ذکر کس پری وش کا چھڑ گیا

کینیڈا میں مقیم ہمارے دوست مسرت صاحب نایاب قسم کے گانے بھیجتے رہتے ہیں۔ چند روز پہلے ایک لوک گیت بھیجا۔ گایا اپنے زمانے کے مشہور ایکٹر اور سنگر سُرندر نے اور ساتھ تھیں ایک خاتون، جن کا نام میں نے پہلی بار سنا، وحیدن بائی۔

گانا لگایا تو وحیدن کی آواز نے یوں سمجھیے مدہوش کر دیا۔ کیا گہرائی میں اترنے والی آواز اور کیا اونچی تان۔ گانا دو تین بار سنا تو خیال آیا کہ اس گلوکارہ کے بارے میں کچھ جاننا چاہیے۔ انٹرنیٹ کی مدد لی تو معلوم ہوا کہ آگرہ کے قریب فتح آباد میں پیدا ہونے والی وحیدن اپنے وقت کی مشہور ایکٹر اور گلوکارہ تھیں۔ بعد میں ان کی بیٹی نواب بانو عرف نِمی نے فلموں میں بہت نام کمایا۔ وحیدن کی دوسری شادی عبدالحکیم سے ہوئی اور نِمی اسی شادی سے پیدا ہوئیں۔

دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ وحیدن کی پہلی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی تھی جسے دنیا جگر مراد آبادی کے نام سے یاد کرتی ہے۔ ان کا اصل نام علی سکندر تھا۔

جگر کے دو شعر ملاحظہ ہوں:

اک لفظِ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے
سمٹے تو دلِ عاشق پھیلے تو زمانہ ہے

اور:

ہم کو مٹا سکے یہ زمانے میں دم نہیں
ہم سے زمانہ خود ہے، زمانے سے ہم نہیں

یہ تھے علی سکندر، جن سے وحیدن کی شادی ہوئی۔ لیکن شادی چل نہ سکی۔ گھر میں عبدالحکیم کی آمد و رفت کچھ زیادہ تھی اور علی سکندر کے دل میں شک پیدا ہونے لگا۔ وہ گھر چھوڑ کر چلے گئے اور کوئی چھ ماہ ادھر اُدھر پھرتے رہے۔ اس دوران شادی ختم ہوگئی اور وحیدن کی شادی عبدالحکیم سے ہوگئی، جو ایک ٹھیکیدار کے بیٹے تھے۔

وحیدن کے کچھ گانے اب بھی انٹرنیٹ پر مل جاتے ہیں اور ان میں چند بہت عمدہ ہیں۔ لیکن مقصد ان کی گائیکی پر کوئی مقالہ لکھنا نہیں۔ بس ان کے بارے میں کچھ جانا تو خیال پھر اس زمانے کی طرف چلا گیا جب آگرہ جیسے شہر مسلم تہذیب کے گہوارے ہوا کرتے تھے۔

ایک شہر، ایک تہذیب اور کئی کہانیاں

اتر پردیش کے کتنے ہی شہر ہیں جن کی نسبت کسی نہ کسی شاعر سے بنتی ہے۔ جوش ملیح آبادی، مجروح سلطان پوری، خمار بارہ بنکوی اور نہ جانے کتنے نام۔

اختری بائی گانے والی تھیں اور فیض آباد کا نام انہوں نے مشہور کیا۔

جس لفظ اشرافیہ کو ہمارے ہاں کوٹ کوٹ کر پیسا جاتا ہے، اتر پردیش کی اشرافیہ زیادہ تر مسلمان گھرانوں پر مشتمل تھی۔ وہاں کے رئیس اور زمیندار، مشاعروں میں جانے والے اور کوٹھوں کی سیڑھیاں چڑھنے والے، یہی لوگ تھے۔

مسلمان بادشاہتوں سے ان کا گہرا تعلق رہا تھا اور اسی رشتے سے بہت سے لوگ بڑی بڑی زمینوں کے مالک بنے۔ جب جمہوری طرزِ حکمرانی کی پہلی اور کچی بنیادیں انگریزوں کے ہاتھوں ڈولنے لگیں تو پتا نہیں کون سا خوف اور وہم ان جاگیرداروں کے دلوں میں بیٹھنے لگا کہ اگر ہر فرد کا ووٹ ہوا تو ہندو اکثریت کا راج ہوگا اور پتا نہیں ہمارے ساتھ کیا ہو جائے گا۔

تصورِ پاکستان کی سوچ کے کئی محرکات میں یہ خوف بھی شامل تھا اور پھر یہ سوچ زور پکڑتے پکڑتے ایک ایسی تحریک بنی جو تقسیمِ ہند پر جا کر ختم ہوئی۔

ہجرت صرف عام لوگوں نے نہیں کی

یہ سوال بھی ذہن میں اٹھتا ہے کہ دونوں طرف ہجرت تو بہت وسیع پیمانے پر ہوئی، یہاں سے وہاں اور وہاں سے اِس طرف، لیکن کیا وجہ تھی کہ یوسف خان عرف دلیپ کمار اور محمد رفیع جیسے لوگ، جن کا تعلق خالصتاً ان علاقوں سے تھا، یہاں نہ آئے؟

دلیپ کمار پشاور کے پٹھان تھے، لیکن ہندوستان میں رہنا انہوں نے پسند کیا۔ ایک لحاظ سے شاید ٹھیک ہی کیا۔ شہرت جو وہاں ملی، یہاں کہاں نصیب ہونی تھی۔

ثریا جمال شیخ گوجرانوالہ کی تھیں، شمشاد بیگم اور شیاما باغبان پورہ کی تھیں۔ وہ وہیں ٹِک گئیں۔

سعادت حسن منٹو یہاں آئے اور پچھتاتے ہی رہے۔

کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے پاکستان میں ٹھہرنے کا ارادہ کیا، لیکن یہاں کے حالات دیکھ کر اپنا فیصلہ بدل لیا۔

جسے دنیا ساحر لدھیانوی کے نام سے یاد کرتی ہے، تقسیم کے بعد تقریباً ایک سال لاہور میں رہے اور پھر ہندوستان چلے گئے۔ یہاں رہتے تو شاید خوار ہی ہوتے۔ شہرت کی بلندیوں پر پہنچے، ایک تو اپنی شاعری کے بل بوتے پر اور پھر وہاں کی دنیا بھی ذرا وسیع تھی۔ بمبئی میں مواقع زیادہ تھے۔

حیرانی ہوتی ہے یہ جان کر کہ عہد ساز ناول نگار قرۃ العین حیدر بھی یہاں رہنے کے ارادے سے آئی تھیں، لیکن جلد ہی فیصلہ بدل لیا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ وزیراعظم جواہر لال نہرو نے خود ان کی بھارتی شہریت کے معاملے میں مدد کی تھی۔

استاد بڑے غلام علی خان یہیں کے تھے۔ ریڈیو پاکستان سے منسلک رہے۔ کہتے ہیں کہ ریڈیو پاکستان کے اُس وقت کے سربراہ زیڈ اے بخاری کا رویہ ان کے ساتھ کچھ اچھا نہ تھا۔ خان صاحب پھر ہندوستان چلے گئے اور وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بمبئی میں رہنے کے لیے باقاعدہ کوٹھی دی گئی۔ یہاں کس نے پوچھنا تھا۔

جوش ملیح آبادی کی کہانی

جوش صاحب کی کہانی بھی دلچسپ ہے۔

اچھا بھلا ان کا مقام ہندوستان میں تھا۔ پورا ہندوستان عزت کرتا تھا۔ پنڈت جواہر لال نہرو سے ذاتی دوستی تھی۔ پنڈت نہرو کہتے رہے کہ مت جاؤ، لیکن ایک نقوی صاحب کمشنر کراچی تھے۔ انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ کراچی آئیں گے تو جائیدادوں سے نوازے جائیں گے۔

جوش صاحب کی قسمت ہاری اور نقوی کی باتوں میں آ گئے۔

کراچی آئے تو دفتروں کے چکر لگنے لگے۔ کبھی کسی باغ کا کہا جاتا، کبھی کسی اور جائیداد کا۔

یادوں کی بارات میں خود بتاتے ہیں کہ کیسے رسوا ہوئے۔ کتاب ویسے بھی پڑھنے والی ہے۔ ایک دفعہ انسان شروع کرے تو پڑھتا ہی جاتا ہے۔

بعد میں کچھ فارم ہاؤس وغیرہ اسلام آباد میں الاٹ ہوا۔

پاکستان بن گیا، مگر خواب کہاں گیا؟

ملک بنا تو کوشش ہونی چاہیے تھی کہ ایک شاندار ملک بنتا۔ بھائی چارے اور باہمی اعتماد کی فضا قائم رہتی۔ لیکن تصورِ جمہوریت سے یہاں کوئی خاص قسم کی نفرت تھی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ شروع دن سے ہی الٹے کام ہونے لگے۔

جو حکمران طبقہ بنا، وہ انگریزوں کا کاسہ لیس تھا۔ وہاں سے امریکہ کا کاسہ لیس بن گیا۔

تاریخِ پاکستان پڑھیں تو دل میں ملال اٹھتا رہتا ہے کہ کیسے حکمران اس ملک کو نصیب ہوئے۔ کیا ان کی سوچ تھی، کیا ترجیحات تھیں، اور ہم اس چکر سے کبھی نکل نہ سکے۔

وہی کہانی جو شروع کے برسوں میں لکھی گئی، وہی دہرائی جاتی رہی۔

چین میں انقلاب سے پہلے کے تقریباً سو برس کو ’’بے عزتی کی صدی‘‘ کہا جاتا ہے۔ وہ سو برس ایسے تھے جن میں فرنگیوں نے چینی قوم کو ایڑیوں تلے روندا اور بے عزت کیا۔

ہماری تاریخ کیا رہی ہے؟

انگریز کی جنگیں ہندو اور مسلمان قوموں نے مل کر لڑیں۔ سکھ بھی اس کارِ خیر میں شامل تھے۔ چند ہزار گورے، دیسی لوگوں کی معاونت سے، اتنے بڑے خطۂ ارض پر حکومت کرتے رہے۔

چینی قوم کو اپنی تذلیل یاد ہے۔

یہاں جو ہماری قوموں کے ساتھ ہوا، اس کا احساس تک نہیں ہے۔

صرف برصغیر ہی نہیں

انگریز کے ہاتھوں صرف یہاں کی قومیں بے عزت نہیں ہوئیں۔ پورے مشرقِ وسطیٰ کو دیکھ لیں، کون سا ملک ہے جو رسوائی کے سامان سے بچا رہا؟

اردن کوئی ملک نہیں تھا۔ اس کا نقشہ انگریزوں نے کھینچا اور وہاں ایک بادشاہ بٹھا دیا۔

عراق پر ایک اور بادشاہ بٹھایا اور وہاں کے تیل پر انگریزوں نے قبضہ کیا۔

انقلاب کی وجہ سے ایرانی قوم کا مزاج بدل گیا۔ امریکہ سے انحراف کیا، اسرائیل کو للکارا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اس نئے ایران کو برداشت نہیں کر سکا۔

اور اب یہ جنگ امریکہ کو کتنی مہنگی پڑ رہی ہے، یہ بھی تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے