یہ کوئی نئی بات نہیں کہ بچہ پیدا کرنا فطری عمل ہے، لیکن ایک متوازن، باکردار، بااعتماد اور ذمہ دار انسان کی تربیت کرنا ایک عظیم فن ہے۔ اسی لیے "Art of Parenting” یعنی "والدین بننے کا فن” بھی ایک مکمل آرٹ ہے۔
یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہم ملازمت، کاروبار، تدریس حتیٰ کہ ڈرائیونگ کے لیے بھی تربیت لیتے ہیں، مگر والدین بننے کے لیے عموماً کوئی تربیت نہیں لیتے، جب ہم تربیت نہ لیں تو وہی ہوتا ہے جو ہمارے سماج میں بچوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو کچھ ہمارے والدین، اساتذہ، سرپرستوں ، محلہ داروں ، دوستوں اور سماج نے ہمارے ساتھ کیا، اکثر وہی ہم اپنی اولاد اور اردگرد کے بچوں کے ساتھ دہراتے ہیں۔ حالانکہ ہر بچہ ایک نئی دنیا ہے اور ہر عمر کی اپنی نفسیاتی، جذباتی، سماجی اور دینی ضروریات ہیں۔ اور ہر ایک کا ایک مختلف وقت اور زمانہ ہے۔
رسول اللہ صل اللہ علیہ والہ وسلم ایک کامیاب مربی تھے، اور ایک کامیاب والد بھی، اسلام نے والدین کو محض کفیل نہیں بلکہ مربی، محافظ اور کردار ساز بنایا ہے۔ اور اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو دنیا و آخرت کی اس آگ سے بچانے کا حکم دیا ہے، اور اس حکم پر عمل آرٹ آف پیرنٹنگ "والدین بننے کا فن” جاننے کے علاوہ ممکن ہی نہیں، قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا
"اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاؤ۔”(التحریم: 6) اگر والدین بننے کا فن نہیں ہوگا تو یقیناً اپنے بچوں کو اس آگ سے نہیں بچا سکیں گے۔
اور اگر رسول اللہ کے احکام کو دیکھیں تو واضح نظر آتا ہے، آپ نے فرمایا۔
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ
"تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا۔(البخاری) کیا یہ سچ نہیں کہ مسئولیت کے بغیر اولاد کی تربیت ممکن ہی نہیں۔
نبی کریم ﷺ کا بچوں سے محبت و شفقت کا معاملہ ہماری تربیت کے لیے روشن نمونہ ہے۔ حضرت حسنؓ و حسینؓ کو گود میں اٹھانا، ان سے کھیلنا، ان کے لیے سواری بننا، انہیں بوسہ دینا اور اسی طرح اسلامی معاشرے کے بچوں کے ساتھ دسیوں زاویوں سے محبت کا اظہار کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ محبت تربیت کا حصہ ہے، اس کے مقابل نہیں۔کاش ہمیں سیرت النبی سمجھ آجائے۔ کاش ہمیں والدین بننے کا فن آتا ہو!۔
پروجکٹ "صحت کا سفر” کے تحت اے کے آر ایس پی گلگت بلتستان کی جانب سے "Art of Parenting” فنِ والدین یعنی بچوں کی بہتر تربیت کا ہنر” کے عنوان سے تین روزہ ایک بہترین ٹریننگ کا انعقاد کیا گیا۔
اس پروگرام میں خصوصیت سے دیامر استور ڈویژن کے اساتذہ، ہیلتھ سیکٹر اور پاپولیشن ویلفیئر سے وابستہ افراد کو مدعو کیا گیا، جبکہ آغا خان یونیورسٹی کراچی کی فیکلٹی کے ماہر ٹرینرز نے آرٹ آف پیرنٹنگ پر بہترین ٹریننگ دی۔
ابتدائی ضروری انفارمیشن اور تعارفی سیشن کے بعد شرکاء کو دو گروپوں، "آغوش” اور "پرورش” میں تقسیم کیا گیا۔ آغوش گروپ پیدائش تا 9 سال تک کے بچوں کی تربیت اور پروش گروپ 9 تو 19 تک کے بچوں کی تربیت کے متعلق تھا، راقم چونکہ کالج سے وابستہ ہے اور کالج میں 12 سال سے اوپر کے بچے آتے ہیں، اس لیے پرورش گروپ میں شامل ہوا۔ نام ہی اپنے اندر ایک خوبصورت پیغام رکھتے ہیں، بچے کو صرف آغوش نہیں، مسلسل پرورش بھی چاہیے، اور پرورش صرف جسم کی نہیں، ذہن، جذبات، اخلاق اور شخصیت کی بھی ہے۔ بچے کو صرف پالنا نہیں،سمجھنا بھی ہے۔ اس لیے تربیت ضروری ہے۔
تین دنوں میں درجنوں اہم موضوعات زیرِ بحث آئے۔ اور شرکاء نے خوب انجوائے کیا۔ ان موضوعات کی فہرست دینا ممکن بھی نہیں اور نہ ہی جو کچھ پڑھایا، سکھلایا اور پریکٹس کروایا گیا اس سب کو سمونا ممکن ہے۔ تاہم بین السطور تین دن کا خلاصہ آجائے گا۔
یہ بات انتہائی اہم ہے کہ بچے میں صرف اطاعت نہیں بلکہ اعتماد، صلاحیت، کردار، تعلق اور ذمہ داری پیدا کی جائے۔ قرآن میں حضرت لقمان حکیم کی اپنے بیٹے کو نصیحتیں اسی متوازن تربیت کا خوبصورت نمونہ ہیں، توحید سے لے کر نماز، نیکی، صبر، عاجزی اور گفتگو کے آداب تک۔ اسی طرح Parental Warmth نے یہ احساس اجاگر کیا گیا کہ والدین کی محبت صرف اخراجات اٹھانے کا نام نہیں۔ بچے کو وقت، توجہ، الفاظ اور احساسِ تحفظ بھی چاہیے۔ اسے یہ محسوس ہونا چاہیے کہ
"میرے والدین مجھے چاہتے ہیں، میری بات سنتے ہیں اور مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے ہیں۔”
بلوغت کے دوران جسمانی تبدیلیوں کے ساتھ جذباتی اور نفسیاتی تبدیلیاں بھی آتی ہیں۔ خود اعتمادی، حساسیت، شرم، غصہ اور اپنی شناخت جیسے حساس موضوعات پر گھنٹوں سوال و جواب ہوئے، دلائل اور وجوہات بیان کی گئی، تجاویز دی گئی۔
دس سے بیس سال کی عمر وہ عمر ہوتی ہے جہاں والدین کا ایک غلط جملہ برسوں دل میں رہ سکتا ہے اور ایک درست جملہ پوری زندگی کا سہارا بن سکتا ہے۔
اسی طرح یہ بھی جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ Peer Pressure یعنی ہم عمروں کا دباؤ نوجوانوں کی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔ تربیت کے دوران سوالات کرنے کی بھرپور اجازت تھی، اپنے خیالات ، افکار، تجربات اور روایات کو ٹرینر بھی دل کھول کر بیان کرتے ہیں، ڈاکٹر روزینہ اور میڈم زہرا تو پروش گروپ کیساتھ انتہائی خلوص اور جذباتی انداز میں اپنے مشاہدات و تجربات شئیر کرتی تھیں اور تیار شدہ پریزینٹیشنز بھی، یہی عمل ڈاکٹر کوثر اور میڈم یاسمین بھی آغوش میں کررہی تھی۔ٹریننگ سے وابستہ دیگر منتظمین بھی ٹریننگ کو بہتر بنانے کی تگ و دو کررہے ہیں۔اے کے آر ایس کی میڈم فریدہ اور اس کی ٹیم بھی ایکٹیو تھی۔
ٹریننگ کے حوالے سے کہنے کے لیے بہت کچھ ہے تاہم اس کی افادیت و دلچسپی کے حوالے سے ایک سوال ہی آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
"ہمارے ساتھ کیا ہوا؟”
اس تربیت کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی تھا کہ ہمیں یہ سوچنے کا موقع ملا کہ "ہم اپنے بچوں کے ساتھ کیا کریں؟” کے ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ "ہمارے ساتھ کیا ہوا؟”
ہم سب اپنے بچپن کی ایک کہانی ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ کسی کو محبت ملی، کسی کو سختی؛ کسی کی بات سنی گئی، کسی کو خاموش کرایا گیا۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم اپنی اولاد کو کیا منتقل کررہے ہیں؟
ضروری نہیں کہ ہمارے والدین نے جو کیا وہ سب غلط تھا، مگر جو رویے ہمیں نقصان پہنچاتے رہے، انہیں اگلی نسل تک منتقل کرنا بھی ضروری نہیں۔
اچھا والدین بننے کے لیے کبھی کبھی اپنے اندر کے بچے کو بھی سمجھنا پڑتا ہے۔
ہمیں اصل میں ماسٹر ٹرینر کی ٹریننگ دی جارہی تھی، یہ پروگرام محض تین روزہ ٹریننگ نہیں۔ ہمیں Master Trainers کے طور پر تیار کیا جارہا ہے تاکہ گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع میں والدین اور متعلقہ افراد تک یہ علم اور تربیتی طریقے پہنچائے جاسکیں۔
آغا خان یونیورسٹی سے تشریف لائے ہوئے ٹرینرز کی علمی و تربیتی مہارت قابلِ ذکر ہے۔ وہ محض لیکچر نہیں دیتے بلکہ سوال اٹھاتے، موٹیویٹ کرتے ہیں ،گروپ ایکٹیویٹیز کرواتے، تجربات شیئر کرواتے اور شرکاء کو اپنے رویوں پر غور کرنے کا موقع دیتے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلاتے ہیں۔
اب اصل امتحان تب ہوگا جب ہم اپنے اضلاع اور محلوں میں جائیں گے اور کسی پریشان والد یا ماں کے سامنے بیٹھ کر اس کی بات سنیں گے۔گھر بچے کی پہلی درسگاہ ہے۔ بچہ ہماری تقریر سے زیادہ ہمارے عمل کو پڑھتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ غصہ نہ کرے، مگر وہ ہمارا غصہ دیکھ رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ سچ بولے، مگر وہ ہماری مصلحتیں دیکھ رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ موبائل کم استعمال کرے، مگر وہ ہمارے ہاتھ میں موبائل دیکھ رہا ہے۔
لاریب! اس لیے Parenting صرف بچے کی تربیت کا نام نہیں، والدین کی اپنی تربیت کا بھی نام ہے۔
قارئین محترم! میرا اپنا خیال ہے کہ جدید Parenting ہمیں بچے کی نفسیات اور جذباتی ضروریات سمجھنے میں مدد دیتی ہے، جبکہ قرآن و سنت ایمان، اخلاق، حیا، ذمہ داری اور مقصدِ زندگی عطا کرتے ہیں۔ ہمیں دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔
محبت بھی ہو، حدود بھی، آزادی بھی ہو، ذمہ داری بھی، سوال کی گنجائش بھی ہو، ادب بھی، جدید علم بھی ہو اور دینی شعور بھی اور گھریلو فیصلوں میں بچوں کی شرکت بھی۔
یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ کامیاب Parenting یہ نہیں کہ بچے ہم سے ڈرتے ہوئے بڑے ہوں، اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ بڑے ہوکر بھی ہمارے پاس بیٹھنا چاہیں۔ کیونکہ جب ہم اپنی اولاد کی تربیت کرتے ہیں تو صرف اپنے بچوں کا مستقبل نہیں بناتے، بلکہ اپنے معاشرے کی اگلی نسل تعمیر کرتے ہیں۔اسی لیے Art of Parenting محض والدین کی تربیت کا عنوان نہیں، یہ بہتر خاندان، بہتر معاشرے اور بہتر نسل کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔
آرٹ آف پیرنٹنگ کے ابتدائی سیشن میں تلاوت کلام کیساتھ اختتامی سیشن میں بھی تلاوت کا شرف راقم کو حاصل ہوا۔ اختتامی سیشن میں آغوش اور پرورش کے شرکاء اور ماسٹر ٹرینر ایک ساتھ تھے۔ راقم کو اپنے خیالات تفصیل سے بیان کرنے کا موقع دیا گیا۔ اوپر بیان کردہ باتیں خلاصہ کیساتھ تمام شرکاء اور معلمات اور انتظامیہ کے سامنے رکھا اور داد پائی۔ بہرحال یہ موضوعات اتنے اہم اور مفصل تھے کہ بار بار کہنا پڑھا کہ تشنگی باقی رہی۔ بچوں کے حقوق اور تربیت کے حوالے سے میں نے کئی ایک لیکچر دیے ہیں اور کالم بھی لکھے ہیں۔ جدید دنیا کیساتھ اسلام میں بھی اس پر بے تحاشا مواد موجود ہے۔
اس پر اردو زبان میں سب سے بہترین کتاب "اسلام اور تربیت اولاد” ہے جو ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید کی تصنیف ہے اور وفاق المدارس نے اپنے بنات کے سلیبس میں اس کو شامل بھی کیا ہے۔ اور اس کو ایک جلد میں ملخص کرکے شائع کیا گیا ہے، میں نے یہ کتاب درجنوں بار پڑھی ہے۔ میرا خیال ہے کہ تمام والدین کے پاس یہ کتاب ہونی چاہیے۔ میں ایک کے آر ایس پی کی ٹیم اور آغا خان یونیورسٹی سے تشریف لائیں معلمات کی خدمت میں بھی عرض کروں گا کہ آرٹ آف پیرنٹنگ کے تربیتی لیکچروں اور نشستوں میں اس کتاب کو لازمی حصہ قرار دیں اور تربیت یافتہ تمام ماسٹر ٹرینر کو بطور سلیبس یہ کتاب دیں۔ آپ یقین کریں بہت کچھ حاصل ہوگا۔
قارئین کرام! میرا پختہ خیال ہے کہ آرٹ آف پیرنٹنگ جیسی تربیتی نشستوں کا انعقاد اور ان میں شرکت اور "اسلام اور تربیتِ اولاد” جیسی مفید کتابوں کے مطالعے سے ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی حالتِ زار میں نمایاں بہتری لاسکتے ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ والدین کی تربیت محض ایک تعلیمی یا تربیتی موضوع نہیں، بلکہ ایک ایسی بنیادی ضرورت ہے جس کا تعلق ہماری آئندہ نسلوں کے کردار، ذہنی صحت، اخلاقی تربیت اور معاشرتی مستقبل سے ہے۔ اس حوالے سے آہنگ فاؤنڈیشن کی کاوشیں بھی نہایت قابل قدر ہیں۔ ان کا کام معیار، جدید تربیتی تقاضوں اور عملی افادیت کے اعتبار سے ایک قابلِ تحسین مثال ہے۔
ایسے اداروں اور تربیتی پروگراموں سے استفادہ کرکے ہم نہ صرف اپنے والدین بننے کے انداز کو بہتر بنا سکتے ہیں، بلکہ اپنے گھروں کو محبت، اعتماد، تربیت اور مثبت نشوونما کے مراکز بھی بنا سکتے ہیں۔ ہمارے دوست ممتاز گوہر جب آہنگ کے ترجمان میگزین ساحل کے مدیر ہوتے تھے تب یہ رسالہ کئی سال مجھے اعزازی موصول ہوتا تھا جسے بھرپور استفادہ کیا، آپ بھی ان چیزوں سے استفادہ کرنے کی ضرور کوشش کیجئے، ان شا اللہ بہتری آئے گی۔