جب علم دیوار میں چُن دیا گیا۔۔۔!!

مصطفیٰ علوان بہت پریشان تھا۔

حمص کی گلیوں میں حالات بدل رہے تھے۔ 2011 کا سال تھا۔ شام میں احتجاج شروع ہو چکے تھے۔ شہر میں فوجی کارروائیاں ہو رہی تھیں۔ گولہ باری اور چھاپوں کی خبریں آ رہی تھیں۔ لوگوں کے گھروں میں خوف اتر چکا تھا اور کسی بھی وقت کسی کے دروازے پر دستک ہو سکتی تھی۔

مصطفیٰ گھر میں ٹہل رہا تھا۔

کبھی وہ کھڑکی کے پاس جا کر باہر دیکھتا اور پھر خاموشی سے واپس آ جاتا۔ کبھی دروازے کی طرف دیکھتا اور پھر اپنے خیالوں میں گم ہو جاتا۔

اس کے ذہن میں ایک ہی سوال بار بار آ رہا تھا۔

اگر اچانک گھر میں کوئی آ گیا تو؟

اگر تلاشی شروع ہو گئی تو؟

اگر سوالات ہونے لگے تو وہ کیا جواب دے گا؟

وہ کس بات کی وضاحت کرے گا؟

اور اگر بات اس کے اختیار سے باہر نکل گئی تو؟

مصطفیٰ جانتا تھا کہ حالات سنگین ہو چکے ہیں۔ ایسے وقت میں گھر کی کوئی بھی چیز کسی کے لیے سوال بن سکتی تھی۔ ایک سوال دوسرے سوال کو جنم دے سکتا تھا اور ایک معمولی سی چیز بھی پورے خاندان کے لیے پریشانی کا سبب بن سکتی تھی۔

لیکن مصطفیٰ کی پریشانی صرف اپنی ذات تک محدود نہیں تھی۔

اسے اپنے بیٹے بلال کی فکر تھی۔

بلال علوان اپنی ایک بڑی ذاتی لائبریری رکھتا تھا۔ وہ کتابیں برسوں میں جمع کی گئی تھیں۔ اسلامی علوم کی کتابیں تھیں۔ دینی اور علمی کتابیں تھیں۔ احادیث کے مجموعے تھے۔ قرآنی قراءتوں کی اجازات تھیں۔ علمی اسناد تھیں۔ ذاتی دستاویزات تھیں اور بہت سا ایسا مواد تھا جو بلال کی علمی زندگی کا حصہ تھا۔

بلال کویت جانے والا تھا۔

مصطفیٰ کے سامنے ایک مشکل سوال تھا۔

اگر حالات مزید خراب ہو گئے تو ان کتابوں کا کیا ہوگا؟

اگر گھر کی تلاشی ہوئی تو کیا ہوگا؟

اگر کتابیں ضائع ہو گئیں تو؟

اور اگر یہ علمی خزانہ ایک بار ختم ہو گیا تو اسے دوبارہ جمع کرنا کتنا مشکل ہوگا؟

مصطفیٰ کے لیے یہ صرف کتابیں نہیں تھیں۔ یہ اس کے بیٹے کی برسوں کی محنت اور اس کی علمی زندگی کا ایک حصہ تھیں۔ ایک باپ ہی سمجھ سکتا تھا کہ اس کے بیٹے کے لیے یہ خزانہ کتنا اہم ہے اور اس کی اصل قیمت کیا ہے۔

وہ دیر تک سوچتا رہا۔

کیا کتابیں کہیں منتقل کر دی جائیں؟

کیا انہیں کسی کے حوالے کر دیا جائے؟

کیا انہیں ایسے ہی رہنے دیا جائے؟

یا پھر کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے کتابیں بھی محفوظ رہیں اور گھر بھی؟

آخرکار اس نے فیصلہ کر لیا۔

کتابیں چھپائی جائیں گی۔

مگر عام انداز میں نہیں۔

اس نے گھر میں ایک ایسی جگہ منتخب کی جہاں کتابوں کو محفوظ کیا جا سکے۔

پھر سیمنٹ آیا۔

ریت آئی۔

اینٹیں آئیں۔

اور ایک دیوار کھڑی ہونے لگی۔

مصطفیٰ نے اپنے بیٹے بلال کی لائبریری کو اس دیوار کے پیچھے محفوظ کر دیا۔

ایک ایک کتاب۔

ایک ایک جلد۔

ایک ایک دستاویز۔

وہ سب کچھ جسے بلال نے برسوں میں جمع کیا تھا۔

دیوار بنتی گئی اور کتابیں نظروں سے اوجھل ہوتی گئیں۔

آخرکار سیمنٹ کی آخری تہہ بھی لگا دی گئی۔

اب وہاں صرف ایک عام سی دیوار تھی۔

ایسی دیوار جسے دیکھ کر کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے پیچھے ایک پوری لائبریری موجود ہے۔

مصطفیٰ نے اپنا کام مکمل کر لیا تھا۔

اس نے اپنے بیٹے کے سفر سے پہلے اس کی کتابوں کو محفوظ کر دیا تھا۔

پھر وقت گزرنے لگا۔

ایک سال گزر گیا۔

دو سال گزر گئے۔

پانچ سال گزر گئے۔

دس سال گزر گئے۔

مگر دیوار اپنی جگہ کھڑی رہی۔

اس کے پیچھے کتابیں خاموشی سے موجود رہیں۔

نہ کسی نے انہیں کھولا۔

نہ کسی نے ان کے صفحات پلٹے۔

نہ کسی نے ان کے درمیان رکھی ہوئی دستاویزات کو دیکھا۔

وہ سب کچھ اسی طرح بند رہا جیسے وقت نے اسے ایک لمحے میں روک دیا ہو۔

تقریباً پندرہ سال گزر گئے۔

دنیا بدل گئی۔

شام کے حالات بدل گئے۔

اور پھر وہ وقت آیا جب مصطفیٰ نے فیصلہ کیا کہ اب اس دیوار کو کھول دیا جائے۔

24 اگست 2026 کو دیوار توڑی گئی۔

اور پھر جو منظر سامنے آیا وہ کسی حیرت انگیز کہانی سے کم نہیں تھا۔

کتابیں وہاں موجود تھیں۔

سینکڑوں کتابیں اور مجلدات۔

علمی اور دینی کتب۔

قرآنی قراءتوں کی اجازات۔

شہادتیں۔

ذاتی دستاویزات۔

وہ سب کچھ جو تقریباً پندرہ سال پہلے دیوار کے پیچھے چھپا دیا گیا تھا۔

حیرت انگیز بات یہ تھی کہ کتابیں بڑی اچھی حالت میں موجود تھیں۔

نہ وہ بکھری ہوئی تھیں۔

نہ ضائع ہوئی تھیں۔

نہ وقت نے انہیں اس طرح کھایا تھا جیسے عام طور پر برسوں بند رہنے والی کتابوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

ایسا لگتا تھا جیسے پندرہ سال گزرے ہی نہیں۔

مصطفیٰ کے لیے شاید یہ لمحہ صرف خوشی کا نہیں بلکہ اطمینان کا بھی تھا۔

اسے معلوم تھا کہ اس نے کیا بچایا ہے۔

ایک کتاب خریدی جا سکتی ہے لیکن ایک پوری ذاتی لائبریری دوبارہ اسی ترتیب سے جمع کرنا آسان نہیں ہوتا۔

ہر کتاب کے پیچھے کسی نہ کسی انسان کی محنت ہوتی ہے۔ کسی کی تحقیق۔ کسی کا مطالعہ۔ کسی کی زندگی کے کئی سال۔

اور اسے یہ بھی معلوم تھا کہ حالات ایسے تھے جن میں کتابوں کو محفوظ کرنا بھی ایک خطرہ مول لینے کے برابر تھا۔

لیکن اس نے کتابیں ضائع نہیں کیں۔

اس نے انہیں محفوظ کر دیا۔

ایک دیوار کے پیچھے۔

پھر وقت کا انتظار کیا۔

شاید کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ وقت کے گزرنے سے بے معنی نہیں ہوتی۔ اسے کسی دیوار کے پیچھے چھپایا جا سکتا ہے۔ برسوں تک کسی بند جگہ میں رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے صفحات کو کوئی ہاتھ نہ لگائے تب بھی اس کے اندر محفوظ علم اپنی جگہ موجود رہتا ہے۔

مصطفیٰ علوان جانتا تھا کہ اس دیوار کے پیچھے صرف کاغذ اور سیاہی نہیں ہے۔ وہاں اس کے بیٹے کی برسوں کی محنت تھی۔ ایک ایسا علمی سرمایہ تھا جسے دوبارہ جمع کرنا شاید پوری زندگی بھی لے لیتا۔

اس نے اس خزانے کو بچانے کے لیے ایک دیوار کھڑی کی اور پھر تقریباً پندرہ سال تک انتظار کیا۔

آخرکار دیوار ٹوٹ گئی۔

کتابیں باہر آ گئیں۔

اور شاید اس دن مصطفیٰ کو سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی ہوگی کہ اس نے اپنے ایک فیصلے سے اپنے بیٹے کا علمی خزانہ محفوظ کر لیا تھا۔

بعض اوقات زندگی میں بڑے فیصلے بہت خاموشی سے کیے جاتے ہیں۔ ان کا کوئی شور نہیں ہوتا۔ کوئی گواہ نہیں ہوتا۔ بس ایک انسان ہوتا ہے جو حالات کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے کہ ابھی خاموش رہنا ہی بہتر ہے۔

مصطفیٰ نے بھی وہی کیا تھا۔

ایک دیوار بنائی۔

علم کو اس کے پیچھے محفوظ کیا۔

اور وقت کا انتظار کیا۔

تقریباً پندرہ سال بعد وقت نے خود وہ دیوار گرا دی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے