پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کورونا سے متعلق عالمی ادارہ صحت کے تحفظات کو جائز قرار دیا ہے۔
ٹوئٹر پر جاری بیان میں بلاول بھٹو نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے سندھ حکومت کو بھیجے گئے خط میں جائز تحفظات اور تجاویز پیش کی ہیں، اس سب کو عوامی سطح پر لانے سے قبل سندھ حکومت اس پر غور کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ نے ہمیشہ حقائق اور استعداد کے مطابق قومی پالیسی بنانے پر زور دیا ہے، بدقسمتی سے کورونا وائرس کے معاملے میں قومی سطح کی حکمت عملی اختیار نہیں کی گئی۔
WHO letter to Sindh government raises valid concerns & suggestions. Will be discussed by Sindh govt before being taken up at national level. We’ve long called for national policy to be linked to facts & our own capacity. Unfortunately so far this hasn’t been national approach.
— BilawalBhuttoZardari (@BBhuttoZardari) June 9, 2020
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں کورونا سے متعلق صوبائی حکومتوں کو خط بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہےکہ پاکستان نے لاک ڈاؤن میں نرمی سے پہلے 6 اقدامات میں سے ایک بھی اقدام پر مکمل عمل نہیں کیا، لاک ڈاؤن کھولنے سے پہلے جو اقدامات کرنے تھے پاکستان نے ایک بھی مناسب طورپر نہیں کیا۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق مشتبہ مریضوں کو ڈھونڈنا ، ٹیسٹ کرنا ، آئسولیٹ کرنا اور انہیں قرنطینہ کرنا اور ان کے رابطوں میں آنے والوں کو ڈھونڈنے کا نظام پاکستان میں بہت کمزور ہے، وینٹی لیٹرز کی تعداد بھی انتہائی کم ہے، پاکستان کی آبادی اپنا طرز زندگی بدلنے پر آمادہ نظر نہيں آتی جیسا کہ سماجی فاصلہ، ہاتھ دھونا اور احتیاطی تدابیر۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق پاکستان دنیا کے ان 10 ملکوں میں شامل ہے جن میں نئے کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے، پاکستان کو اپنی ٹیسٹنگ صلاحیت کو 50 ہزار یومیہ تک بڑھانا نہایت ضروری ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جب کہ 2 ہزار 189 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
سندھ میں کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور 696 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔