کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق کان کنوں کی تعداد 34 ہو گئی، جبکہ متاثرہ کان میں پھنسے دیگر مزدوروں تک پہنچنے کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
صوبائی وزیر برائے مائنز اینڈ منرلز شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ ریسکیو ٹیمیں انتہائی دشوار حالات کے باوجود مسلسل کارروائیاں کر رہی ہیں اور پھنسے ہوئے مزدوروں تک رسائی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جاں بحق کان کنوں کے اہلِ خانہ کے غم میں حکومت برابر کی شریک ہے۔ حکومت نے جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کے لیے فی کس 5 لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کے لیے فی کس 3 لاکھ روپے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حادثے کی ہر پہلو سے تحقیقات بھی کی جائیں گی۔
اس سے قبل کوئلہ کان کے مالک نے بتایا تھا کہ کان میں میتھین گیس بھر جانے کے باعث دھماکا ہوا۔ ان کے مطابق دھماکے کے وقت کان میں 42 مزدور موجود تھے اور تمام مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے ہے۔