پنجاب کو ہمیشہ سے پاکستان کا دل، زراعت کا گڑھ اور صنعت کا مرکز مانا جاتا ہے۔ لیکن آج میرا دل یہ سوچ کر خون کے آنسو روتا ہے کہ جس نوجوان نسل کو ہماری ترقی کا ضامن ہونا تھا، وہ غلط پالیسیوں اور فرسودہ نظام کی وجہ سے مایوسی کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔ ہمارے صوبے کی سب سے بڑی طاقت یہاں کے باصلاحیت نوجوان ہیں، جو کل آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ ہیں۔ اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں اور ان کی صلاحیتوں کو درست سمت نہ دی، تو یہ قیمتی اثاثہ ایک بہت بڑے ملکی اور سماجی بحران میں بدل جائے گا۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ عمارتیں اور سڑکیں بعد میں بنتی ہیں، پہلے قومیں اپنے انسانوں کو تیار کرتی ہیں۔پنجاب کو دوسرے صوبوں کے مقابلے میں بہت ترقی یافتہ اور ماڈل صوبہ سمجھا جاتا ہے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے اپنے صوبے میں لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ جنوبی پنجاب کے پسماندہ اضلاع سے لے کر وسطی پنجاب کے دیہی علاقوں تک، سرکاری اسکولوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کہیں اسکول کی عمارت خستہ حال ہے، کہیں پینے کا صاف پانی میسر نہیں، اور کہیں اساتذہ ہی غائب ہیں۔
حکومتیں ہر سال بجٹ میں تعلیم کے بلند و بانگ دعوے تو کرتی ہیں، لیکن وہ فنڈز زمین پر کام کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ غریب کا بچہ آج بھی اسی ٹاٹ اسکول میں بیٹھنے پر مجبور ہے جہاں اس کا مستقبل دھندلا ہو رہا ہے۔ ہم آج بھی بچوں کو وہی پرانا، لکیر کا فقیر بنانے والا نصاب پڑھا رہے ہیں جو کئی دہائیاں پہلے چل رہا تھا۔ ہمارے اسکولوں میں رٹہ سسٹم کا راج ہے جہاں بچوں کو صرف امتحانات پاس کرنا سکھایا جاتا ہے، کچھ نیا سوچنا، سوال کرنا یا زندگی کی عملی مہارتیں سیکھنا عیب سمجھا جاتا ہے۔
ہم بچوں کے ذہنوں کو کھول نہیں رہے بلکہ انہیں ایک مخصوص سانچے میں بند کر رہے ہیں۔ جب تک ہم سرکاری اسکولوں کا بجٹ نہیں بڑھائیں گے اور نصاب کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق نہیں ڈھالیں گے، ہم اپنی آنے والی نسلوں کے ساتھ ظلم کرتے رہیں گے۔ہم نے پنجاب بھر کے شہروں اور قصبوں میں یونیورسٹیاں اور کالجز تو گلی گلی کھول دیے ہیں، لیکن وہاں سے ڈگریاں لے کر نکلنے والے گریجویٹس کا مستقبل کیا ہے؟ ہر سال لاکھوں نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اور سی وی لیے نوکریوں کے لیے در در کی خاک چھان رہے ہیں۔
ہماری یونیورسٹیاں مارکیٹ کی ضرورت اور وقت کی رفتار کو سمجھے بغیر وہی روایتی ڈگریاں بانٹنے کی فیکٹریاں بن چکی ہیں۔آج کی دنیا پوری طرح ڈیجیٹل ہو چکی ہے۔ آج کے دور میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس، کمپیوٹر کوڈنگ، ڈیٹا سائنس اور ای کامرس کی مانگ ہے۔ لیکن ہمارے نوجوانوں کو یونیورسٹیوں میں اب بھی پرانی کتابی باتیں رٹائی جاتی ہیں۔ جب یہ گریجویٹس عملی میدان میں قدم رکھتے ہیں، تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی لاکھوں روپے کی ڈگری کی مارکیٹ میں کوئی قیمت ہی نہیں ہے۔
یہ تضاد اور ناامیدی ہمارے نوجوانوں میں شدید ذہنی دباؤ، چڑچڑاپن اور معاشرے کے خلاف غصہ پیدا کر رہی ہے، جس کا نقصان پورے سماج کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔آج پنجاب کے کسی بھی شہر، قصبے یا چھوٹے سے گاؤں میں چلے جائیں، ہر دوسرے نوجوان کا صرف ایک ہی خواب ہے، ”کسی طرح میرا پاسپورٹ بنے اور میں اس ملک سے باہر نکل جاؤں۔“ ہمارے قابل ترین ڈاکٹرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس، انجینئرز اور ہنر مند نوجوان دھڑا دھڑ یورپ، خلیجی ممالک اور کینیڈا کا رخ کر رہے ہیں۔ وہ اپنا سب کچھ بیچ کر باہر جانے کے لیے تیار ہیں کیونکہ انہیں یہاں اپنا مستقبل اندھیرے میں دکھائی دیتا ہے۔
ہم کب تک اپنے نوجوانوں کو صرف حب الوطنی کے طعنے دے کر روکتے رہیں گے؟ جب ملک میں بجلی اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہوں، چھوٹا موٹا کاروبار کرنا بھی عذاب بن چکا ہو، میرٹ کی کوئی قدر نہ ہو اور ہر جگہ سفارش و رشوت کا کلچر عام ہو، تو کوئی نوجوان یہاں کیوں رکے؟ اس برین ڈرین کی وجہ سے پنجاب اپنے بہترین دماغوں سے محروم ہو رہا ہے۔ جو ملک اپنے پڑھے لکھے اور ہنر مند دماغوں کو کھو دیتا ہے، وہ کبھی ترقی کی دوڑ میں شامل نہیں ہو سکتا۔
سیاسی بیانات اور کاغذی دعوے بہت ہو چکے، اب ہمیں حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عملی اور سیدھے حل کی طرف آنا ہوگا۔ اگر ہم سچ مچ پنجاب کا مستقبل بدلنا چاہتے ہیں، تو ہمیں درج ذیل اقدامات پر ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا۔جنوبی پنجاب سمیت تمام پسماندہ علاقوں کے اسکولوں کو ترجیحی بنیادوں پر فنڈز دیے جائیں۔ اسکولوں میں کمپیوٹر لیبز اور انٹرنیٹ کا ہونا اب عیاشی نہیں بلکہ بچوں کا بنیادی حق اور وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
تکنیکی اور ہنر مند تعلیم میٹرک اور انٹر کے بعد نوجوانوں کو صرف بی اے یا ایم اے کی روایتی ڈگریوں کے پیچھے لگانے کے بجائے شارٹ کورسز اور ووکیشنل ٹریننگ دی جائے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ جیسے اداروں کے دائرہ کار کو چھوٹے شہروں اور تحصیلوں تک پھیلایا جائے تاکہ ہمارے نوجوان فری لانسنگ اور ڈیجیٹل ہنر سیکھ کر اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں اور ڈالرز کما سکیں۔
حکومت پنجاب نوجوانوں کے لیے نئے کاروبار شروع کرنے کے قوانین کو بالکل آسان اور سادا کرے۔ نوجوانوں پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں اپنے آئیڈیاز پر کام کرنے کے لیے آسان شرائط پر اور بلا سود قرضے فراہم کیے جائیں تاکہ وہ نوکری مانگنے والے نہیں بلکہ نوکری دینے والے بنیں۔ہمارے صوبے کی صنعتوں اور چھوٹے کاروباروں کو بچانے کے لیے توانائی کا سستا ہونا ضروری ہے۔ جب تک بجلی اور گیس سستی نہیں ہوگی، پنجاب کی فیکٹریاں بند رہیں گی، اور جب فیکٹریاں بند ہوں گی تو روزگار کے نئے مواقع کہاں سے آئیں گے؟
یہ ملک اور یہ صوبہ ہمارا ہے، اور اس کی تقدیر ہمارے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ ہم اپنی نسل کو یوں مایوسی کی نذر نہیں کر سکتے۔ حکومت، سیاستدانوں اور اربابِ اختیار کو اب اپنی ترجیحات بدلنی ہوں گی۔ ہمیں فلائی اوورز اور سڑکوں پر اربوں روپے بہانے کے ساتھ ساتھ اپنے انسانوں، ان کی تعلیم اور ان کے ہنر پر انویسٹ کرنا ہوگا۔ وقت ریت کی طرح ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے، اگر ہم نے اب بھی اپنے نوجوانوں کو سنبھالا نہ دیا اور انہیں روزگار کے مواقع نہ فراہم کیے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔