کیا واقعی جمہوریت کوخطرےہے؟

پاکستان کے چند شہروں میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے حق میں آویزاں بینروں سے جمہوریت کا سنگھاسن ڈولنے لگا چند ہی دنوں میں ہونے والے آزاد مبسرین کے تجزیوں اور ٹاک شوز کے اینکروں نے ان بینروں کو جمہوریت کے لئے سنگین خطرہ قرار دیا ہے یقینا افواج پاکستان کو جمہوریت کی بساط لپیٹنے اور اقتدار سنمبھالنے کی دعوت دینا غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہیں۔کیا واقعہ چند بینروں کا آویزاں ہونا جمہوریت کے لئے خطرہ ہے اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہوئے ہمیں پاکستان کی سیاسی تاریخ کی ورق گردانی کرنی ہو گی۔

پاکستان ان چند ریاستوں میں سے ہے جہاں فوجی مداخلت کا عمل بار بار دہرایا جاتا رہا ہے۔ یہاں نئے آرمی چیف کی تقرری موجودہ آرمی چیف کی مدت معیاد میں توسیع سیاسی قیادت اور سیاسی عمل کے لئے ایک چیلنج بن جاتی ہے۔پاک فوج کے سابق سربراہان جنرل ایوب خان،جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کی تقرری پاکستان سیاسی نشیب و فراز اور بلا آخر آمریت کے طویل سائے کی صورت میں نمودار ہوئی۔

اب جبکہ نومبر میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے بعض عناصر پھر سے اسے ایک سیاسی بحران کی شکل لینا چاہتے ہیں جنرل راحیل شریف اپنے پیش رو سربراہان سے یکسر مختلف ہیں۔وہ افواج پاکستان کو پروفیشنلزم کی نئی بلندیوں کی جانب گامزن کر چکے ہیں۔ دہشت گردی کے بارے میں ان کے دو ٹوک موقف نے دہشت گردی کی عفریپ سے نمٹنے کے لئے موثرکامیابیاں حاصل کی ہیں۔

کراچی میں مقتدر حلقوں کے تعاون سے جاری رہنے والی بدامنی کو ایک مربوط آپریشن کے ذریعے ضرب کاری سے ہمکنار کر چکے ہیں۔انہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود پاک چین اکنامک کا ریڈور پر اپنی توجہ مرکوز رکھی۔ اور قبل از وقت انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع کے خواہشمند نہیںاور مقررہ وقت پر ریٹائرمنٹ کو ترجیح دیں گے۔

تو پھر اس صورتحال میں جمہوریت کو کیا خطرات لاحق ہیں ۔سیاسیات کے طالب علم ہونے کے ناطے سے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اگر ہمارے جمہوری حکمرانوں نے جمہوریت کی گردان دہرانے کے بجائے واقعی حقیقی جمہوریت کی مضبوطی کے لئے کام کیا ہوتا تو انہیں ہر گز گھبرانے کی ضرورت نہ تھی۔

مگر ہماری حکمران سیاسی اشرافیہ یہ جانتی ہے کہ آئین کی سر بلندی اور پارلیمنٹ کی مضبوطی فقط ایک نعرہ ہے۔جس پارلیمنٹ میں کورم یہ نشاندہی پر برقرار نہ رہ سکے۔ اور جسکے وزیر اعظم پارلیمنٹ میں تشریف آوری کے بجائے بیرونی دوروں پر شاد رہیں۔

جو حکمران سیاسی قیادت جنرل مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ دائر کرے ۔اور پھر ملزم کو عدالت میں پیش کرنے کے بجائے پروٹوکول کے ساتھ ہسپتال پہنچا دے۔ پھر نام نکلوا کر بیرون ملکفرار کرا دے۔جس پارلیمنٹ کو اراکین الیکشن کمیشن کی تشکیل کے لئے وقت نہ ملے اور جس حکومت کو آٹھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود بلدیاتی اداروں کے منتخب ارکان کے اختیارات منتقل کرنے کی مہلت نہ ہو بلدیاتی اداروں کے اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہونے کو اپنے ذاتی اختیارات اور اقتدار اعلیٰ کے لئے خطرہ سمجھا جاتا ہو یقینا وہ جمہوریت کمزور ہوتی ہے اور چند بینروں کے آویزاں ہونے سے اسکی سانس پھولنے لگتی ہے۔

مسلم لیگ کی تنظیم اور عہدے داروں کو بر خاست ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے۔پارٹی انتخابات کے بجائے نامزدگیوں کے ذریعے کام چلایا جا رہا ہے۔وفاقی دارلحکومت اسلام آباد میںجب سے رہائشی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کے مرکزی دفاتر پر پابندی لگنے کے بعد بڑی سیاسی جماعتیں اپنے صدر دفاتر سے ہی محروم ہیں۔لہذا بڑے بڑے محلات ہی انکی سیاسی سرگرمیوں کا محور ہیں۔جہاں اختلاف کرنے والے نظریاتی کارکنوں کا داخلہ ہی ممنوع قرار دیا جاتا ہے۔

جمہوریت کو خطرہ لاحق نہ ہو اگر سیاسی اشرافیہ اپنے بچوں اور قوم کے بچوں کے مستقبل میں امتیازی سلوک روانہ رکھے ۔اور رہی بات آرمی چیف کی تقرری کی تو افواج پاکستان کے اعلیٰ ترین نصب کے لئے ذاتی پسند نا پسند کے معیار کو چھوڑ کر اعلیٰ عدلیہ کی روایات پر عمل پیرا ہو کر جرنیلوں میں جو سب سے سینئر جنرل کو آرمی چیف کی تقرری کااہل قرار دیا جائے تو ہم اس بے یقینی کی کیفیت سے نکل کر سکتے ہیں۔

ترکی میں فوج کے ایک ٹولے نے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی جسے ترک صدر اردوگان اور جمہوریت پسند عوام نے ناکام بنا دیا۔ترکی میں فوجی بغاوت کے نا کام ہونے اور عوام کے سڑکوں پر آکر مزاحمت کرنے پر پاکستان میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ۔اگر پاکستان میں ایسا عمل دھرایا جائے تو کیا پاکستان کی عوام بھی مزاحمت کا راستہ اختیار کر سکتی ہے یا نہیں؟

پاکستان کے عوام نےمتعدد آمریتوں کے دوران بحالی جمہوریت کے لئے بے مثال قربانیاں دیں۔لیکن چند دہائیوں سے پاکستان کی سیاسی قیادت جمہوریت اور آئین کی سر بلندی کے بجائے راہ فرار اختیار کرتی رہی ترکی کی عوامی مزاحمت کا پہلا سبق یہ ہے کہ قیادت کو خود جمہوریت کےحق میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔اور دوسرا سبق یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کو گلی محلے کی سطح پر منظم ہونا پڑتا ہے۔ ایسی جمہوریت جس میں درمیانے طبقے کی نمائندگی نہ ہو۔ تاجر،کسان، مزدور، نوجوان،خواتین جمہوریت سے مستفیض نہ ہو رہے ہوں وہ جمہوریت اشرافیہ کا ایک کلب تو ہو سکتی ہے۔ عوام کی نمائندہ جمہوریت نہیں کہلا سکتی۔

ترکی اور پاکستان کے موازنہ میں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ بحالی جمہوریت کی صدا ترکی کی مساجد سے بھی بلند ہوئی۔ مذہبی طبقے نے آمریت کا اتحادی بننے کے بجائے عوام آئین اور جمہوریت کا ساتھ دیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے