والدین اور ہم ؟

ھمارے ھاں والدین سے مراد ماں اور باپ ھوتے ھیں اور اولاد میں بیٹے اور بیٹیاں -لیکن عربی زبان میں والدین کا سلسلہ ماں باپ سے اوپر بھی جاتا ھے –
یعنی ان میں نانا, نانی, دادا,دادی اور اسی طرح اولاد میں پوتا,پوتی, اور نواسہ,نواسی نیچے تک س شامل ھوتے ھیں –

بچہ جب تک اس عمر تک نہ پہنچے جہاں وہ معاملات کے فیصلے خود کرنے کے قابل نہ ھو اس وقت تک لامحالہ اسے ماں باپ کے فیصلوں کے مطابق چلنا چاہیے -لیکن جب وہ سن شعور کوپہنچ جاتا ھے تو ماں باپ کے فیصلوں کی اطاعت اس پر فرض قرار نہی پاسکتی –

ماں باپ بڑھاپے کی اس عمر کو پہنچ چکے ھوتے ھیں یا پہنچ رھے ھوتے ھیں جن کے متعلق قران کریم نے کہا ھے,,

کہ وھاں انسانی عقل اندھی ھوجاتی ھے (68-36)
وہ عمر کا ارذل حصہ ھوتا ھے(5-22)
وھاں انسان اپنا سابقہ علم فراموش کرجاتا ھے 5-22)

قران کریم کی تعلیم تو یہ ھے حضرت ابراھیم نے برملا اپنے باپ کو کہ دیا کہ وہ غلط راستے پر چل رہا ھے اس لیے وہ اسکا حکم ماننے کے لیے تیار نہی ھے –

قران نے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی ھے یعنی انکی ضروریات کا پورا,کرنا جنہیں بوجہ ضعیف العمری خود پورا کرنے کے قابل نہ رھے ھوں نیز یہ بھی کہ ان سے سختی سے پیش نہ آیا کرو –

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے