اپنی شلوار کس کر پکڑیے مولانا

ماروی سرمد اور حافظ حمد الہ کے درمیان جو کچھ ٹی وی کے لائیو پروگرام میں ہوا اگر اس کو دیکھنے کے بعد بھی کسی کا یہ خیال ہے کہ ہم اکیسویں صدی میں بستے ہیں تو اسےخوش گمانی یا اپنے آپ کو دھوکہ دینا کہا جا سکتا ہے.

حافظ حمدالہ صرف ایک شخصیت نہیں ہے بلکہ ایک ایسی سوچ کا نام ہے جو کڑوڑہا اذہان میں پرورش پاتی ہے اور جو اپنے سوا کسی کو نہ تو جینے کا حق دینے کو تیار نظر آتی ہے اور نہ ہی اختلاف رائے کا. پروگرام میں خواتین کو جلائے جانے اور ان کے حقوق غصب ہونے کے حوالے سے بات ہو رہی تھی اور جناب حافظ صاحب کو پتہ نہیں کیوں اس موضوع سے اپنی مردانگی کمزور ہوتی محسوس ہوئی. حالانکہ حافظ صاحب کو اس بات کے ادراک کی اشد ضرورت ہے کہ مردانگی صرف عضو تناصل سے مشروط نہیں ہوتی بلکہ برداشت حوصلہ اور دیگر کئی لوازمات کے مرکب سے مردانگی کا نروان حاصل ہوتا ہے.

امید ہے جلد ہی حافظ صاحب جیسے ذہنی نامردوں کے علاج کیلئے بھی کوئی کشتہ جلد ہی تیار کیا جائے گا. ایک لائیو پروگرام میں ماروی سرمد کو فاحشہ قرار دینا نازیبا کلمات ادا کرنا اور پھر اس پر حملے کی کوشش.اس کے بعد بھی اگر پیمرا کا ادارہ کوئی کاروائی نہ کرے تو اسے بند کر دینا ہی بہتر ہے.

ہونا تو یہ بھی چائیے کہ سپریم کورٹ اس واقعے کا سومو نوٹس لے اور حافظ صاحب سے پوچھے کہ کیا وہ دماغی طور پر تندرست انسان ہیں اور کیا فاحشہ کا لفظ وہ اپنی بہن بیٹی کو بھی غصے کی کیفیت میں کہتے ہیں. ویسے جو زندگی ہمارے ہاں خواتین گزارتی ہیں وہ فاحشہ سے بھی بدتر ہوتی ہے.

یہ واقعہ اس بات کا غماز ہے کہ حافظ صاحب اور ان کے ہمنواوں کو ابھی تک خواتین کے حقوق کے بل کا تصور ہضم نہیں ہوا اور وہ ہر اس آواز کو جبرا خاموش کروانا چاہتے ہیں جو کہ اس معاشرے میں خواتین کو آزادانہ زندگی بسر کرنے دینے کی کوششوں کیلئے اٹھے. ویسے کسی بھی زندہ اور انصاف پسند معاشرے میں حافظ حمد اللہ جیسا شخص خاتون کو دھمکی دینے اس پر حملے کی کوشش میں ابھی تک جیل جا چکا ہوتا لیکن بدقسمتی سے ہمارا معاشرہ غیرت مند ہے.

یہاں فاحشہ کا لقب دینا یا بہن کی گالی دینا غیرت مند ہونے کی سند سمجھی جاتی ہے. عورتوں کے خدو خال کو اور جسمانی اعضا کو بھیڑیوں اور کتوں کی طرح نوچ کھانے والی نگاہ سے دیکھنا پیدائشی حق سمجھا جاتا ہے. اب اسی واقعے کو لے لیجئے اس شرمناک واقعے کی ریکارڈنگ اس وقت یو ٹیوب اور موبائل فونوں پر چلا چلا کر خوب مزے اور گری ہوئی باتیں کی جا رہی ہے. خیر ہم منافقت اور گرے پن کی دبیز چادر تلے رہنے کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ فاحشہ یا شلوار اتار دینے والے الفاظ ہمیں ہرگز بھی معیوب نہیں لگتے. اور ویسے بھی ماروی سرمد تو کفار کی ایجنٹ ہے جو ان کے کہنے پر انسانی حقوق یا خواتین کے حقوق کی آواز اٹھاتی ہے.اس کو اور جیسی تمام عورتوں کو یہ ملک چھوڑ دینا چاھیے اور مولانا جیسے شدت پسندوں کو کھلی چھوٹ دے دینی چائیے کہ وہ عورتوں کو باندی اور بچوں کو لونڈے بنا کر رکھیں.جب دل چاہے بیچ چوراہے کسی بھی عورت کی شلوار اتار کر اپنی مردانگی اور غیرت مندی کا مظاہرہ کر سکیں. جب جی میں آئے بچوں کا جنسی استحصال کر سکیں.

اس واقعے نے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ دین کے ٹھیکیداروں کو معاشرتی تبدیلیاں ایک آنکھ بھی نہیں بھا رہیں یہ لوگ برسوں سے سادہ لوح افراد کو یہ کیہ کر بے وقوف بناتے آئے ہیں کہ دین کی تشریح بے حد مشکل کام ہے جو ان جیسے مذہبی چورن فروش ہی کر سکتے ہیں.حالانکہ اسلام چند افراد کیلئے نہیں بلکہ تمام عالم انسانی کے لیئے اتارا گیا تھا یہ کیسے ممکن ہے جو مذہب عام انسانوں کیلئے اتارا گیا ہو وہ عام آدمی کے فہم سے بالاتر ہو.اور چند ٹھیکیدار اس کے مالک بن کر اپنی اپنی من پسند تشریحات کر کے معاشرے میں بگاڑ پیدا کریں.

عورت کو نہ تو کل اپنے حقوق یا آزادی کی بھیک چاھیے تھی اور نہ آج کیونکہ مرد کی طرح وہ بھی جیتی جاگتی انسان ہے کوئی جانور نہیں جسے مرد بھیک میں حقوق دے سکے.اور نہ ہی مرد اور عورت کے درمیان آقا اور محکوم کا رشتہ ہے. حافظ حمدالہ جیسے لوگوں سے گزارش ہے کہ شلوار اتارنے کا شوق ہے تو اپنے گھروں میں پورا کیجئے نا کہ ٹی وی سکرینوں پر جہاں بچے بچیاں بھی پروگرام دیکھ اور سن رہے ہوتے ہیں.ویسے بھی اسی عورت کی شلوار میں چھپی کوکھ سے آپ اور میں دنیا میں آتے ہیں تو پھر اس کو ایک گالی کس لیئے بناتے ہیں.

رہی بات فاحشہ کی تو فاحشہ اپنا دھندہ ایمانداری سے کر کے گاہکوں کو لذت پہنچاتی ہے نا کہ ان کو بیوقوف.اب جو لوگ مذہب کے نام پر کڑوڑوں روپیہ بٹورتے ہیں اور اس کی غلط تشریح عوام تک پہنچاتے ہیں کیا ایک انتہائی معیوب لفظ "بھڑوا” ان کیلئے بھی موجود نہیں ہے. فطرت کا قانون تبدیلی ہے اور اس قانون کو آج تک کوئی بدل نہیں سکا یمارے معاشرے میں بھی یہ تبدیلی آ چکی ہے جہاں عورتوں کو اپنے حقوق پتا لگ چکے ہیں عوام کو مذہبی چورن فروشوں کی اصلیت پتا چلتی جا رہی ہے.ماروی سرمد جیسی خواتین فطرت کے قانون کے ساتھ کھڑی ہیں اس لیئے ان کی جیت یقینی ہے.حافظ حمداللہ جیسے افراد کو البتہ اب اپنے ازار بند کس کر پکڑنے ہوں گے کیونکہ سچائی جب اپنا آپ منواتی ہے تو بڑوں بڑوں کی شلواریں بیچ بازار اتر جایا کرتی ہیں.

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے