’اونج لائن ٹرین پروجیکٹ کے لیے ماہرین کا پینل تشکیل‘

[pullquote]اسلام آباد: سپریم کورٹ نے 45 ارب روپے کی لاگت سے لاہور میں تیار ہونے والے اورنج لائن میٹرو ٹرین پروجیکٹ کے ماحولیات پر پڑنے والے اثرات سے متعلق رپورٹ کی دوبارہ جانچ پڑتال کے لیے دو ماہرین پر مشتمل کمیشن قائم کردیا۔[/pullquote]

کمیشن میسرز TYPSA ایشین کنسلٹنگ انجینئرز پرائیوٹ لمیٹڈ اور ماہر آثار قدیمہ رابن کوننگھم پر مشتمل ہوگا۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے بنچ نے اس معاملے پر درخواست گزار اور فریق ثانی کی جانب سے پیش کی جانے والی تین بین الاقوامی ماہرین کی تجاویز موصول ہونے کے بعد کمیشن کے قیام کا حکم دیا۔

سپریم کورٹ نے اورنج لائن منصوبے کے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق رپورٹ کی دوبارہ جانچ کے لیے کمیشن کو 30 یوم کا وقت دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں پنجاب حکومت، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پنجاب ماس ٹرانزٹ اتھارٹی اور نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک)کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت ہوئی۔

لاہور ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ لاہور کے 11 تاریخی مقامات کے 200 فٹ کے دائرے میں تعمیراتی کام بند کردیا جائے اور یہ فیصلہ سول سوسائٹی کے رضاکار کامل خان ممتاز کی درخواست پر دیا گیا تھا۔

ان تاریخی مقامات میں شالیمار گارڈن، گلابی باغ گیٹ وے، بدھا کا آوا، چوبرجی، زیب النساء کا مقبرہ، لکشمی بلڈنگ، جنرل پوسٹ آفس، ایوانِ اوقاف، سپریم کورٹ لاہور رجسٹری، سینٹ اینڈریوز پریس بائیٹیرین چرچ اور بابا موج دریا بخاری کا مقبرہ شامل ہے۔

قائم کردہ کمیشن نیسپاک کی جانب سے جولائی 2015 اور فروری 2016 میں تیار کی جانے والی رپورٹس کی معتبریت کی جانچ پڑتال کرے گا جن میں اینٹی کوئٹیز ایکٹ 1975 اور پنجاب اسپیشل پریمیسس(پریزرویشن) آرڈیننس 1985 کے تحت حکومت پنجاب پر اعتماد کا اظہار کیا گیا تھا۔سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کمیشن کے ارکان کی فیس صوبائی حکومت ادا کرے گی۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’مقرر کردہ تکنیکی ماہرین جلد از جلد انکوائری مکمل کرکے ایک ماہ کے اندر اپنی رپورٹ جمع کرائیں گے‘۔ساتھ ہی کورٹ آفس کو بھی ہدایت کی کہ 30 یوم کی مدت ختم ہونے کے بعد اپیلوں کو دوبارہ سماعت کے لیے پیش کیا جائے۔

قبل ازیں درخواست گزاروں اور فریق ثانی کی جانب سے تین تین بین الاقوامی ماہرین کے نام تجویز کیے گئے تھے جن میں میسرز عثمانی اینڈ کمپنی پرائیوٹ لمیٹڈ، ای اے کنسلٹنگ پرائیوٹ لمیٹڈ، وارڈیل آرمسٹرونگ آرکیالوجی اور مور آرکیالوجیکل انوائرمینٹل سروسز شامل تھے۔

پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ میں اپنی درخواست میں موقف اپنایا ہے کہ لاہور پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے جس کی آبادی تقریباً ایک کروڑ کے قریب ہے، یہاں اکثر ٹریفک جام کے مسائل پیدا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کا قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے ساتھ ہی دھوئیں کی وجہ سے فضائی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے جبکہ غیر مناسب پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ٹریفک حادثات بھی رونما ہوتے ہیں۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ شہر کی موجودہ سڑکیں اور فلائی اوورز ٹرانسپورٹ کا بوجھ برداشت کرنے کے قابل نہیں اور اس مقصد کے لیے ماس ٹرانزٹ سسٹم ناگزیر ہے۔

میڈیا کی بعض رپورٹس میں اسی کیس سے متعلق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے ریمارکس کو غلط طریقے سے بیان کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے وضاحت کی کہ چیف جسٹس کا یہ کہنا تھا کہ ’اپنے نمائندوں کو منتخب کرتے وقت عوام کو صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد انتہائی عقلمندی سے حق رائے دہی استعمال کرنا چاہیے‘۔

عدالتی دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’عوام کو حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہیے‘ یہ بیان چیف جسٹس سے منسوب کرکے میڈیا نے تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے چیف جسٹس عوام کو پاکستانی حکمرانوں کے خلاف اکسارہے ہیں۔

عدالتی دفتر نے ان میڈیا رپورٹس کو مکمل طور پر غلط، بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے کر مسترد کردیا۔
سپریم کورٹ کی جانب سے کہا گیا کہ ’میڈیا کو حقائق توڑ مروڑ پر پیش کرکے سنسنی پھیلانے کے بجائے اپنے فرائض کی انجام دہی میں احتیاط سے کام لینا چاہیے‘۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے