری اور دارالامانوں تک پہنچا دیتا ہے -مرد اپنے کلچر کی پروا نہیں کرتے لیکن جب اسی کلچر کیخلاف ورزی کوئی خاتون کرے تو پھر اس پر زندگی کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں- بچپن کی شادی ، پسند کی شادی ، گھریلو تشدد اورمیاں بیوی کے مابین ہم آہنگی نہ ہونا ایسے واقعات ہیں جن کی وجہ سے آج خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں سینکڑوں بچیاں مر جاتی ہیں بہت کم ایسی ہوتی ہیں جنہیں عدالتوں تک رسائی مل جاتی ہے اور پھر انہیں عدالتیں انصاف کے حصول تک دارالامان تک پہنچا دیتی ہیں لیکن یہی مسائل اگر کسی مرد کے ساتھ ہو ں تو اس کیلئے ہمارے پختون معاشرے میں کلچر ہی الگ ہے- اگر کوئی مرد بچپن کی شادی سے انکار کرے تو کچھ نہیں جاتا ، پسند کی شادی کرے تو اس کیلئے کوئی قانون نہیں ، بیوی ، بہن ، ماں اور بیٹی پر تشدد کرے تو یہ اس کا حق ہے اگر بیوی کیساتھ اس کی ہم آہنگی نہ ہو تو اسے چھوڑ دینا اس کا حق ہے لیکن یہی حق کسی خاتون کو حاصل نہیں کیونکہ وہ عورت ہے جسے کمزور سمجھا اور کہا جاتا ہے – اتنی کمزور کہ اسے والد کی جائیداد میں حق نہیں دیا جاتا ، اتنی کمزور کہ اسے سورے میں دیا جاتا ہے ، اتنی کمزور کہ اسے تعلیمی میدان میں پیچھے چھوڑا جاتا ہے اور وہ آواز نہیں اٹھا سکتی اور اگر آواز اٹھا لے تو پھر اس کیلئے یا تو موت ہے یا پھر دارالامان…

خیبر پختونخوا کے پچیس اضلاع میں صرف چار اضلاع ایسے ہیں جہاں پر سرکاری دارالامان موجود ہیں-ان دارالامانوں کی نگرانی سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ کرتا ہیں اور ان کیلئے ہر سال باقاعدہ فنڈزرکھے جاتے ہیں لیکن سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ ان چار اضلاع جن میں پشاور ، ایبٹ آباد ، مینگورہ اور مردان شامل ہیں میں صرف پشاور میں سرکاری دارالامان موجود ہیں جس کی اپنی بلڈنگ ہیں باقی تینوں اضلاع میں گذشتہ بیس سے تیس سالوں سے یہ دارالامان کام کررہے ہیں لیکن ان کیلئے اپنی بلڈنگ بنانے کیلئے ابھی تک کسی بھی حکومت نے نہیں سوچا ، کیا ان چار اضلاع کے سرکاری دارالامان پورے صوبے میں مسائل کا شکار ہونیوالی خواتین کیلئے بہت ہیں یا پھر جنوبی اضلاع سمیت دیگر علاقوں میں ایسے واقعات نہیں ہوتے جس سے عورت گھر کی دہلیز پار کرنے پر مجبور ہو جائے- یقیناًاس طرح کے واقعات ہوتے ہیں لیکن یا تو رپورٹ نہیں ہوتے یا پھر گھر کی دہلیز پار کرنے والی خواتین سڑکوں یا پھر عدالتوں کے باہر گولیوں کا نشانہ بن جاتی ہیں جسے رپورٹ کرنا بھی اس معاشرے میں بدنامی سمجھا جاتا ہے -حکومت عوام کے جاں و مال کے تحفظ سمیت انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں لیکن ہماری خیبر پختونخواہ کی کیسی حکومت ہے جو اپنی اس ذمہ داری کو پوری کرنے میں ناکام رہی ہیں- سوات میں طالبہ کو جلانے کے واقعے کی مثال لی جائے تو اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ گھر کی دہلیز پار کرنے والی عورت کیلئے تو موت لکھی جاتی ہیں لیکن انہیں سپورٹ کرنے کے الزام میں بھی جنونی لوگ جنونیت کی انتہا کردیتے ہیں-

اپنے حق کیلئے آواز بلند کرنے والی یا مجبوری کے عالم میں گھر سے نکلنے والی خواتین کو جب ان دارالامانوں میں بھیجا جاتا ہے تاکہ ا نکی زندگی کو تحفظ حاصل ہو لیکن یہاں پر انہیں جس صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ ان خواتین کے اپنے گھروں سے بھی بدتر ہوتی ہے-فنڈز ان دارالامانوں کو اتنے ملتے ہیں جس میں تین حصے تو ان دارالامانوں میں کام کرنے والے افراد کی تنخواہوں، کرایوں ، یوٹیلٹی بلز کی ادائیگی میں خرچ ہو جاتا ہے اور صرف ایک حصہ ان خواتین کیلئے بچ جاتا ہے- سال 2014-15 میں خیبر پختونخواہ کی حکومت نے صوبے کے چار دارالامانوں کیلئے دو کروڑ اڑسٹھ لاکھ چھیاسی ہزار چھ سو بانوے روپے مختص کئے – جن میں مردان کا دارالامان بھی شامل ہے جہاں پر اس وقت چالیس کے قریب خواتین موجود ہیں جو مختلف علاقوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کیساتھ آٹھ کم عمر بچے جن میں نومولود بچے بھی شامل ہیں اسی دارالامان میں رہائش پذیر ہیں- اس دارالامان کو ملنے والے چونسٹھ لاکھ بہتر ہزار آٹھ سو روپے میں ساڑھے پانچ لاکھ روپے کرائے کی مد میں ، گیارہ ملازمین کی تنخواہیں اوسطا بیس ہزار کے حساب سے تقریبا ستائیس لاکھ روپے تنخواہوں کی مد میں اور ڈھائی لاکھ روپے سالانہ یوٹیلٹی بلوں کی مد میں خرچ ہوئے ہیںیعنی تقریبا پینتیس لاکھ روپے صرف اس دارلامان کیلئے رکھے گئے سٹاف پر خرچ ہوتے ہیں اب تقریبا چونسٹھ لاکھ روپے میں پینتیس لاکھ روپے نکالے جائیں تو تقریبا تیس لاکھ روپے بچتے ہیں ان چالیس خواتین کیلئے جو اس وقت مردان کے دارالامان میں پناہ کیلئے آئی ہوئی ہیں جن پر اگر سالانہ یہ رقم تقسیم کی جائے تو روزانہ کے حساب سے دو سو ستانوے روپے ایک عورت پر سرکار کا خرچہ آتا ہے-

لیکن ان دو سو ستانوے روپے روزانہ میں عورتوں کو کیا فراہم کیا جائے ، یہ وہ سوال ہے جو نہ صرف بیورو کریٹس کو بلکہ اس صوبے میں کام کرنے والے غیر سرکاری اداروں کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے کیونکہ صبح کے ناشتے سے لیکر دوپہر کا کھانا اور رات کا کھانا اگر اوسط کے حساب سے سو روپے لگایا جائے تو تین سو روپے تو اس مد میں لگ جاتے ہیں- کپڑے ، خواتین کے استعمال کی دیگر اشیاء کہاں سے پوری ہونگی- یہ وہ سوال ہے جس کیلئے بعض اوقات خواتین ممبران اسمبلی بھی ” آف دی ریکارڈ”بہت کچھ کہہ دیتی ہیں لیکن ” آن ریکارڈ”کچھ کہنے سے گریزاں ہوتی ہیں-مردان کی طرح کی صورتحال صوبے کے دیگر دارالامانوں کی بھی ہیں لیکن اس پر کوئی غور نہیں کررہا ہے -حال ہی میں کئے جانیوالے ایک سروے کے مطابق اس وقت سوات کے چار کمروں والے دارالامان میں 70کے قریب خواتین موجود ہیں جن کیلئے صرف چار ٹوائلٹ ہیں اور بدبو اور گندگی سے نہ صرف ان خواتین کا جینا حرام ہے بلکہ یہاں پر رہنے والے کم عمر بچے جن کی پیدائش بھی یہاں پر ہوئیہے کی حالت خراب ہے ، اسی طرح ان خواتین کو روزمرہ اشیاء خود لانی پڑتی ہیں جن میں صابن ، سرف شیمپو تک شامل ہیں جبکہ میڈیکل کی سہولت تک میسر نہیں نہ ہی انہیں میڈیکل چیک اپ ، / قانونی اور ذہنی بہتری کیلئے سائیکاٹرسٹ کی سہولت میسر ہیں اور یہ دارالامان ان خواتین کیلئے جو تحفظ کیلئے یہاں آتی ہیں ایک جیل بن کر رہ گئی ہیں-جبکہ صوبے بھر کے چار دارالامانوں میں سیکورٹی کی صورتحال بھی قابل تعریف نہیں-ان حالات کا ذمہ دار کون ہیں-حکومت ، معاشرہ یا ہمارے اپنے روئیے….

یہ وہ تین سوال ہیں جس پر انفرادی طور پر اس معاشرے کے ہر شخص کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ جن کے روئیوں سے ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں جس کے باعث مجبوری میں خواتین گھروں سے نکل جاتی ہیں-اسی طرح حکومت دعوے تو بہت کرتی ہیں لیکن حقیقت کیا ہے جن کے نام پر ادارے بنے ہیں انہیں ریلیف نہیں مل رہا جبکہ جو ان کے ملازم ہیں وہ ان سب سے بہتر زندگی گزار رہے ہیں-اسیکیساتھ ساتھ غیر سرکاری ادارے بھی”ڈنگ ٹپاؤ” پالیسی کے بجائے اس صورتحال کو بہتر کرنے میں اپنا کردار ادا کریں نہ کہ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہوئے وقت گزار دیں اور صورتحال بد سے بدتر ہو جائے اور پھر ہم کچھ بھی نہ کرسکیں-

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے