مقبوضہ کشمیر ضلع اسلام آباد ، شوپیاں اور غزہ میں مسلمانوں کا قتل عام

مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد اور شوپیاں میں بھارتی فوج نے 8 کشمیریوں کو شہید کر دیا ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیریوں کو سرچ آپریشن کے دوران شہید کیا گیا، پولیس حکام کے مطابق 7میں سے 6 نوجوانوں کی لاشیں شوپیاں کے علاقے دراگٹ سے ملی ہیں،جبکہ ایک نوجوان کو ضلع اسلام آباد کے علاقے دیالگام میں شہید کیا گیا۔

آپریشن میں بھارتی فورسز کے 3 اہلکاروں کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے۔

اننت ناگ اور شوپیاں میں انٹرنیٹ اور ٹرین سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

[pullquote]بھارتی فورسز نے آپریشن کے نام پر 12 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا[/pullquote]

سری نگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے سرچ آپریشن کے نام پر 12 کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا۔

ڈائریکٹر جنرل پولیس ایس پی وید نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی کشمیری اضلاع میں بھارتی سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے 2 مختلف واقعات میں 12 نوجوان ہلاک ہوئے جن میں ایک کمانڈر بھی شامل ہے۔

سرچ آپریشن کے دوران بھارتی فورسز کے 3 اہلکاروں کے زخمی ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے جب کہ علاقے میں انٹرنیٹ اور ٹرین سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔

دوسری جانب کشمیری نوجوانوں کے قتل پر حریت قیادت نے 2 روزہ ہڑتال کا اعلان کیا ہے جب کہ کشمیر یونیورسٹی کے طالبعلموں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے آزادی کے حق میں اور بھارت مخالف نعرے بھی لگائے۔

[pullquote]اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے مزید 13 فلسطینی زخمی[/pullquote]

مقبوضہ فلسطین کے علاقے غزہ کے سرحدی علاقے میں صیہونی فوجیوں کی فائرنگ سے مزید 13 فلسطینی نوجوان زخمی ہوگئے۔

علاقے میں گزشتہ روز سب سے بڑے فلسطینی مظاہرے پر اسرائیلی فوج کی کارروائی کے بعد کشیدگی جاری ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ ہفتے کے روز ہونے والے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعے کے روز اسرائیل کی سرحد پر لگائی گئی باڑ کی جانب لاکھوں فلسطینوں کے مارچ کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 16 فلسطینی جاں بحق اور 1400 سے زائد زخمی ہوگئے تھے جن میں سے 758 کو براہ راست گولیاں لگی تھیں۔

فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی حملے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے اسرائیلی اقدامات پر احتجاج کیا تھا اور ہفتے کو یوم سوگ منانے کا اعلان کیا تھا۔

ترک وزیر خارجہ نے بھی پرامن احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی کی جانب سے طاقت کے استعمال پر مذمت کی تھی۔

واضح رہے کہ جمعے کے روز ہزاروں فلسطینی افراد اسرائیل کی جانب سے لگائی گئی 65 کلو میٹر طویل فرنٹیئر باڑ کے سامنے مقبوضہ علاقوں سے بے دخل کیے گئے مقامیوں کو اپنے گھر واپس جانے اور ان کی زمینیں واپس دینے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق 30 ہزار افراد اس مظاہرے میں شریک ہوئے۔

کئی خاندان کیمپ اور ضروری سامان کے ہمراہ اسرائیل کی جانب سے نصب کی گئی باڑ کے چند سو میٹر دور بیٹھ گئے تھے تاہم کئی سو فلسطینیوں نے منتظمین اور اسرائیلی فوج کی جانب سے باڑ کے سامنے سے ہٹنے کے اعلان کو نظر انداز کیا۔

خیال رہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیلی قبضے اور مقامی افراد کو بے دخل کرنے کے 70 برس مکمل ہونے کے سلسلے میں احتجاجی مظاہرہ کیا جارہا تھا جبکہ 15 مئی کو وسیع پیمانے پر سرحدی باڑ کے ساتھ احتجاج کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے اپنی اکثریت کھونے کے ڈر سے بے دخل کیے گئے افراد کی واپسی سے انکار کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ پناہ گزینوں کو فلسطینی ریاست میں ہی رہنا چاہیے اور اس حوالے سے امن مذاکرات کا 2014 میں اختتام ہوگیا تھا۔

فلسطینی صدر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطینی عوام کا پیغام واضح ہے، یہ زمین ان کی ملکیت تھی اور اس پر سے قبضہ ہٹایا جائے گا۔

اسرائیلی فوج کی ترجمان نے دعویٰ کیا کہ حماس اس احتجاج کو استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر حملوں اور علاقے میں کشیدگی کے آغاز کی تیاری کر رہی ہے۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کے مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں فلسطینیوں کے جاں بحق اور سیکڑوں کے زخمی ہونے پر شدید مذمت کی۔

استنبول میں اپنے خطاب کے دوران ترک صدر طیب ادروگان کا کہنا تھا کہ ‘میں اسرائیلی حکومت کی جانب سے غیرانسانی حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘کیا آپ نے ان لوگوں کی جانب سے اسرائیلی فوج کی فلسطنیوں کے قتل عام کی مذمت سنی جو عفرین میں آپریشن پر تنقید کرتے ہیں’۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے