اس دن چلچلاتی دھوپ اور شدید حبس میں جب میں شہر کی ایک مصروف شاہراہ سے گزر رہی تھی، تو میری نظر”وزیراعظم خصوصی ریلیف اسکیم“ کے ایک پٹرول کیمپ پر پڑی۔ وہاں تپتی دھوپ میں کھڑے مجبور لوگوں کا ایک لامتناہی ہجوم تھا۔ ایک لمحے کے لیے بطور پاکستانی شہری میرے دل میں بھی یہ خیال چٹکی کاٹ گیا کہ کیوں نہ میں بھی اپنی گاڑی رجسٹرڈ کروا کر اس اسکیم کا حصہ بن جاؤں؟ آخر ملک کی شہری میں بھی ہوں اور اس کمر توڑ مہنگائی کے دور میں ریلیف کی حقدار بھی۔ لیکن جب میں نے گاڑی آہستہ کر کے وہاں موجود متوسط اور دیہاڑی دار طبقے کے چہروں کو قریب سے دیکھا، تو وہاں پھیلی مایوسی، تھکن اور تذلیل کے احساس نے میرے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی اور عالمی منڈی کا روایتی جواز بنا کر جب بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں غریب کی کمر توڑتی ہیں، تو حکومتِ وقت روایتی پھرتی دکھاتے ہوئے پٹرول پر ”100 روپے فی لیٹر ریلیف“ جیسی چکا چوند اسکیموں کا اعلان کر دیتی ہے۔ بظاہر یہ سو روپے کا ہندسہ بڑا دلکش اور تسلی بخش معلوم ہوتا ہے، لیکن جب اس اسکیم کی گہرائی، پیچیدہ طریقہ کار اور زمینی حقائق کا جائزہ لیا جائے، تو یہ ریلیف کم اور غریب عوام کے ساتھ ایک سنگین مذاق زیادہ نظر آتا ہے۔یہ رعایت موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو دی جائے گی۔
لیکن یہاں سب سے مضحکہ خیز تضاد یہ ہے کہ یہ ریلیف صرف ان سواریوں کو ملے گا جو نادرا اور ایکسائز کے جدید ڈیجیٹل ریکارڈ پر رجسٹرڈ ہیں۔ اب ذرا زمینی حقائق دیکھیے۔ اس ملک کا اصل غریب شو روم سے نکلی نئی بائیک نہیں چلاتا، بلکہ وہ کئی سال پرانے ماڈل کی بائیک یا سستی, پرانی مہران خریدتا ہے۔ ان سواریوں میں سے آدھی سے زیادہ کا ریکارڈ یا تو اوپن ٹرانسفر لیٹر پر چل رہا ہے، یا ایکسائز کے پرانے مینوئل سسٹم میں دبا ہوا ہے۔ غریب کے پاس اتنے پیسے ہی نہیں ہوتے کہ وہ ہزاروں روپے فیس دے کر گاڑی اپنے نام منتقل کروائے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ وہ سفید پوش طبقہ، جو اس وقت سب سے زیادہ پٹرول کی قیمتوں کا ستم جھیل رہا ہے، اپنی پرانی سواری اور کاغذی پیچیدگیوں کی وجہ سے اس اسکیم سے یکسر باہر کر دیا گیا ہے۔ اتفاق سے میرے پاس بھی ایک پرانے ماڈل کی مہران گاڑی ہے، لہذا تکنیکی طور پر میں بھی اس اسکیم سے باہر ہو گئی۔ اب مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں اس بات پر دکھ مناؤں کہ حکومت کی شہری ہونے کے باوجود میں اس ریلیف سے محروم رہ گئی، یا پھر اس بات پر خوشی کا اظہار کروں کہ میں پٹرول ریلیف کے نام پر ملنے والی ذلت و خواری اور تپتی دھوپ کی لمبی لائنوں سے بچ گئی۔
اصل تماشہ تو اس ریلیف کو حاصل کرنے کے پیچیدہ اور فرسودہ طریقہ کار میں چھپا ہوا ہے۔ نادرا، وزارتِ آئی ٹی اور ٹیلی کام کمپنیوں کے اشتراک سے ایک ایسا ڈیجیٹل گورکھ دھندا تیار کیا گیا ہے جسے سمجھنا ایک عام شہری کے لیے جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ پہلے موبائل سے ایس ایم ایس کرو، پھر تصدیق کا انتظار کرو، اور پھر پمپوں پر گھنٹوں خوار ہو کر یہ سستا پٹرول لو۔ جو غریب پورا دن مزدوری کر کے بمشکل چند سو روپے کماتا ہے، کیا وہ پمپس پر گھنٹوں خوار ہو کر یہ سستا پٹرول لینے جائے گا یا اپنے بچوں کے لیے روٹی کا بندوبست کرے گا؟
حکمران شاید زمینی حقائق سے اتنے کٹ چکے ہیں کہ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ معیشت کا پہیہ کیسے چلتا ہے۔ پٹرول مہنگا ہونے سے صرف گاڑی کی ٹینکی مہنگی نہیں ہوتی، بلکہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے سبزی، دال، آٹا اور ادویات غریب کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہیں۔ حکومت کی یہ ”ٹارگٹڈ subsidy“ اس ہمہ گیر مہنگائی کا کوئی علاج نہیں۔ موٹر سائیکل کے لیے مہینے میں صرف 20 لیٹر اور گاڑی کے لیے محض 30 لیٹر پٹرول کا کوٹا دیا جاتا ہے، جو روزانہ کا ایک لیٹر بھی نہیں بنتا۔ حکومت غریب کو مہینے میں صرف دو سے تین ہزار روپے کی”امداد“ دے کر یہ سمجھ رہی ہے کہ اس نے مہنگائی کا جن بوتل میں بند کر دیا ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی شدید زخمی شخص کے گہرے زخم پر رنگ برنگا بینڈ ایڈ لگا کر الوداع کہہ دیا جائے۔
اگر حکومت واقعی اس اسکیم کو پبلک پالیسی اور عوامی فلاح کے نقطہ نظر سے مساوی اور موثر بنانا چاہتی ہے، تو اسے مروجہ طریقہ کار میں تبدیلیاں لانا ہوں گی۔ سب سے پہلے، موجودہ رجسٹریشن کو آسان بنا کر صرف ایک ایس ایم ایس (جیسے بینظیر انکم سپورٹ کی 8171 سروس ہے) یا موبائل ایپ کے ذریعے تصدیق کا فوری نظام بنایا جائے، اور یونین کونسل کی سطح پر”سہولت ڈیجیٹل ڈیسک“ قائم کیے جائیں۔ دوسرا اہم قدم یہ ہونا چاہیے کہ یہ سبسڈی براہِ راست مستحقین کے بینک اکاؤنٹس یا BISP کے ذریعے نقد رقم کی صورت میں منتقل کی جائے تاکہ پمپوں پر لگنے والا تماشہ ختم ہو۔ آمدن کی حد کا تعین کرنے کے لیے صرف ”800 سی سی گاڑی“ کو معیار بنانا ایک فاش غلطی ہے، کیونکہ امیر خاندانوں کے پاس بھی دوسری یا تیسری گاڑی کے طور پر 800 سی سی گاڑی موجود ہوتی ہے۔ اس کے بجائے نادرا کے ڈیٹا بیس کے ذریعے شہری کی اصل معاشی حالت کو دیکھ کر اہلیت کا فیصلہ کیا جائے۔
ان سب سے بڑھ کر ہمیں طویل مدتی اور پائیدار متبادل کی ضرورت ہے۔ پٹرول پر اربوں روپے کی وقتی اور ضائع ہونے والی سبسڈی دینے کے بجائے، حکومت یہ رقم موٹر سائیکل اور رکشہ مالکان کو آسان اقساط یا بھاری سبسڈی پر الیکٹرک بائیکس فراہم کرنے کے لیے استعمال کرے۔ اگر پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو ترجیح دی جائے اور الیکٹرک سواریوں پر انویسٹمنٹ کی جائے، تو پٹرول کی امپورٹ پر ملک کا سالانہ بوجھ ہمیشہ کے لیے کم ہو جائے گا۔جب تک حکومت بنیادی معاشی مسائل کو حل کرنے کے بجائے نمائشی جھنجھنوں سے عوام کو بہلانے کی کوشش کرتی رہے گی، تب تک ہر ریلیف پیکیج غریب کے زخموں پر نمک پاشی ہی رہے گا۔ خدارا! عوام کو ریلیف کے نام پر تماشہ نہ بنائیے۔ سو روپے کا یہ ہندسہ اخبارات کے اشتہارات میں تو اچھا لگ سکتا ہے، لیکن غریب کے خالی چولہے اور مرجھائے ہوئے چہرے اس کی حقیقت کو بخوبی جانتے ہیں۔