پاکستان میں اس وقت 27لاکھ سے زائد افغان باشندے رہائش پذیر ہیں، جن میں صرف 14لاکھ18ہزارسے زائد افراد کو مہاجرکی حیثیت حاصل ہے جبکہ باقی13لاکھ افرادغیرقانونی طو رپر رہائش پذیر ہیں ، گزشتہ18سال سے افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کاعمل جاری ہے ، لیکن گزشتہ سال یعنی2019ء میں ملک کی تاریخ میں سب سے کم صرف چھ ہزار220افغان مہاجرین رضاکارانہ طو رپر اپنے وطن واپس گئے۔2002سے اب تک پاکستان سے 43لاکھ 80ہزار428افغان مہاجرین 18سالوں کے دوران رضاکارانہ طو رپر افغانستان منتقل ہوئے۔
[pullquote]پاکستان میں افغان مہاجرین کی واپسی کی شرح کیاہے؟؟[/pullquote]
2002ء میں پاکستان ،اقوام متحدہ اورافغانستان کے مابین سہ فریقی معاہدہ ہواتھا،جس کے تحت افغان مہاجرین کی رضاکارانہ واپسی کا عمل شروع ہوگا، لیکن ان18سالوں کے دوران 2019ء میں تاریخ کے سب سے کم افغان مہاجرین واپس اپنے علاقوں کو منتقل ہوئے، جن کی تعداد چھ ہزار220ہے، اگرہم گزشتہ دس سالوں کے اعدادوشمار نکال لیں تو 2009ء میں51ہزار،290،2010ء میں ایک لاکھ 9ہزار، 383،2011ء میں 52ہزار ،59،2012ء میں 83ہزار،427،2013ء میں31ہزار 224،افغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یواین ایچ سی آرکے تعاون سے اپنے علاقوں کو منتقل ہوئے۔اعدادوشمار کے مطابق 2014ء میں 12ہزار981،2015ء میں58ہزار211،2016ء میں سب سے زیادہ تین لاکھ81ہزار،275،2017ء میں 59ہزار20 اور2018ء میں صرف14ہزار17افغان مہاجرین اپنے علاقوں کو منتقل ہوئے، اب تک 43لاکھ80ہزارسے زائد افغان مہاجرین18سالوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں کو چلے گئے ۔
[pullquote]پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کہاں کہاں رہائش پذیر ہیں؟؟[/pullquote]
یواین ایچ سی آرکے اعدادوشمارکے مطابق اسوقت پاکستان میں 14لاکھ 18ہزار54افغان مہاجرین ملک کے مختلف حصوں میں رہائش پذیر ہیں، تاہم وفاقی حکومت کے مطابق اسوقت ملک میں افغان باشندوں کی تعداد 27لاکھ سے زائد ہے، جن میں 14لاکھ18ہزارکے پاس پی اوآرکارڈزہیں اور یہ افغان مہاجرین کہلاتے ہیں ، تاہم 13لاکھ سے زائد افغان باشندے غیرقانونی طو رپر پاکستان میں رہائش پذیر ہیں ۔ رجسٹرڈیعنی افغان مہاجرین میں سے اس وقت سب سے زیادہ8لاکھ23ہزار534خیبرپختونخوامیں مقیم ہیں، ان کی تعداد کل افغان مہاجرین کی58فیصد ہے ،بلوچستان میں 23فیصدیعنی تین لاکھ 24ہزار947،پنجاب میں16فیصدیعنی ایک لاکھ66ہزار439،سندھ میں پانچ فیصد64ہزار510،اسلام آبادمیں دوفیصد34ہزار323اورکشمیرمیںاعشاریہ تین فیصد یعنی چارہزار296افغان مہاجرین آبادہیں۔یواین ایچ سی آرکے مطابق ملک بھرمیں افغان کیمپوں کے نام تبدیل کرکے انہیں افغان رفیوجی ویلجزکانام دیاگیاہے، اسوقت ملک بھرمیں54افغان رفیوجی ویلجزمیں سے 43خیبرپختونخوامیں ہیں بلوچستان میں دس اورایک کیمپ میانوالی میں ہے 32فیصدافغان مہاجرین رفیوجی ویلجزمیں جبکہ68فیصد ملک کے دیگر رہائشی علاقوں میں آبادہیں۔
[pullquote]افغان مہاجرین کی واپسی کاطریقہ کارکیاہے؟؟[/pullquote]
یواین ایچ سی آرکے ترجمان قیصرآفریدی کے مطابق جوافغان مہاجرین رضاکارانہ طور پر واپس افغانستان جاناچاہتے ہیں، ان کے لئے نوشہرہ اور کوئٹہ میں دو کیمپ قائم ہیں، اس کیمپ میں افغان مہاجرین کے سکریننگ کیلئے نادراکے مراکز بھی قائم کئے گئے ہیں ،ان افغان مہاجرین کی سکریننگ کے بعد انہیں ایک خصوصی مراسلہ دیاجاتاہے اورانہیں افغانستان روانہ کردیاجاتاہے، افغانستان میں ننگرہار ،قندھار اور کابل میں ان کیشمنٹ سنٹربنائے گئے ہیں ،جہاں یہ افغان مہاجرین پاکستان کی جانب سے جاری کردہ خصوصی مراسلہ دکھاتے ہیں اور انہیں فی کس 200ڈالرادائیگی کی جاتی ہے، ڈالرکی ادائیگی کیساتھ ہی ان کی افغان مہاجرین کی خصوصی حیثیت ختم ہوجاتی ہے ۔افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل نومہینے تک جاری رہتاہے ، جس کا دورانیہ یکم مارچ سے لیکر تیس نومبرتک ہوتاہے ،افغانستان میں موسم کی شدت کے باعث یکم دسمبر سے 28فروری تک ان کی واپسی کا عمل تین مہینے کیلئے روک دیاجاتاہے۔