جب خانہ کعبہ سے حجر اسود چوری کر لیا گیا۔۔!!

اس سال مکہ اور مدینہ سیاسی طور پر عباسی خلافت کے زیر اثر تھے لیکن حجاز میں عباسی حکومت کی عملی گرفت بہت کمزور ہو چکی تھی۔ بغداد بہت دور تھا اور عباسی خلافت کی وہ طاقت باقی نہیں رہی تھی جو کبھی اس وسیع سلطنت کے ہر حصے پر اپنا حکم چلا سکتی تھی۔ مکہ کے انتظام میں مقامی حکام کا کردار نمایاں تھا۔

اور اسی کمزوری کے زمانے میں قرامطہ نے وہ کام کیا جسے پڑھ کر آج بھی تاریخ کے صفحات پر حیرت ہوتی ہے۔

قرامطہ اسماعیلی تحریک سے نکلنے والی ایک الگ اور انتہائی جنگجو مذہبی سیاسی قوت تھے۔ مشرقی عرب میں انہوں نے اپنی طاقت قائم کی اور ان کا مرکز الاحساء کا علاقہ بنا۔ ابو سعید جنابی کے بعد اس کا بیٹا ابو طاہر سلیمان جنابی اقتدار میں آیا۔ قرامطہ عباسی خلافت کے سخت مخالف تھے اور اپنے مخصوص مذہبی نظریات کے تحت ایک نئے سیاسی اور مذہبی نظام کے قیام کے خواہاں تھے۔ ان کے حملے صرف مال و دولت کے لیے نہیں تھے بلکہ ان میں ایک واضح سیاسی اور مذہبی چیلنج بھی شامل تھا۔

پھر ۳۱۷ ہجری / ۹۳۰ عیسوی میں حج کا موسم آیا۔

دنیا بھر سے مسلمان مکہ پہنچے ہوئے تھے۔ لوگ حج کے مناسک میں مصروف تھے۔ کسی کو شاید یہ گمان بھی نہ تھا کہ چند ہی لمحوں بعد حرم کی وہ زمین جہاں انسان صدیوں سے امن تلاش کرتا آیا تھا خون سے بھرنے والی ہے۔

ابو طاہر سلیمان جنابی اپنے لشکر کے ساتھ مکہ میں داخل ہوا۔

قرامطہ نے حاجیوں اور اہل مکہ پر حملہ کر دیا۔ قتل عام شروع ہو گیا۔ مسجد حرام بھی محفوظ نہ رہی۔ خانہ کعبہ کے اندر تک خونریزی ہوئی۔ لوگ جان بچانے کے لیے بھاگے۔ بعض نے کعبہ کے پردے پکڑ لیے مگر وہاں بھی موت ان کے پیچھے پہنچ گئی۔

قدیم تاریخی روایات مقتولین کی تعداد بہت زیادہ بیان کرتی ہیں۔ بعض روایات میں تیس ہزار تک کا عدد بھی ملتا ہے لیکن جدید تاریخی تحقیق اس تعداد کو قطعی شمار نہیں سمجھتی۔ اس لیے درست بات یہی ہے کہ اس قتل عام میں حاجیوں اور اہل مکہ کی ایک بہت بڑی تعداد ماری گئی۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق مقتولین کی لاشیں زمزم کے کنویں میں پھینکی گئیں اور بہت سے لوگوں کو حرم ہی میں دفن کر دیا گیا۔

لیکن قرامطہ کا جنون ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔

ابو طاہر نے خانہ کعبہ کو لوٹا۔ اس کا دروازہ اکھڑوا دیا۔ غلاف اتروایا اور اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا۔ پھر اس کی نظر اس چیز پر پڑی جسے مسلمان صدیوں سے خانہ کعبہ کے ایک گوشے میں دیکھتے آئے تھے۔

حجر اسود۔

وہ مقدس پتھر جس کی طرف طواف کے دوران اشارہ کیا جاتا ہے اور موقع ہو تو اسے بوسہ دیا جاتا ہے۔

ابو طاہر کے حکم پر حجر اسود کو اس کی جگہ سے نکال لیا گیا۔

اور پھر وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا۔

یہ منظر شاید اس وقت مکہ میں موجود کسی شخص کے لیے ناقابل یقین رہا ہوگا۔ خانہ کعبہ اپنی جگہ کھڑا تھا لیکن اس کا ایک ایسا نشان جس سے مسلمانوں کی صدیوں پرانی عقیدت وابستہ تھی اب مکہ میں نہیں تھا۔

قرامطہ اسے اپنے مرکز مشرقی عرب کے علاقے الاحساء میں واقع ہجر لے گئے۔

حجر اسود صرف ایک دن کے لیے نہیں گیا تھا۔

ایک سال کے لیے بھی نہیں۔

وہ پورے بائیس سال تک خانہ کعبہ سے دور رہا۔

۳۱۷ ہجری / ۹۳۰ عیسوی سے ۳۳۹ ہجری / ۹۵۱ عیسوی تک۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے۔

حجر اسود کے بغیر حج کیسے ہوتا رہا؟

جواب یہ ہے کہ حجر اسود حج یا عمرہ کا الگ رکن نہیں ہے۔ طواف میں اس کی طرف اشارہ کرنا یا اسے بوسہ دینا سنت ہے۔ اس لیے حجر اسود کی غیر موجودگی کے باوجود طواف اور دوسرے مناسک ادا کیے جا سکتے تھے۔

البتہ ۳۱۷ ہجری / ۹۳۰ عیسوی کا حج قرامطہ کے حملے کی وجہ سے تباہی میں بدل گیا تھا۔ اس کے بعد بھی قرامطہ نے حجاج کے راستوں کو نشانہ بنایا اور کئی برس تک حج کے سفر کو شدید خطرات لاحق رہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بائیس سال تک ہر سال حج مکمل طور پر بند رہا۔ مختلف ادوار میں حالات بدلتے رہے اور مسلمان حج کے لیے مکہ پہنچتے رہے۔

کعبہ موجود تھا۔

طواف موجود تھا۔

حج موجود تھا۔

لیکن حجر اسود اپنی جگہ موجود نہیں تھا۔

اور دوسری طرف قرامطہ اسے اپنے پاس رکھے بیٹھے تھے۔

مسلمانوں نے اسے واپس لینے کی کوششیں کیں۔ عباسی حکومت نے مطالبہ کیا۔ مختلف سفارت کار بھیجے گئے۔ بھاری رقم کی پیشکش کی گئی۔ مگر قرامطہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔

ان کا جواب یہی تھا کہ انہوں نے اسے ایک حکم کے تحت لیا ہے اور اسی حکم کے تحت واپس کریں گے۔

یہاں تاریخ ایک عجیب طنز بھی محفوظ کرتی ہے۔

جن لوگوں نے حجر اسود کو مکہ سے نکالا تھا وہ اس کی واپسی کو بھی اپنے مذہبی حکم سے جوڑ رہے تھے۔ گویا خانہ کعبہ کا مقدس پتھر بھی ان کے سیاسی کھیل کا ایک مہرہ تھا۔

لیکن تاریخ ہمیشہ کسی ایک طاقت کے حکم پر نہیں چلتی۔

وقت گزرتا گیا۔

ابو طاہر کی طاقت بڑھی۔ اس نے عرب کے مختلف علاقوں پر حملے کیے۔ قرامطہ کئی برس تک حجاج کے لیے خوف کی علامت بنے رہے۔ ان کے حملوں نے عباسی خلافت کی کمزوری بھی نمایاں کر دی۔ بغداد کی حکومت اپنے ہی دور میں مکہ سے اٹھائے گئے حجر اسود کو فوری طور پر واپس نہیں لا سکی۔

پھر حجاز کی سیاست بھی بدلنے لگی۔

۳۲۳ ہجری / ۹۳۵ عیسوی کے بعد عباسی حکومت نے حجاز کے انتظام میں مصر کے اخشیدی حکمرانوں کو زیادہ اہم کردار دیا۔ مکہ اور مدینہ کے معاملات اب بغداد کے ساتھ مصر کی طاقت سے بھی جڑنے لگے۔

لیکن حجر اسود اب بھی مکہ سے دور تھا۔

پھر ۳۳۹ ہجری / ۹۵۱ عیسوی آیا۔

بائیس سال گزر چکے تھے۔

قرامطہ نے آخرکار حجر اسود واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔

اسے پہلے کوفہ لے جایا گیا۔ جامع کوفہ میں اسے لوگوں کو دکھایا گیا۔ پھر اسے مکہ روانہ کیا گیا۔

اور پھر وہ لمحہ آیا جس کا انتظار بائیس برس سے تھا۔

حجر اسود دوبارہ مکہ پہنچ گیا۔

دوبارہ خانہ کعبہ میں نصب کر دیا گیا۔

تاریخی روایات میں اس کی واپسی کی وجہ کے بارے میں مختلف تفصیلات ملتی ہیں۔ بعض روایات میں فاطمی دربار کی طرف سے قرامطہ پر دباؤ یا حجر اسود واپس کرنے کے مطالبے کا ذکر ملتا ہے۔ دوسری تاریخی روایات میں عباسی حکومت کی طرف سے مالی پیشکش اور سیاسی دباؤ کا ذکر ہے۔ ابن الاثیر کی روایت میں عباسی دربار کی طرف سے پچاس ہزار دینار کی پیشکش کا بھی ذکر ملتا ہے جسے ابتدا میں قرامطہ نے قبول نہیں کیا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ صرف ایک ہی وجہ سے حجر اسود واپس کیا گیا۔

اب حجر اسود دوبارہ اپنی جگہ تھا۔

مکہ دوبارہ اپنی پرانی رونق کی طرف لوٹ رہا تھا۔

مگر بائیس برس کی تاریخ اپنے پیچھے ایک ایسا سوال چھوڑ چکی تھی جس کا جواب آج بھی تاریخ کے طالب علم تلاش کرتے ہیں۔

آخر قرامطہ نے مکہ پر حملہ کیوں کیا تھا؟

صرف مال کے لیے؟

صرف سیاسی طاقت کے لیے؟

صرف عباسی خلافت کو چیلنج کرنے کے لیے؟

یا اس کے پیچھے ان کے مذہبی نظریات بھی کارفرما تھے؟

تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ان تمام عوامل کا تعلق اس واقعے سے تھا۔ قرامطہ عباسی خلافت کے دشمن تھے۔ ان کا اپنا مذہبی سیاسی تصور تھا اور وہ موجودہ اسلامی سیاسی نظام کو چیلنج کر رہے تھے۔ حجر اسود کو لے جانا اسی چیلنج کی سب سے انتہائی علامت بن گیا۔ جدید تحقیق کے مطابق ابو طاہر کے مکہ پر حملے اور حجر اسود لے جانے نے قرامطہ کی سیاسی اور مذہبی سوچ کو ایک انتہائی نمایاں شکل دے دی تھی۔

مگر تاریخ کا فیصلہ بڑا عجیب ہوتا ہے۔

قرامطہ حجر اسود کو مکہ سے اٹھا کر لے گئے۔

بائیس برس تک اسے اپنے پاس رکھا۔

مکہ پر حملہ کیا۔

حاجیوں کو قتل کیا۔

خانہ کعبہ کو لوٹا۔

اس کے غلاف کو اپنے لوگوں میں بانٹا۔

دروازہ اکھاڑا۔

اور پھر آخرکار وہی حجر اسود دوبارہ مکہ واپس آ گیا۔

قرامطہ کہاں گئے؟

ان کی طاقت کہاں گئی؟

ان کی حکومت کہاں گئی؟

ان کے سیاسی منصوبے کہاں گئے؟

تاریخ نے سب کو اپنے صفحات میں دفن کر دیا۔

لیکن خانہ کعبہ آج بھی موجود ہے۔

اور حجر اسود آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

یہی شاید اس واقعے کا سب سے دلچسپ پہلو ہے۔

ایک طاقت نے سمجھا کہ وہ خانہ کعبہ سے حجر اسود نکال کر تاریخ کا رخ بدل دے گی۔

اس نے حجر اسود تو اٹھا لیا۔

مگر تاریخ نہیں اٹھا سکی۔

۳۳۹ ہجری / ۹۵۱ عیسوی میں حجر اسود دوبارہ خانہ کعبہ میں اپنی جگہ آ گیا۔

بائیس سال کا سفر ختم ہوا۔

مگر قرامطہ کا نام ہمیشہ کے لیے اس واقعے کے ساتھ جڑ گیا جس میں انہوں نے مکہ پر حملہ کیا۔ حاجیوں کا خون بہایا۔ خانہ کعبہ کو لوٹا اور حجر اسود کو اس کی جگہ سے نکال کر بائیس برس تک مکہ سے دور رکھا۔

آج جب کوئی مسلمان خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا ہو کر حجر اسود کو دیکھتا ہے تو شاید اسے اندازہ بھی نہ ہو کہ اس مقدس گوشے نے تاریخ کے کتنے ہنگامہ خیز سال دیکھے ہیں۔

ایک وقت تھا جب وہاں حجر اسود نہیں تھا۔

صرف اس کی خالی جگہ تھی۔

اور بائیس برس بعد وہ دوبارہ وہیں تھا۔

جیسے تاریخ خود کہہ رہی ہو کہ طاقت کے زور پر مقدس مقامات کی تاریخ نہیں لکھی جاتی۔

تاریخ آخرکار اپنا راستہ خود بناتی ہے۔

حوالہ جات

ابن الاثیر۔ الکامل فی التاریخ۔ جلد ۶۔ سنہ ۳۱۷ ہجری۔ مکہ پر قرامطہ کا حملہ اور حجر اسود لے جانے کا واقعہ۔

ابن الاثیر۔ الکامل فی التاریخ۔ جلد ۷۔ سنہ ۳۳۹ ہجری۔ حجر اسود کی مکہ واپسی۔

ابن کثیر۔ البدایہ والنہایہ۔ سنہ ۳۱۷ ہجری اور سنہ ۳۳۹ ہجری کے واقعات۔

علی بن حسین المسعودی۔ التنبیہ والاشراف۔ قرامطہ اور حجر اسود کے واقعات۔

انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا۔ مقالہ قرامطہ۔ ابو طاہر کا مکہ پر حملہ اور حجر اسود کی واپسی۔

موسوعہ مملکت عربستان سعودی۔ مکہ اور قرامطہ کے تاریخی واقعات۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے