قارئین! آج آپ کو زندگی کا ایک ایسا فارمولا بتاتا ہوں، جسے محض پڑھنے کے بجائے ایک مہینہ عمل کرکے دیکھیے۔ پھر اپنے دل، اپنے حالات اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھ کر فیصلہ کیجیے کہ اس کا اثر ہوا یا نہیں۔
فارمولا بہت سادہ ہے
آپ کو جس چیز کی کمی محسوس ہو، وہی چیز دوسروں میں بانٹنا شروع کردیں۔
اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کو محبت کی کمی ہے، آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے محبت کریں، آپ کو اہمیت دیں، آپ کا خیال رکھیں، تو محبت کے انتظار میں بیٹھنے کے بجائے محبت بانٹنا شروع کریں۔ لوگوں کے لیے آسانی پیدا کریں، اچھے الفاظ بولیں، خلوص سے ملیں، کسی کا دکھ سنیں۔ آپ حیران ہوں گے کہ محبت مختلف راستوں سے واپس آپ کی طرف آنے لگی ہے۔
اگر آپ کو دولت کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں پر خرچ کرنا، صدقہ کرنا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا شروع کریں۔رزق صرف جمع کرنے سے نہیں بڑھتا، اللہ کے ہاں خرچ کیا ہوا بھی محفوظ رہتا ہے۔
قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے
وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ
اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو، اللہ اس کا بدل عطا فرماتا ہے۔
اگر آپ مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں تو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا شروع کریں۔ کسی کا کام کردیں، کسی کی پریشانی کم کردیں، کسی کو راستہ بتادیں، کسی کے لیے وقت نکال لیں۔ عین ممکن ہے کہ جس آسانی کے آپ نے کسی کے لیے دروازے کھولے ہوں، اللہ آپ کے لیے کسی اور سمت سے آسانی کا دروازہ کھول دے۔
اور اگر آپ کو علم و ہنر کی کمی محسوس ہوتی ہے تو اپنے پاس موجود علم اور ہنر کو دوسروں تک پہنچانا شروع کریں۔ کسی کو پڑھائیں، کسی کی رہنمائی کریں، اپنا تجربہ شیئر کریں۔ علم عجیب دولت ہے، جتنا بانٹیں، اتنا ہی بڑھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ زندگی صرف لینے کا نام نہیں، دینے کا نام بھی ہے۔
ہم اکثر سوچتے ہیں
مجھے کیا ملے گا؟
ذرا سوال بدل کر دیکھیے
میں کیا دے سکتا ہوں؟
ممکن ہے آپ کی زندگی کا بہت سا خلا اسی لمحے پُر ہونا شروع ہوجائے جب آپ اپنی کمی کا علاج دوسروں کو وہی چیز دینا شروع کردیں جس کی آپ کو خود ضرورت ہے۔
تو میرے پیارے قارئین!
محبت چاہیے تو محبت بانٹیں
آسانی چاہیے تو آسانیاں بانٹیں
علم چاہیے تو علم بانٹیں
اور برکت چاہیے تو اپنی استطاعت کے مطابق دوسروں کے کام آئیں۔
ایک مہینہ اس فارمولے پر عمل کرکے دیکھیے شاید آپ کو اندازہ ہوجائے کہ زندگی میں بعض نعمتیں مانگنے سے پہلے بانٹنی پڑتی ہیں۔