‘دشمن سن لے! پاکستان ناقابل تسخیر ہے’

[pullquote]راولپنڈی: پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے 6 ستمبر کو قومی تاریخ کا تابناک دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے مضبوط تھا اب ناقابل تسخیر ہے۔[/pullquote]

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ پاکستان گذشتہ کئی سالوں سے غیر روایتی جنگ کا شکار تھا تاہم قوم اور فوج نے اس کا بھر پور دفاع کیا۔

آرمی چیف نے کہا کہ جنگ ستمبر ہماری قومی تاریخ کا روشن باب ہے، شہدا کی بدولت آج ہم آزاد اور باوقار ملک میں رہ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ دن پاکستان کی قومی تاریخ کا تابناک دن بن چکا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ چند سال پہلے ہم روزانہ کی بنیاد پردہشت گردی کاشکار تھے تاہم 2 سال قبل شروع ہونے والے آپریشن ضرب عضب میں اپنے اہداف حاصل کرلیے ہیں۔


ان کا کہنا تھا کہ ضرب عضب کی کامیابی تینوں مسلح افواج کے درمیان باہمی تعاون کا نتیجہ ہے، جس میں 19 ہزار آپریشنز کے ذریعے فوجی جوانوں نے دہشت گردی پر قابو پایا۔ انھوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ قومی سلامتی کی خاطر کسی بھی حد تک جائیں گے۔

آرمی چیف نے قوم پر واضح کیا کہ ملک کولاحق اندرونی اور بیرونی خطرات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے ہیں، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قوانین اور نظام کی کمزوریوں کو دور کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر افواج پاکستان کے بارے میں بدگمانی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ رواں رکھے جانے والے ہندوستانی فورسز کے غیر انسانی سلوک کی نشاندہی کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آزادی کا حق مانگنے والے کشمیری بدترین ریاستی ظلم کاشکار ہیں۔


انھوں نے کہا کہ ‘کشمیر ہماری شہہ رگ ہے، پاکستان تحریک آزادی کی حمایت جاری رکھے گا’۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ سی پیک پورے خطے کی خوشحالی میں مددگار ثابت ہوگا اور کسی طاقت کو سی پیک کے راستے میں رکاوٹ بننے نہیں دیں گے۔ انھوں نے پاکستان کے دشمنوں پر واضح کیا کہ ‘دوستی نبھانا بھی جانتے ہیں اور دشمنی کا قرض اتارنا بھی آتا ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اگر ہم جیت سکتے ہیں توجیت کی حفاظت بھی کرسکتے ہیں’۔ آرمی چیف نے اے پی ایس، باچا خان یونیورسٹی سمیت دیگر شہداء کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے قوانین اور نظام انصاف کی کمزوریوں کو دور کرنا ضروری ہے۔
جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ‘واضح کرتا ہوں کہ افغانستان برادر اسلامی ملک ہے اور تمام ترخلوص کے ساتھ اس میں امن کے قیام کیلئے کام کررہے ہیں جبکہ مفاد پرست عناصر پاک افغان تعلقات میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں’۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک میں خوشگوار تعلقات امن اور معاشی ترقی کیلئے فائدے مند ہے۔

yadgar e shohda raheel sharif

اس سے قبل پاک فوج کے چاق و چوبند دستے کی پریڈ کے بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے یادگار شہداء پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ تقریب میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف، وزیردفاع خواجہ آصف اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ سمیت دیگر اعلیٰ عسکری اور سول قیادت موجود تھی۔ اس کے علاوہ تقریب میں فوجی افسران اور ان کے اہل خانہ کی بڑی تعداد بھی شریک تھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے