فسانۂ آزاد کا خوجی
پنڈت رتن ناتھ سرشار (1846ء تا 1903ء) زوال پذیر مسلم لکھنوی تہذیب کے نہ صرف شاہد تھے بلکہ وہ اس کی خوبیوں خامیوں کے بہترین
پنڈت رتن ناتھ سرشار (1846ء تا 1903ء) زوال پذیر مسلم لکھنوی تہذیب کے نہ صرف شاہد تھے بلکہ وہ اس کی خوبیوں خامیوں کے بہترین
انسان زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اپنا محاسبہ ضرور کرتا ہے، میں بھی چونکہ انسان ہوں اور گاہے گاہے اپنا محاسبہ کرتا رہتا
آج میں آپ کو ایک غیرمعمولی شخصیت سے متعارف کرانے جا رہا ہوں جو اپنی مثال آپ ہیں۔ ان کی شخصیت ایک گہرے سمندر کی
وہ جنوری 2022 کا ایک خوبصورت دن تھا. ہم ڈھرنال کی جانب محو سفر تھے. میرا ماموں زاد بھائی، میرا ہم سفر تھا. اُس روز
گلگت بلتستان کا محل وقوع خطہ میں بہت اہمیت کا حامل ہے. الیگزینڈر بزنس نے 1829 میں زار روس کی توسیع پسندی کے خوف سے
مذہب، بحث کا ایک مقبول موضو ع ہے۔ہمیشہ ہی تھا مگر ابلاغ کے نئے ذرائع نے اس میں وسعت پیدا کر دی ہے۔اس کے نتیجے
شہنشاہ ٹرائے مینی لیوس کو جب پتا چلا کہ پیرس اس کی محبوب بیوی ہیلن آف ٹرائے کو لے گیا ہے تو اس نے فوری
آپ گھبرائیے نہیں۔ میری کیا مجال کہ پیکا جیسے آنے پائی سے لیس ، نکتہ رس قانون کو یوں سربازار للکاروں۔ درویش بہادر صحافی بھی
برطانوی سائنسدان سر آئزک نیوٹن (1642ء تا 1727ء) کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ اس نے قدرت کا یہ پوشیدہ راز پا لیا کہ
ڈاکٹر یونس بٹ کی شخصیت شناسی پر رشک آتا ہے ۔اوپر سے ان کی فقرہ سازی کا کمال ۔بسا اوقات ایک فقرے میں پوری شخصیت
آئی بی سی ( انڈس براڈ کاسٹ اینڈ کیمونیکیشن ) پاکستان اور پاکستان سے باہر کام کرنے والے ممتاز صحافیوں کا منصوبہ ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے پہلا اور مکمل آن لائن میڈیا ہاوس ہے .
آئی بی سی کی نمایاں خبروں ، تجزیوں اور تبصروں سے بروقت اگاہی کے لئے ہمارے نیوز لیٹر کو سبسکرائب کریں. ہمارے سبسکرائبرز کی تعداد لاکھوں میں ہے