معاشرہ صرف سڑکوں، بازاروں اور عمارتوں کا نام نہیں؛ معاشرہ دراصل انسان کے باہمی اعتماد، رشتوں کے احترام اور قانون کی پاسداری سے تشکیل پاتا ہے۔ جب یہی اعتماد ٹوٹنے لگے، رشتوں کی حرمت پامال ہونے لگے اور گھر جیسی محفوظ جگہ بھی خوف کی علامت بن جائے تو مسئلہ صرف ایک جرم کا نہیں رہتا، پورا معاشرہ سوال بن جاتا ہے۔
کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں ایک ماں اور اس کے تین بچوں کا قتل اسی تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ایک گھر اجڑ گیا، ایک خاندان ہمیشہ کے لیے غم میں ڈوب گیا اور تین معصوم زندگیاں دنیا دیکھنے سے پہلے ہی ختم ہوگئیں۔ پولیس کی تفتیش میں ایک قریبی شخص کو مبینہ طور پر ملوث قرار دیا گیا، جبکہ بعد میں پولیس کے مطابق وہ حراست کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔
لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں کہ قاتل کون تھا؟اصل سوال یہ ہے کہ وہ ذہن کہاں سے پیدا ہوتا ہے جو ایک عورت کی حرمت، بچوں کی معصومیت اور خاندانی رشتوں کی تقدیس کو روندنے پر آمادہ ہوجاتا ہے؟ہم نے جرم کو صرف پولیس اور عدالت کا مسئلہ سمجھ لیا ہے، حالانکہ جرم کی جڑیں اکثر معاشرے کے اندر موجود ہوتی ہیں۔
جب بدنگاہی کو معمولی بات سمجھا جائے، عورت کی عزت کو کم تر سمجھا جائے، طاقتور کو کمزور پر فوقیت دی جائے اور بچوں کے تحفظ کو صرف والدین کی ذمہ داری سمجھا جائے تو برائی کو پھیلنے کا راستہ ملتا ہے۔ایک کہاوت ہے: ’’گھر کی بنیاد اینٹوں سے نہیں، اعتماد سے بنتی ہے۔‘‘ جب اعتماد ہی مجروح ہوجائے تو مضبوط سے مضبوط گھر بھی اندر سے کھوکھلا ہوجاتا ہے۔اسلام نے انسانی جان، عزت اور مال کو حرمت عطا کی ہے۔
رشتے صرف خون کے تعلق کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری، اعتماد اور امانت کا نام ہیں۔ جو شخص کسی گھر میں رشتہ دار، پڑوسی یا شناسا بن کر داخل ہوتا ہے، اس سے سب سے پہلے امانت داری اور خیرخواہی کی توقع کی جاتی ہے۔ اگر یہی اعتماد جرم میں بدل جائے تو نقصان صرف ایک فرد کا نہیں، پورے معاشرتی ڈھانچے کا ہوتا ہے۔
یہاں ہمیں اپنے گھروں کی تربیت پر بھی غور کرنا ہوگا۔ کیا ہم اپنے بچوں کو صرف کتابیں پڑھاتے ہیں یا انہیں زندگی کے خطرات سے بھی آگاہ کرتے ہیں؟ کیا ہم انہیں یہ سکھاتے ہیں کہ کسی مشکوک رویے کو محسوس کریں تو فوراً والدین یا کسی قابلِ اعتماد فرد کو بتائیں؟بچوں کی حفاظت صرف تالے، دروازوں اور چار دیواری سے نہیں ہوتی؛ بچوں کو شعور، اعتماد اور بروقت رہنمائی بھی دینا پڑتی ہے۔
اسی طرح عورت کا تحفظ صرف اس وقت یاد نہیں آنا چاہیے جب کوئی سانحہ پیش آجائے۔ عورت کو عزت، تحفظ اور قانونی حق دینا مستقل معاشرتی ذمہ داری ہے۔ کسی عورت کی کمزوری کو جرم کا موقع سمجھنے والی ذہنیت کی اصلاح گھر سے شروع ہونی چاہیے اور مدرسے، اسکول، مسجد، میڈیا اور معاشرے تک پہنچنی چاہیے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خاموشی ہمیشہ شرافت نہیں ہوتی؛ بعض اوقات خاموشی برائی کو طاقت دیتی ہے۔
اگر کسی گھر، محلے یا ادارے میں ہراسانی، تشدد یا مشکوک رویہ نظر آئے تو اسے ’’یہ ہمارا مسئلہ نہیں‘‘ کہہ کر نظرانداز کرنا اجتماعی ذمہ داری سے فرار ہے۔اس سانحے نے قانون کی بالادستی کا سوال بھی سامنے کھڑا کردیا ہے۔
پولیس کے مطابق زیرِحراست ملزم نے اہلکار سے پستول چھین کر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں مارا گیا۔
اگر واقعہ پولیس کے بیان کے مطابق پیش آیا تو اس کی بھی شفاف قانونی جانچ ہونی چاہیے، کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی قانون ہی کے پابند ہیں۔جرم کتنا ہی سنگین کیوں نہ ہو، ریاستی نظام جذبات کے بجائے قانون اور شواہد پر قائم رہتا ہے۔ اگر کوئی ملزم زندہ ہو تو اس کے خلاف شواہد عدالت میں پیش کیے جاتے ہیں اور فیصلہ عدالت کرتی ہے۔ یہی اصول معاشرے کو انتقام سے انصاف کی طرف لے جاتا ہے۔یہاں میڈیا اور سوشل میڈیا کی ذمہ داری بھی بہت اہم ہے۔
کسی اندوہناک واقعے کو سنسنی، افواہ اور غیر مصدقہ دعووں کے ذریعے پیش کرنا انصاف کی خدمت نہیں۔ ایک متاثرہ خاندان پہلے ہی ناقابلِ بیان صدمے سے گزر رہا ہوتا ہے؛ ایسے میں خبر کو تماشہ بنانے کے بجائے شعور کا ذریعہ بنانا صحافت کا اصل کردار ہے۔صحافت کا کام صرف یہ بتانا نہیں کہ ’’کیا ہوا؟‘‘ بلکہ کبھی کبھی یہ سوال اٹھانا بھی ہے کہ ’’ایسا کیوں ہوا اور آئندہ اسے کیسے روکا جاسکتا ہے؟‘‘ہمیں ہر سانحے کے بعد چند دن افسوس کرکے اسے بھول جانے کی عادت بدلنا ہوگی۔
اگر ایک ماں اور اس کے بچے قتل ہوجائیں تو سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ قاتل کون تھا؛ سوال یہ بھی ہونا چاہیے کہ ہمارے گھروں، محلوں، تعلیمی اداروں اور ریاستی اداروں میں وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن سے ایسے جرائم کو راستہ ملتا ہے؟جرائم کی روک تھام کے لیے مضبوط تفتیش، جدید فرانزک نظام، مؤثر پولیسنگ، فوری عدالتی کارروائی اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت ضروری ہے۔ جدید دور میں جرم کی تفتیش محض شبہات اور قیاس پر نہیں بلکہ قابلِ تصدیق شواہد پر ہونی چاہیے۔
لیکن قانون صرف اداروں سے نہیں چلتا؛ شہری بھی اس کے محافظ ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے بچوں کو اچھے اور برے لمس کا فرق سمجھانا ہوگا، مشکوک رویوں کو نظرانداز نہیں کرنا ہوگا، خواتین کی شکایات کو سنجیدگی سے لینا ہوگا اور اپنے اردگرد ہونے والی برائی کے خلاف بروقت آواز اٹھانی ہوگی۔سرجانی ٹاؤن کا سانحہ ہمیں ایک تلخ مگر ضروری سبق دیتا ہے:’’جرم صرف اس وقت پیدا نہیں ہوتا جب ہاتھ میں ہتھیار آتا ہے؛ جرم اس وقت بھی جنم لیتا ہے جب معاشرہ برائی کو دیکھ کر خاموش ہوجاتا ہے۔‘‘ایک ماں اور تین بچوں کی قبریں ہم سے سوال کرتی ہیں: ہم نے اپنے معاشرے کو کس سمت پہنچا دیا ہے؟
اگر ہم ہر سانحے کے بعد صرف قاتل تلاش کرکے مطمئن ہوجائیں تو شاید ہم نے اصل مسئلہ سمجھا ہی نہیں۔
اصل اصلاح یہ ہے کہ گھروں میں تربیت ہو، معاشرے میں ذمہ داری ہو، اداروں میں احتساب ہو، پولیس میں شفافیت ہو، عدالت میں انصاف ہو اور ہر انسان دوسرے کی جان و عزت کو امانت سمجھے۔کیونکہ ایک محفوظ معاشرہ وہ نہیں جہاں جرم کے بعد قاتل پکڑا جائے محفوظ معاشرہ وہ ہے جہاں جرم کرنے سے پہلے ہی خوفِ خدا، قانون کا احترام اور انسانیت انسان کو روک دے۔