چند مفت مشورے

ہم لوگ بھی بس بڑے دلچسپ ہیں۔۔ کیا طبیعت پائی ہے ماشااللہ۔۔ رمضان المبارک میں روزہ رکھ کر سب سے لڑائیاں کرتے ہیں اور سب سے کہتے ہیں تمہیں پتہ نہیں میں نے روزہ رکھا ہوا ہے؟۔۔ کیا اچھے اطوار ہیں سارا دن کا روزہ رکھ کراس کا احسان جتاتے ہیں سب پر اور پھر رات کو بازار میں تاڑم تاڑی کرتے ہیں۔

کتنے اچھے لوگ ہیں ہر وقت امریکہ کو گالی دیتے رہتے ہیں، مظاہرے کریں تو اس میں امریکی پرچم نذر آتش کرتے ہیں، امریکی سامراج کو برا بھلا کہتے ہیں لیکن جب موقع ملے امریکہ کا گرین کارڈ لینے کی کوشش ضرور کرتے ہیں۔ وہ تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں جن کے ایجنڈے میں امریکہ سرکار کے خلاف مظاہرے کرنا شامل ہے ان کے تمام اکابرین کے بچے اسی ظالم امریکہ کی یہودی یونیورسٹیوں میں پڑھتے ہیں۔

کشمیرکے نہتے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے والے بھارتی بنیئے سے نالاں لوگوں کا آئیڈیل شاہ رخ خان، سلمان خان، ریتک روشن ہوتا ہے ، ان کی محبوب اداکاراؤں میں دپیکا ، کترینہ اور کرینہ کپور ہوتی ہیں۔۔ یہ بھی سڑکوں پر باہر نکل کر احتجاج کریں تو مودی کے پتلے کے ساتھ بھارت کا تر نگا بھی نذر آتش کرتے ہیں لیکن سینما میں بھارتی فلموں پر پابندی لگنے کے بعد اب ڈی وی ڈیز پر بھارتی فلمیں ضرور دیکھتے ہیں اور نہ دیکھیں تو نیند نہیں آتی۔

بھارت اور بھارتیوں سے نفرت کرنے والے ساندھی سدھا ، جھنڈو بام اور ڈابر آئل مہینے کی شاپنگ میں ضرور خریدتے ہیں۔ ہم نواز شریف کو گالیاں دیتے ہیں وہ بھارت کے ساتھ بزنس کرتا ہے مگر اسی بھارت میں جا کر اس کے متعصب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بات نہیں کرتے، وہاں سے چندہ اکٹھا کر کے لاتے ہیں۔ ہم بھارت سے آنے والا پیاز ، ٹماٹر بہت شوق سے کھاتے ہیں۔

دن بھر کرپٹ حکمرانوں کو گالیاں دینے والے آڑھتی خود ملاوٹ شدہ اشیاء فروخت کرتے ہیں، لال مرچ میں لکڑی کا برادہ شامل ہوتا ہے،چائے کی پتی بھی اصلی نہیں ہوتی لکڑ ی کی چھال پر رنگ کیا ہوتا ہے، کئی لوگ مرے جانور کا گوشت فروخت کرتے ہیں، کئی تو گدھے بھی کھلا دیتے ہیں لیکن ان کی مجبوریاں ہوتی ہیں ورنہ یہ اچھے اور شریف مسلمان ہیں اور ان کو شکایت ہے کہ انہیں ہر کام کے لیے رشوت دینا پڑتی ہے اور جو چیز بھی بازار سے خرید کر لاتے ہیں وہ خالص نہیں ہوتی۔

اور تو اور۔ دودھ میں کیمیکل ملایا جاتا ہے بلکہ بعض جگہ تو دودھ ہوتا ہی نہیں صرف پانی ملا کیمیکل فروخت ہوتا ہے، پٹرول پمپ پر تیل میں ملاوٹ ہے مگر شکایت وہ بھی کرتا ہے کہ اسے کھانے پینے کی اشیاء معیاری نہیں ملتیں اس لیے اس کی صحت خراب ہو رہی ہے ، لوگوں کے مکان بنانے والا ٹھیکیدار سیمنٹ کا استعمال نہ ہونے کے برابر کرتا ہے اور ایک روپیہ لگا کر پچاس روپے کماتا ہے اور وہ بھی معاشرے میں ہونے والی چوری، ملاوٹ اور دروغ گوئی پر کڑھتا رہتا ہے۔

سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر ۔۔ سرکاری ہسپتالو ں میں کم آتے ہیں اپنے پرائیویٹ کلینک میں لوگوں کی کھال اتارتے ہیں، جو مرض لاحق ہی نہیں ہوتے ان کا علاج بھی کر دیتے ہیں ، ضرورت پڑنے پر کسی کا گردہ بھی نکال کر فروخت کر دیتے ہیں ۔۔ ان سے بات کریں تو صرف چند سال میں پوش سیکٹر وں میں کئی کوٹھیاں بنا لینے والے ڈاکٹر حضرات بھی تمام برائیوں کا ذمہ دار سیاستدانوں کوٹھہراتے ہیں، سبزی پھل بیچنے والے بھی ان کی نظروں میں ڈاکو اور لٹیرے ہیں۔

عوام کے جائز و نا جائز کام کرنے کے لیے دھونس کے ساتھ رشوت وصول کرنے والے بھی ایمانداری کا درس دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس ملک کو کرپشن کی دیمک نے کھوکھلا کر دیا ہے۔ نائٹ کلب خاموشی سے چلا کر وہاں فحاشی پھیلانے اور شراب فروخت کرنے والا یہ روتا ہے کہ اس کے بچے کو چند جرائم پیشہ افراد نے ہیروئن کی لت ڈال دی ہے جس کے باعث وہ اب اپنے ماڈرن دوستوں کے ساتھ مل کر ڈکیتیاں بھی کرنے لگا ہے تاہم پھر بھی وہ بچہ جب پولیس پکڑ لے تو اسے چھڑوانے کے لیے ہر داؤ استعمال کرتا ہے۔

سپریم کورٹ نیب کے کام سے خوش نہیں، نیب پولیس اور ایف آئی اے سے خوش نہیں۔۔ پولیس، ایف آئی اے اور کسٹم اہلکار اپنے حالات سے خوش نہیں جبکہ عام آدمی اس تمام نظام سے شاکی ہے، خود اس نظام کا حصہ ہیں مگر اسے گالیاں بھی دیتے ہیں، وقت پڑنے پر ہم لوگ بھی وہ ہی کرتے ہیں جو سب کرتے ہیں بس موقع ملنے کی بات لگتی ہے۔

غرض یہ کہ پیدل چلنے والا سائیکل والے کو ، سائیکل والا موٹر سائیکل والے کو، موٹر سائیکل والا گاڑی والے کو، گاڑی والا بڑی گاڑی والے کو اور بڑی گاڑی والا اپنی سے بڑی گاڑی والے اور وہ بلٹ پروف گاڑی والے کو جبکہ بلٹ پروف گاڑی والا بم پروف گاڑی والے کو گالی دیتا دکھائی دیتا ہے۔سب ایک دوسرے کو چور ثابت کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔

میں بھی جب یہ بات کر رہا ہوں ، میں یہ سمجھتا ہوں میں سب سے ایماندار اور شریف انسان ہوں۔۔ میرے علاوہ تمام لوگ کرپٹ ہیں۔ کاش میں یہ سمجھ پاؤں کہ معاشرے کو ہر وقت گالیاں دینا درست نہیں ، ہم اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔ معاشرہ بھی اسی صورت بدلے گا جب ہم بدلیں گے۔

ہمیں سوچنا ہو گا اگر ہم کوئی جائز کام کروانے جائیں اور کرنے والا رشوت طلب کرے تو اپنا وقت بچانے کے لیے اسے چائے پانی دینے اور نذرانہ دینے کے بجائے اس کا علاج کیا جائے، اپنا وقت بچانے کے لیے اس رشوت خور کا پیٹ نہ بھریں، اس کی شکایت انسداد رشوت ستانی کے ادارہ میں کریں۔کوئی میرے پاس کام کے لیے آئے تو میں کم از کم اس کی اتنی مدد توکروں جتنی میرے اختیار میں ہے۔

کوئی ووٹ مانگنے آئے تو اسے یہ سوچ کر ووٹ نہ دیں کہ اسے اس مرتبہ کس سیاسی جماعت کا ٹکٹ ملا ہے بلکہ یہ دیکھئے کہ وہ اس کا اہل ہے یا نہیں؟ یہ نہیں دیکھئے کہ وہ آپ کی ذات برادری سے تعلق رکھتا ہے یا نہیں بلکہ یہ دیکھئے کہ وہ پارلیمنٹ ہاؤس جا کر اپنے مفادات کا تحفظ کرے گا یا ملک کا؟ ریسٹورنٹ میں کھانا کھاتے ہوئے صرف چند روپے بچانے کے لیے کچا بل نہ لیں بلکہ جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنے کے لیے پکا بل بنوائیے۔

سردیوں میں جب گیس کی قلت ہو تو اپنے آرام اور سکون کی خاطر کمپریسر نہ لگوائیں کیونکہ شاید اس عمل سے آپ کے گھر میں تو چولہا جل جائے مگر کئی گھروں میں جو تھوڑی تھوڑی گیس آ سکتی تھی وہ نہیں آئے گی، بجلی کا بل ادا کرنے کی سکت آپ میں ہو گی لیکن اگر آپ اپنی فالتو بتیاں بجھا دیں گے تو شاید مہنگے پاور پلانٹس نہ چلانے پڑیں۔گاڑی یا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے اگر کوئی دوسری لین سے آپ کی لین میں آ جائے تو بجائے آپ دوسرے لین میں جا گھسیں ، اپنی لین میں رہتے ہوئے بریک لگائیے، اگر ریلوے پھاٹک بند ہے تو اپنی لین میں ہی انتظار کیجئے بجائے تین چار لین بنا کر پوری ٹریفک بلاک کرنے کے۔ بینک میں یا کسی اور جگہ جہاں قطار بنی ہے اپنی باری کا انتظار کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ایکسپریس وے پر جہاں لوہے کے پل موجود ہیں وہاں کرتب دکھاتے ہوئے تیز رفتار گاڑیوں کے باوجود اپنی جان خطرے میں ڈال کر بھاگتے ہوئے سڑک پار کرنے کے بجائے آپ کو سڑک اس لوہے کے پل سے پار کرنی چاہئے۔

یہ صرف چند مثالیں ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو چھوٹی چھوٹی ایسی کئی تبدیلیاں لا کر معاشرے کو بدل سکتے ہیں۔ امید ہے آپ ان باتوں کا آئندہ خیال رکھیں گے۔ اپنا بھی خیال رکھیں، بس مشورے اب ختم ہو گئے ہیں۔

مجھے ذرا پلمبر کے پاس جانا ہے گھر میں گیس بہت کم آ رہی ہے کمپریسر لگوانا ہے، الیکٹریشن کو بھی پیسے دینے ہیں کیونکہ اس نے میٹر آہستہ کر رکھا ہے اس کی وجہ سے بل بہت کم آیا ہے گرمیوں میں۔ورنہ میں کہاں بل دے پاتا، مہنگائی اس قدر ہے کہ کیا بتاؤں۔ اس حکومت کا اللہ بیڑہ غرق کرے ہر شے مہنگی کر دی ہے، ان سیاستدانوں نے تو ملک کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ، ایک میں ہی سیدھا سادا رہ گیا ہوں میرے ساتھ کے تمام لوگ کمائیاں کیے جا رہے ہیں۔۔ جہنم میں جلیں گے یہ سارے کے سارے حرام خور۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے