عمران ہاشمی پڑوسی ملک کے ایک باصلاحیت اداکار ہیں۔ ان کو فلم انڈسٹری میں کام کرتے ہوئے تقریباً پچیس سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔ شروعات میں وہ اپنے بےباک کرداروں کی وجہ سے تنازعات کا شکار بھی رہے مگر پھر دھیرے دھیرے ان کی فلموں سے یہ شکایت بھی دور ہوتی گئی اور ان کے بولڈ فلمی سین بھی کم ہوتے گئے۔
آپ کو یہ سن کر تعجب ہوگا کہ عمران ہاشمی کے دادا سید شوکت ہاشمی برصغیر کے ایک کامیاب اسکرپٹ رائٹر اور ڈائریکٹر تھے۔ بہت عرصے پہلے وہ ایک لڑکی مہربانو کے عشق میں مبتلا ہوگئے تھے۔ جس کی خوبصورتی نے انہیں دیوانہ بنا دیا تھا اور پھر یہ دیوانہ پن اتنا آگے بڑھا کے دونوں نے شادی کرلی۔ بعد ازاں وہ خوبصورت لڑکی فلمی دنیا کی ایک جانی مانی اداکارہ بن گئی۔ جسے لوگ پورنیما کے نام سے جاننے لگے۔
پارٹیشن کے بعد عمران ہاشمی کے دادا شوکت ہاشمی پاکستان آگئے اور ان کی دادی اور والد انور ہاشمی انڈیا میں ہی رہ گئے۔
عمران ہاشمی کے دادا شوکت ہاشمی ایک شاعر, ناول نگار ,صحافی ,خاکہ نگار اور ہدایت کار تھے۔ پاکستان آکر انہوں نے 1960 میں اپنی پہلی فلم ڈائریکٹ کی۔ جس کی موسیقی مصلح الدین نے دی تھی۔
"ہمسفر” نامی فلم کا شمار پاکستانی سیینما کی ابتدائی کامیاب فلموں میں ہوتا ہے۔ اس فلم میں اسلم پرویز اور اداکارہ یاسمین نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔ فلم کی کامیابی میں اس کے گانوں کا بھی بڑا دخل تھا جو احمد رشدی,ناہید نیازی ,فردوسی بیگم, سلیم رضا زبیدہ خانم, ہیمنت کمار اور سندھیا مکرجی نے گائے تھے جبکہ فلم کا اسکرپٹ شوکت صاحب نے خود لکھا تھا۔ فلم کے گانے تنویر نقوی اور شاعر صدیقی کے علاوہ شوکت صاحب نے بھی لکھے تھے۔
شوکت ہاشمی نے کئی پاکستانی فلموں میں مکالمے لکھے اور ہدایت دی جن میں فلم ڈاکٹر ,درندہ, جلے نہ کیوں پروانہ اور بندھن جیسی فلمیں شامل تھیں۔
پاکستان بننے سے پہلے شوکت ہاشمی نے بمبئی میں رہتے ہوئے وہاں کے اداکاروں کو بہت قریب سے دیکھا۔ اپنی خاکوں کی کتاب "یہ پری چہرہ لوگ” میں انہوں نے دلیپ کمار, مدھو بالا , جدن بائی, خواجہ احمد عباس,نگار سلطانہ, نادرہ, شیاما اور گیتا نظامی کے بہترین خاکے لکھے۔
انہوں نے ایک ناول نیما جو بک گئی کے نام سے بھی لکھا جبکہ ان کے شعری مجموعے بھیدوں بھری ازان حال دھمال اور اسم ہنر کے نام سے شائع ہوئے۔
عمران ہاشمی کی دادی مہر بانو جن کا فلمی نام پورنیما تھا وہ بھی کامیاب اداکارہ تھیں۔ جنہوں نے تقریباً 80 فلموں میں اداکاری کی۔ ان کی چھوٹی بہن شیریں محمد علی معروف مصنف اور ہدایت کار مہیش بھٹ کی والدہ تھیں یعنی مہیش بھٹ اور ان کے بھائی فلمساز مکیش بھٹ عمران ہاشمی کے چاچا ہیں۔ پوجا بھٹ اور عالیہ بھٹ ان کی کزن اور ڈائریکٹر موہت سوری بھی ان کے کزن ہیں جن کے ساتھ عمران ہاشمی نے کئی ہٹ فلمیں دی ہیں۔
عمران کی دادی پورنیما نے پتنگا,جوگن, بادل, اور جال جیسی کامیاب فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ 1973 میں بنے والی فلم زنجیر میں انہوں نے امیتابھ بچن کی ماں کا کردار ادا کیا تھا۔
عمران کے والد انور ہاشمی بزنس مین اور اداکار رہ چکے ہیں انہوں نے بھی ایک فلم "بہاروں کی منزل ” میں اداکاری کے جوہر دکھائے اس فلم کے مرکزی کرداروں میں دھرمیندر, مینا کماری اور رحمان شامل تھے۔
جب اتنا بڑا فلمی بیک گراؤنڈ ہو تو آدمی یا تو سنبھل جاتا ہے یا بگڑ جاتا ہے۔ لیکن عمران ہاشمی نے ثابت کیا کہ وہ لمبی ریس کا گھوڑا ہیں۔ اپنی پہلی فلم فٹ پاتھ سے حال ہی میں کامیاب ہونے والی فلم آواہ پن ٹو تک عمران ہاشمی نے فلم انڈسٹری میں اپنی ایک الگ پہچان بنائی ہے۔ یہ وہی عمران ہاشمی ہیں جن پر پکچرائز کیے گئے گانے نوجوانوں میں بہت مقبول ہوئے اور آج کے جینزی بھی ان گانوں پر رقص کرتے ہیں۔
چند ماہ پہلے جب معروف اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آریان خان نے اپنی پہلی ویب سیریز بیڈز آف بالی وڈ بنائی تو اس کے ذریعے عمران ہاشمی کو ٹریبیوٹ پیش کیا گیا اور اس سیریز میں ایک اداکار کو عمران ہاشمی کا فین دکھایا گیا جس کا ایک ڈائیلاگ بہت مشہور ہوا
اکھا بالی وڈ ایک طرف
عمران ہاشمی ایک طرف
اکھا دراصل مراٹھی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی سارا یا پورا کے ہیں۔
ہم پاکستانیوں کی ہمدردی بالی وڈ کے مسلمان اداکاروں کے ساتھ ہمیشہ سے رہی ہے۔ ان میں دلیپ کمار ,شاہ رخ خان ,سلمان خان,عامر خان, سیف علی خان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔اسی لیے ہم عمران ہاشمی کو بھی زیادہ پسند کرتے ہیں۔ بلاشبہ عمران انڈین اداکار ہیں مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عمران ہاشمی کے دادا پاکستان کے معروف فلم میکر تھے۔ آپ کو شاید یہ جان کر بھی حیرانی ہو کہ عمران ہاشمی نے اپنے بیٹے ایان کے کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد ایک کتاب بھی لکھی۔
جس کا نام تھا( The kiss of life ) یعنی زندگی کا بوسہ اس کتاب کے ٹائٹل پر مزید لکھا ہوا ہے
How a Super Hero And My Son Defeated Cancer
اس کتاب میں عمران نے لکھا ہے کہ کس طرح سے انہوں نے اپنے بیٹے ایان ہاشمی کے علاج کے دوران اس کی ہمت بندھائی۔عمران کے بیٹے ایان کو بیٹ مین (Bat Man) کا کردار بہت پسند تھا۔
بلاشبہ عمران اچھے اداکار ہیں جب ان کا بیٹا کیمو تھراپی کے دوران چیختا چلاتا اور دوائی نہیں کھاتا تو وہ بیٹ مین بن کر اپنے بیٹے سے فون پر بات کرتے۔ فون پر عمران نے اپنی جگہ بیٹ مین کی تصویر لگا دی تھی۔ ان کا بیٹا یہی سمجھتا کہ فون پر بیٹ مین بات کر رہا ہے اور عمران آواز بھاری کر کے بولتے اور کہتے کہ یہ علاج اور دوائیں بیٹ مین کی طرف سے دی جارہی ہیں۔ جو ایک سپر ہیرو ہے۔ جبکہ کینسر ایک ولن ہے اور ہمیں اس کو ہرانا ہے۔
اسی کہانی نے ایان کو بہت حوصلہ دیا مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس دوران عمران اور ان کی بیوی پروین نے خود کو بڑی مشکل سے سنبھالا۔ فلموں میں رومانی مناظر کرنے والا ہیرو گھر میں اپنے بچے سے اکیلے میں چھپ کر روتا آخر کار محبت,توجہ, دعائیں اور بیٹ مین کی کہانی رنگ لے آئی اور ایان صحت مند ہوگیا۔ اس دوران عمران نے کسی فلمی ہیرو کی طرح زندگی کے پردے پر اصلی ہیرو کا کردار نبھایا اور اس سانحے کی بدولت عمران کے اندر کا چھپا ہوا لکھاری بھی باہر آگیا۔
اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ دادا اتنے اچھے اسکرپٹ رائٹر ہوں اور پوتے میں یہ ہنر نہ آئے۔آج عمران ہاشمی کو لوگ ان کی کتاب کی وجہ سے بھی جانتے ہیں جس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو کینسر جیسے موذی مرض سے مقابلہ کرنے میں مدد ملی۔
امید ہے کہ آگے چل کر عمران ہاشمی اپنے دادا سید شوکت ہاشمی کی طرح ایک اچھے شاعر,اسکرپٹ رائٹر اور ہدایت کار بھی بن جائیں گے۔ اداکاری میں تو وہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ آج اگر شوکت ہاشمی زندہ ہوتے تو وہ بھی اپنے پوتے پر فخر کرتے اور یہی کہتے کہ
اکھا بولی وڈ ایک طرف
عمران ہاشمی ایک طرف