کہتے ہیں زندگی پانی سے کشید کی گئی ہے، لیکن اگر اسی زندگی کے دھارے کو غور سے دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ ہم آہستہ آہستہ ایک ایسے صحرا کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں پیاس صرف حلق نہیں، بلکہ ہمارا مستقبل بھی جھلسا دے گی۔ پاکستان میں ہم نے سیاست کی جنگیں دیکھیں، اقتدار کے معرکے بھگتے اور معاشی بحرانوں کے طوفان بھی سہے، لیکن ایک خاموش اور خوفناک جنگ جو ہمارے گھروں کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے، وہ ہے “پانی کی جنگ”۔ یہ کوئی ایسا بحران نہیں جو مستقبل کی کسی دور دراز صدی میں سر اٹھائے گا، بلکہ یہ وہ تلخ حقیقت ہے جو آج ہماری دہلیز پر آ کھڑی ہوئی ہے۔
جدید دنیا میں اب یہ بات کوئی راز نہیں رہی کہ اگلی عالمی جنگیں پٹرولیم یا نظریات پر نہیں، بلکہ پانی کے ایک ایک قطرے پر لڑی جائیں گی۔ پاکستان، جو کبھی پانچ دریاؤں کی دھرتی کہلاتا تھا، آج پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں تیزی سے اوپر جا رہا ہے۔ اگر ہم اپنے ماضی اور حال کا موازنہ کریں تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ کبھی ہمارے پاس پانی کی وافر مقدار موجود تھی، لیکن آج ہماری لاپرواہی، ناقص منصوبہ بندی اور ہمسایہ ممالک کی آبی جارحیت نے ہمیں ایک ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے جہاں پانی کا ہر قطرہ ایک قیمتی اثاثہ بن چکا ہے۔
ہمارے ہائیڈرو پولیٹکس یعنی آبی سیاست کے منظر نامے پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) جو دہائیوں سے پاک ہند تعلقات میں ایک توازن برقرار رکھے ہوئے تھا، اب اس پر بھی شکوک و شبہات کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر متنازع ڈیموں کی تعمیر اور پانی کا رخ موڑنے کی کوششیں محض تکنیکی معاملات نہیں ہیں، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی آبی جارحیت ہے جو پاکستان کی زراعت اور معیشت کو بنجر بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس بیرونی خطرے کو بھانپنے کے باوجود اندرونی طور پر اس کا سدِباب کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔
ہماری قومی نفسیات کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم خطرے کے عین سر پر پہنچنے تک بیدار نہیں ہوتے۔ ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت (Water Storage Capacity) نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہر سال مون سون کے موسم میں اربوں کیوبک فٹ پانی سمندر کی نذر ہو جاتا ہے، اور اس کے چند ماہ بعد ہی ہم اسی پانی کی بوند بوند کو ترستے ہیں۔ بڑے ڈیموں کی تعمیر پر سالہا سال سے جاری سیاسی اکھاڑ پچھاڑ نے ملک کا وہ نقصان کیا ہے جس کا خمیازہ اب ہماری آنے والی نسلیں بھگت رہی ہیں۔ صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاملہ سدابہار بحث بن چکا ہے، جہاں دور اندیشی کی بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کو ترجیح دی جاتی ہے۔
صرف بیرونی یا بڑے حکومتی معاملات ہی نہیں، اگر ہم اپنے روزمرہ کے رویوں پر غور کریں تو شرمندگی سے سر جھک جاتا ہے۔ ہمارے شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سطح (Water Table) سینکڑوں فٹ نیچے جا چکی ہے۔ لاہور، کراچی اور اسلام آباد جیسے بڑے شہروں میں پانی کا بحران اب ایک روزمرہ کا ڈراؤنا خواب بن چکا ہے۔ ہم اپنی گاڑیوں کو دھونے، صحن چمکانے اور فضول کاموں میں جس بے دردی سے میٹھا پانی بہاتے ہیں، وہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم ایک پیاسے مستقبل کی طرف آنکھیں بند کر کے بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہ روش برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب شہروں میں پینے کے پانی پر دنگا فساد اور خونی تصادم دیکھنے کو ملیں گے۔
زراعت، جو ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ ہمارے ہاں اب بھی آبپاشی کے پرانے اور روایتی طریقے رائج ہیں جن میں پانی کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔
جدید دنیا جہاں ’ڈپ اریگیشن‘ اور ’اسپرنکلر سسٹم‘ کے ذریعے کم سے کم پانی سے زیادہ سے زیادہ فصلیں حاصل کر رہی ہے، وہاں ہم اب بھی کھیتوں کو پانی سے بھر دینے کے فرسودہ ماڈل پر چل رہے ہیں۔ کسان پریشان ہے، زمینیں بنجر ہو رہی ہیں اور سیم و تھور کا مسئلہ الگ سر اٹھا رہا ہے۔ اگر ہماری زراعت پیاسی رہ گئی تو ملک میں خوراک کا ایسا بحران پیدا ہوگا جس کا تصور بھی محال ہے۔
اس نازک صورتحال میں اب ہمارے پاس وقت بہت کم اور کام بہت زیادہ ہے۔ اب وقت تقریروں، سیمینارز اور کاغذی پالیسیوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ’قومی آبی ایمرجنسی‘ کا اعلان کرے۔ چھوٹے اور بڑے ڈیموں کی تعمیر کو سیاست سے پاک کر کے ترجیحِ اول بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بھارت کے ساتھ آبی تنازعات پر بین الاقوامی سطح پر مضبوط اور ٹھوس سفارت کاری کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے دریاؤں پر ہمارے حقوق کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
سب سے بڑھ کر، ہمیں عوامی سطح پر شعور بیدار کرنا ہوگا۔ پانی کی بچت کو ایک قومی فریضہ اور مذہبی فریضے کے طور پر اپنانا ہوگا۔ اسکولوں کے نصاب سے لے کر میڈیا کے اسکرینوں تک، ہر جگہ پانی کی اہمیت کا درس دینا ہوگا تاکہ ہماری نئی نسل اس بحران کی سنگینی کو سمجھ سکے۔
پانی کی یہ خاموش جنگ کسی ایک حکومت، جماعت یا صوبے کا مسئلہ نہیں ہے، یہ پاکستان کی بقا کا معاملہ ہے۔ اگر ہم نے آج اپنی پیاس کا علاج نہ کیا، اپنے دریاؤں کی حفاظت نہ کی اور پانی کے ضیاع کو نہ روکا، تو کل کی تاریخ ہمیں ایک ایسے نادان معاشرے کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے مستقبل کو سراب بنا دیا۔ وقت گریزاں ہے، اور دریاؤں کا گرتا ہوا بہاؤ ہمیں مسلسل خبردار کر رہا ہے۔ کاش کہ ہم وقت رہتے جاگ جائیں۔