قبضہ مافیا اور پولیس کے خلاف آئی جی آفس کے باہر وکلاء کااحتجاج ،مطالبات پورے نہ ہونےپروزراعلیٰ ہاوس کے گھیراو کا اعلان

لاہور میں آج پیر کے روز وکلاء نے سی سی پی او لاہورکے خلاف احتجاج کرتے ہوئے آئی جی آفس کا گھیراو کیا ۔ وکلاء کا کہنا تھا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران لاہور ہائی کورٹ بار اور چند بااثر سیاستدانوں کی شہہ پر سخاوت ایڈوکیٹ کی قصور میں واقع 90 کنال زمین پر قابض افراد کی حمایت کر رہے ہیں ۔ وکلاء نے سی سی پی او لاہور پر الزام عائد کیا ہے کہ قبضہ مافیا کو ان کی پشت پناہی حاصل ہے ۔

زمین کے مالک سخاوت ایڈوکیٹ جب آج احتجاج کرتے ہوئے آئی جی آفس پہنچے تو انہیں اور ان کے ساتھیوں کو گیٹ سے اندر داخل ہونے سے روکا گیا۔ وکلاء نے اس پر موقف اپنایا ہے کہ اگر سخاوت ایڈوکیٹ کی زمین واگزر نہ کروائی گئی تو وہ وزیراعلیٰ ہاوس کا گھیراو کریں گے ۔

قبضہ مافیا اور پولیس کے جانب دارانہ رویے کے خلاف احتجاج میں برہان معظم ملک ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، قاسم بھٹہ ایڈووکیٹ ہائی کورٹ، حسن جاوید ملک سابق صدر ینگ لائیرز فورم ، چاکر أعظم ایڈووکیٹ، حسن جاویدایڈوکیٹ ،عبدالصمد ورک ایڈوکیٹ، میاں اعظم ایڈوکیٹ ،عمران اسلم کھرل ایڈووکیٹ سمیت ڈیڑھ سو کے لگ بھگ وکلاء شریک تھے۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ ہماری گزشتہ 10 دن سے مسلسل فریاد کے بعد دو دن پہلے سی سی پی او لاہور نے ہمیں کورا جواب دے دیا اور کہا کہ وہ یہ قبضہ نہیں چهڑا سکتے ہیں ۔ اس پر وکلاء نے مطالبہ آئی جی کے پاس پیش ہونے کا مطالبہ کیا لیکن انہیں اندرداخل نہیں ہونے دیا گیا۔

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے نمائندوں نے احتجاجی وکلاء سے مذاکرات کے بعد ان کے پانچ نمائندوں کو اندر جانے کی اجازت دے دی تھی ۔

سی سی پی او لاہور کے خلاف احتجاج کے دوران سابق وائس چئیرمین پاکستان بار کونس برہان معظم ملک ایڈوکیٹ نے اپیل کی ہے کہ آئی جی پنجاب ہمارے مطالبات پورے کریں اور سی سی پی او کو حکم جاری کریں کہ قبضہ مافیا سے زمین چھڑا کراصل مالکان کے حوالے جائے اور قبضہ مافیا کے کارندوں کو قانون کے حوالے کیا جائے

خیال رہے کہ اس احتجاج کے حوالے ابھی تک پولیس یا مخالف فریق کا موقف سامنے نہیں آیا ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے