اقوام متحدہ اور اسلامی سربراہی کانفرنس کشمیر کیلئے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کریں . اقبال انسٹیوٹ فار ڈائیلاگ

کشمیرمیں حالیہ تحریک اور بیرون ملک کشمیریوں کا کردار کے حوالے سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں اقبال انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کے زیر اہتمام سیمنار کا انعقاد کیا گیا ۔

سیمینار سے برطانوی رکن پارلیمان لارڈ نذیر نذیر احمد ، ریکٹر بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ڈائیلاگ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد ڈاکٹر حسن الامین ، پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے ڈائریکٹر محمد عامر رانا ، سرینگربار ایسوسی ایشن کے صدر سید بابر قادری ایڈوکیٹ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔

مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر میں جاری ظلم اور بربریت کی وجہ سے پاکستان سمیت عالمی برادری میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ بھارتی فورسز کی طرف سے ممنوعہ پیلٹ گن کا استعمال قابل مذمت ہے جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں کشمیری بینائی سے محروم اور معذور ہو گئے ۔ کئی کشمیری اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ بھارت بے گناہ کشمیریوں پر جبر اور طاقت کا استعمال بند کرے ۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ وادی میں مسلسل کرفیو، اخبارات، ٹیلی فون اور انٹرنیٹ پرپابندی عائد کرکے دنیا کو کشمیر کی صورت حال سے بے خبر رکھنا ایک گھناﺅنا جرم ہے ۔ بھارت کے اس چہرے کو انسانی حقوق کمیشن اور عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اس سلسلے میں حکومت ، میڈیا ، جامعات اور قیادت اپنا کردار ادا کرے ۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان اور بھارت جامع مذاکرات شروع کریں کیونکہ مذاکرات کے ذریعے ہی تنازعات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ اقوام متحدہ ، عالمی طاقتیں اور اسلامی سربراہی کانفرنس کشمیر کے سلسلے میں خصوصی نمائندوں کا تقرر کریں اور ہفتہ وار بنیادوں پر بریفنگ دی جائے ۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ مسئلہ کشمیر کے پائیداراور منصفانہ حل کے لیے اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادیں ہی بنیادی فریم ورک ہیں ، مسلط کردہ حل کبھی بھی پائیدار امن کی ضمانت نہیں دے سکتے ۔ حل وہی قابل قبول ہوگا جو کشمیری عوام کو قابل قبول ہو۔

اعلامیہ میں کہا گیا کہ ہم اس فورم سے انسانی حقوق کے ممتاز علمبردار خرم پرویز کی گرفتاری اور اور انہیں دو سال کے لیے قید پر سخت تشویش کا اظہارکرتے ہیں اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خرم پرویز سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فوری طور پر رہا کرے۔

سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے لارڈ نذیر احمد نے کہا کہ کشمیر ایشو پر صرف سیاست ہو رہی ہے. انہون نے کہا کہ برطانیہ میں کشمیر کا مقدمہ لڑنے والی رکن پارلیمنٹ کا قتل ہوگیا لیکن کشمیر اور پاکستان سے کوئی موثر آواز بلند نہ ہوئی. لارڈ نذیر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم سے لوگ چھلنی ہورہے تھے اور آزاد کشمیر میں وزارتیں بٹ رہی تھیں. انہوں نے کہا کہ کہ کشمیری عوام اور قیادت کو اپنے رویے پر غور کرنا چاہیے.

بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ میڈیا ، سیاسی ، مذہبی رہ نماؤں اور جامعات کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیر ایشو پر عوامی سطح پر شعور اجاگر کریں. انہوں نے کہا کہ پاناما پیپر پر ہمارے لوگوں کو زیادہ معلومات ہیں لیکن کشمیر ایشو پر لوگوں کو بہت کم علم ہے. ڈاکٹر معصوم یاسین زئی نے کہا کہ رائے ونڈ سمیت ہر جگہ دھرنے دینے کہ باتیں سن رہے لیکن کشمیر ایشو پر بالکل خاموشی ہے.

کشمیر کا مسئلہ بہت حساس ہے، پاکستانی حکومت اور عوام کو باقی ایشوز کو چھوڑ کر اس پر کام کرنے کی ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں 180 جامعات ہیں ، اگر ان جامعات میں ان موضوعات پر مباحثے کرائے جائیں تو پاکستان سمیت عالمی سطح پر کشمیر کا مقدمہ موثر اور بہترین انداز میں پیش کیا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقبال انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی نے معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ مکالمے کا پروگرام شروع کیا اور ہم معاشرے کو درپیش کئی موضوعات پر مکالمہ کر رہے ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے