بھارتی سکھوں نے دولت مشترکہ اسکوائر سے بھارتی پرچم اتارنے کے بعد خاتون صحافی کے ساتھ کیا کیا؟ ویڈیو دیکھیں

بھارتی علاحدگی پسند سکھوں نے دولت مشترکہ اسکوائر سے بھارتی پرچم اتارنے کے بعد خاتون صحافی کے ساتھ کیا کیا؟ ویڈیو دیکھیں

https://www.youtube.com/watch?v=7soiYHyqVdE

[pullquote]’مودی واپس جاؤ‘[/pullquote]

بدھ کو جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی برطانیہ پہنچے تو اس موقع پر سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا۔ ان مظاہرین نے بھارت میں جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام نہ کر پانے کا ذمہ دار مودی کو ٹہرایا۔

ان مظاہرین نے ڈاؤننگ اسٹریٹ اور پارلیمان کے باہر ’مودی واپس جاؤ‘ ، ’ہم مودی کے نفرت اور لالچ پر مبنی ایجنڈے کے مخالف ہیں‘ کے پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ ان مظاہرین کا کہنا تھا کہ مودی بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو ختم کرنے کے لیے اقدامات نہیں کر رہے۔
بھارتی وزیر اعظم نے گزشتہ شام ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ریپ کے کیسز باعث فکر ہیں جس سے بھارت کو دنیا کے سامنے شرمندہ ہونا پڑا ہے۔ خواتین کے خلاف جنسی تشدد بھارت میں ایک اہم سیاسی مسئلہ بن گیا ہے۔ ایسا کوئی بھی واقعہ پیش آنے کی صورت میں بھارتی عوام کی بڑی تعداد سٹرکوں پر نکل آتی ہے اور سرکار کو عورتوں کو تحفظ فراہم نہ کرنے کے حوالے سے تنقید کا نشانہ بناتی ہے۔

برطانیہ میں رہائش پذیر ایک بھارتی وکیل نویندر سنگھ نے روئٹرز کو بتایا،’’ بھارتی حکومت کچھ بھی نہیں کر رہی، ہمیں متاثرہ خاندانوں پر ترس آتا ہے ، وہ انصاف کے متلاشی ہیں۔‘‘ سنگھ کے مطابق نریندر مودی کو وزیر اعظم بنے چار سال ہوگئے ہیں لیکن عورتوں اور بچوں کو تحفظ فراہم کرنے کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

حال ہی میں بھارت میں جنسی زیادتی اور قتل کے دو کیسز نے بھارتی عوام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر میں ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے چند افراد نے ایک آٹھ سالہ مسلمان بچی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنا کر اسے قتل کر دیا۔ یہ افراد اس بچی کو ایک ہفتے تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بناتے رہے تھے۔ اسی طرح اتر پردیش میں بھی مودی کی جماعت کے ایک سیاست دان پر ایک نوجوان لڑکی کو ریپ کرنے کے الزام کا سامنا ہے۔ اس واقعات کے بعد بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے بھارتی وزیر اعظم کی جانب سے ان واقعات پر سخت ردعمل نہ دینے پر ان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

برطانیہ میں طلبہ کی ایک تنظیم کی ترجمان نے کہا کہ ان کی جانب سے گزشتہ ہفتے بھارتی وزیراعظم کو ایک خط لکھا گیا تھا کہ وہ ریپ کیسز کی تحقیقات کو تیز کریں۔ اس خط بھیجنے کے بعد سے برطانیہ میں مقیم چند شہریوں کی جانب سے ان پر زور دالا جا رہا ہے کہ وہ اس خط سے اپنے دستخط واپس لیں۔

مودی کی بھارت آمد ایک اہم پیش رفت ہے۔ 2002 میں مودی بھارت کی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے جب وہاں فسادات میں ایک ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ برطانیہ نے 2012 میں ان پر یہاں آنے پر عائد پابندی کو ختم کیا تھا۔

[pullquote]
کامن ویلتھ کا اگلا علامتی سربراہ پرنس چارلس، رکن ریاستوں کا اتفاق[/pullquote]

دولت مشترکہ کی رکن ریاستوں کے لیڈروں نے اس تنظیم کے اگلے علامتی سربراہ کے طور پر پرنس چارلس کے نام پر اتفاق کر لیا ہے۔ وہ ملکہ ایلزبتھ کے بعد اس منصب پر براجمان ہوں گے۔ بانوے سالہ برطانوی ملکہ نے دولتِ مشترکہ کی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں پرنس چارلس کو اگلا سربراہ بنانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ برطانوی ملکہ سن 1952 سے اس تنظیم کی علامتی سربراہ چلی آ رہی ہیں۔ دوسری جانب برطانیہ کے اپوزیشن رہنما نے تجویز کیا ہے کہ دولت مشترکہ کی علامتی سربراہی وقفے وقفے سے تبدیل ہوتی رہنی چاہیے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے