جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد سے تفتیش کی جانی چاہیے: اقوام متحدہ

ماورائے عدالت قتل پر اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی نے مقتول سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو قانوناً ذمہ دار قرار دیا ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ جمال خاشقجی کے قتل کے شواہد پر عالمی سطح پر آزادانہ تفتیش ضروری ہے۔

نمائندہ خصوصی نے جمال خاشقجی کے قتل کی سعودی عرب میں ہونے والی تحقیقات کو معطل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ ٹرائل عالمی معیار کے مطابق نہیں ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق کالمارڈ نے مزید کہا ہےکہ جمال خاشقجی کے قتل پر ٹھوس شواہد موجود ہیں جو اس بات کی ضمانت ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے انفرادی طور پر مزید تفتیش کی ضرورت ہے۔

کالمارڈ نے سعودی عرب میں جمال خاشقجی قتل کیس میں نامزد 11 ملزمان کا ٹرائل بھی معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور خاشقجی کے قتل کو عالمی جرم قرار دیا ہے۔

نمائندہ خصوصی کی رپورٹ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق مزید تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ برس دو اکتوبر کو استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے سے لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد ان کو قتل کیے جانے کی تصدیق ہوئی۔

سعودی عرب نے پہلی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں واقع قونصل خانے میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے